الشيخ مصطفى الهجري
ہر سال جب ماہِ محرم الحرام کا آغاز ہوتا ہے تو اسلامی دنیا غم اور سوگواری کی فضا میں ڈوب جاتی ہے۔ سیاہ پرچم بلند ہوتے ہیں، مجالسِ عزا منعقد ہوتی ہیں، اور بڑی تعداد میں عزادار و سامعین حضرت اباعبد اللہ امام حسین علیہ السلام کے غم میں اشک بار نظر آتے ہیں۔ یہ عظیم اور پرشکوہ منظر بہت سے لوگوں، خصوصاً نوجوانوں اور نئی نسل کے ذہنوں میں متعدد فکری اور علمی سوالات پیدا کرتا ہے، جو ان مظاہر کے پس منظر اور ان کے حقیقی فلسفے کو سمجھنے کے خواہاں ہوتے ہیں۔
چنانچہ یہ سوالات سامنے آتے ہیں کہ آخر تیرہ صدیوں سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود اس تاریخی واقعے کو زندہ رکھنے پر اتنا اصرار کیوں کیا جاتا ہے؟ صرف علمی تحقیق، فکری مطالعہ اور علمی سیمیناروں پر اکتفا کیوں نہیں کیا جاتا؟ اور مجالسِ عزا کے ساتھ ظالموں اور دشمنانِ اھل بیت سے براءت اور ان پر لعنت کا اظہار کیوں لازم سمجھا جاتا ہے؟ یہ ایسے بنیادی سوالات ہیں جن کا جواب صرف تاریخ کے مطالعے میں نہیں، بلکہ عاشورا کے پیغام، اس کے اعتقادی، اخلاقی اور تمدنی اثرات، اور اسلامی امت کی فکری و عملی زندگی میں اس کے دائمی کردار کو سمجھنے میں پوشیدہ ہے۔
اولاً: واقعۂ عاشورا کو ہمیشہ زندہ رکھنا کیوں ضروری ہے؟
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ واقعۂ کربلا ایک تاریخی سانحہ تھا جو پیش آیا اور وقت گزرنے کے ساتھ اس کے اثرات بھی ختم ہو گئے، لیکن عقلی، سماجی اور تاریخی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو عظیم تاریخی واقعات صرف اپنے زمانے تک محدود نہیں رہتے بلکہ اقوام کی تقدیر اور مستقبل پر دیرپا اثرات مرتب کرتے ہیں۔ اسی بنا پر عاشورا کی یاد کو زندہ رکھنا اور ہر سال اس کی تجدید کرنا محض ایک تاریخی روایت نہیں، بلکہ اس کے دائمی دروس کو اپنے زمانے کی حالات پر منطبق کرنے کا ایک شعوری عمل ہے، تاکہ معاشرہ اپنی دینی اور دنیاوی زندگی میں ان سے رہنمائی حاصل کر سکے۔
یہی وہ اسلوب ہے جسے قرآنِ کریم نے بھی اختیار کیا ہے۔ قرآن گزشتہ اقوام اور انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات اس لیے بیان کرتا ہے کہ ان میں پوشیدہ عبرتوں، مواقف اور ہدایات سے انسان رہنمائی حاصل کرے۔ ان قصص میں انبیاء اور ان کے اوصیاء حق کے علمبردار کے طور پر سامنے آتے ہیں، تاکہ آنے والی نسلیں حق و باطل کی کشمکش میں صحیح راستہ اختیار کر سکیں۔
حضرت امام حسین علیہ السلام کی تحریک بھی کسی ایک زمانے یا ایک معاشرے تک محدود نہیں، بلکہ ہر دور اور ہر قوم کے لیے ایک زندہ اور تازہ حقیقت ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کربلا ظالم اور فاسد حکومتوں کے پیدا کردہ سیاسی، سماجی اور اخلاقی انحرافات کی سب سے واضح اور جامع تصویر پیش کرتی ہے، اور ساتھ ہی یہ بھی بتاتی ہے کہ ایسے حالات میں ایک باشعور اور ذمہ دار انسان کا اجتماعی اور دینی موقف کیا ہونا چاہیے۔
امام حسین علیہ السلام کے اس تحریک کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ معاشروں کے ایک نہایت پیچیدہ بحران، یعنی حق اور باطل کے باہمی اشتباہ اور عوام کے لیے حقیقت کے دھندلا جانے کے مسئلے کو حل کرتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ظالم اور فاسد حکومتیں کبھی اپنے ظلم اور فساد کا کھلے عام اعلان نہیں کرتیں، بلکہ وہ اپنی سیاسی، مذہبی اور ابلاغی قوتوں کو استعمال کرتے ہوئے اپنے لیے ایک مصنوعی جواز اور جھوٹی مشروعیت پیدا کرتی ہیں، تاکہ اپنے جرائم اور بداعمالیوں کو خوش نما نعروں کے پردے میں چھپا سکیں۔ کبھی یہ سب کچھ "امن و امان کے تحفظ" کے نام پر کیا جاتا ہے، کبھی "سیاسی مصلحت" کا عنوان اختیار کیا جاتا ہے، اور کبھی لوگوں کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ "حاکم کی اطاعت ہر حال میں واجب ہے، خواہ وہ ظلم و جابر ہی کیوں نہ کرے۔
ایسے حالات میں واقعۂ کربلا ایک دائمی معیار اور میزان کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے، جو حق اور باطل کے درمیان حدِ فاصل قائم کرتا ہے، اور انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ ظاہری طاقت، حکومتی اقتدار یا مذہبی پروپیگنڈا کسی باطل کو حق میں تبدیل نہیں کر سکتا، بلکہ حق وہی ہے جو عدل، صداقت، آزادی، انسانی کرامت اور رضائے الٰہی کے ساتھ ہم آہنگ ہو، اور باطل وہی ہے جو ظلم، استبداد پر قائم ہو اور دین کو اقتدار کے مفادات کے تابع بنا دے۔یہ فکری اور بصری فریب، جس کے ذریعے مفسدین اپنے آپ کو مصلح بنا کر پیش کرتے ہیں، قرآنِ کریم نے اس کی طرف توجہ دلائی ہے۔ چنانچہ سورۂ بقرہ کی آیات (11-12) میں ارشاد ہوتا ہے:
﴿وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ قَالُوا إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ * أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُونَ وَلَٰكِن لَّا يَشْعُرُونَ﴾
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ پھیلاؤ تو کہتے ہیں: ہم تو صرف اصلاح کرنے والے ہیں۔ خبردار! یقیناً یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں، لیکن انہیں شعور نہیں۔
معاشرے میں منظم گمراہی اور فکری دھوکے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اسی اجتماعی بے شعوری کے مقابلے میں ایک ایسے معصوم اور خطا سے پاک معیار کی ضرورت پیش آتی ہے جس میں کسی شک و شبہے کی گنجائش نہ ہو۔ اور چونکہ حضرت امام حسین علیہ السلام ایک معصوم امام ہیں، اس لیے ان کی سیرت، ان کا کردار اور ان کا موقف ایک الٰہی میزان اور دائمی رہنما اصول کی حیثیت رکھتے ہیں، جو حسن اور قبح، حق اور باطل، اور عدل و ظلم کے درمیان واضح امتیاز قائم کرتے ہیں اور ظالم حکومتوں کے خود ساختہ جوازوں اور فریب کارانہ تاویلات کا پردہ چاک کرتے ہیں۔
امام حسین علیہ السلام نے حق و باطل کے درمیان ایک ایسی حدِ فاصل قائم کر دی جو زمان و مکان کی قید سے آزاد ہے، جب آپ نے فرمایا: (مثلي لا يبايع مثله) "میرے جیسا شخص اس جیسے شخص کی بیعت نہیں کر سکتا۔"
یہ ایک تاریخی اعلان سے بڑھ کر ایک ابدی اصول بن گیا ہے کہ حق، باطل کے سامنے سرِ تسلیم خم نہیں کرسکتا، خواہ باطل کے پاس اقتدار اور قوت ہی کیوں نہ ہو۔ اسی حقیقت کو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے متعدد احادیث میں واضح فرمایا ہے۔ آپؐ کا ارشاد ہے: (الحَسَنُ وَالحُسَيْنُ إمامان إن قاما وإن قعدا) یعنی، حسن اور حسین دونوں امام ہیں، خواہ قیام کریں یا سکوت اختیار کریں۔
اسی طرح ایک اور مشہور حدیث میں فرمایا: (إنَّ الحُسَيْنَ مِصْبَاحُ الهُدَى وَسَفِينَةُ النَّجَاةِ) یعنی: بے شک حسین ہدایت کا چراغ اور نجات کی کشتی ہیں۔
چنانچہ امام حسین علیہ السلام صرف ایک عظیم تاریخی شخصیت نہیں، بلکہ ایک ایسے امام اور الٰہی رہنما ہیں جن کی اقتدا کی جاتی ہے، اور جن کا نور ہر دور میں حق و باطل کے اشتباہ، فکری گمراہی اور باطل کے پروپیگنڈے کی تاریکیوں کو چیر کر انسانیت کو صحیح راستہ دکھاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ واقعۂ عاشورا کو زندہ رکھنا درحقیقت اس الٰہی معیارِ حق کو زندہ رکھنا ہے، تاکہ ہر زمانے میں انسان ظاہری نعروں، سیاسی مصلحتوں اور مذہبی فریب کاریوں کے بجائے حق کی حقیقی پہچان حاصل کر سکے۔
ثانیاً: صرف علمی بحث و مباحثہ ہی کافی کیوں نہیں؟ (جذبات اور آنسوؤں کا فلسفہ)
بعض نوجوان یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا مجالسِ عزا، ماتم اور گریہ و زاری کو علمی نشستوں اور فکری مقالات کے ساتھ بدلنا ممکن نہیں، تاکہ معاشی نقصانات یا غم انگیز مناظر میں کمی لائی جا سکے؟ اس کا علمی اور نفسیاتی جواب انسانی رویّوں کے محرکات کے تجزیے میں پوشیدہ ہے۔ انسان اپنی زندگی، تعلقات اور سیاسی و سماجی موقف میں صرف فکری معرفت کی بنیاد پر حرکت نہیں کرتا۔
علم کو ایک ایسی گاڑی کے چراغ سے تشبیہ دی جا سکتی ہے جو راستہ دکھاتا ہے اور گڑھوں سے بچاتا ہے، لیکن یہ چراغ خود گاڑی کو حرکت دینے کی طاقت نہیں رکھتا۔ انسان میں اصل محرک قوت اس کے جذبات، احساسات اور باطنی نفسی میلان ہوتے ہیں۔ علمی نشستیں اور خطابات ہمیں معرفت عطا کرتے ہیں، لیکن مجالسِ عزا، دردناک مرثیے، آنسوؤں کا بہنا اور سیاہ پرچم و ماحول وہ عناصر ہیں جو جذبات کو بیدار کرتے ہیں اور احساسات کو پروان چڑھاتے ہیں، جس سے قربانی، ایثار اور ظلم کے مقابلے میں کھڑے ہونے کا عملی جذبہ پیدا ہوتا ہے، جیسا کہ امام حسین علیہ السلام کے پیغام میں دیکھا جاتا ہے۔
قرآنِ کریم اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ حسی مشاہدہ انسانی جذبات کو متحرک کرنے میں ایسا اثر رکھتا ہے جو محض علمی معرفت کے ذریعے حاصل نہیں ہوتا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعے میں جب وہ کوہِ طور پر تھے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں خبر دی کہ ان کی قوم نے ان کے بعد بچھڑے کو معبود بنا لیا ہے۔ اس بات کا انہیں یقینی علم حاصل ہو گیا تھا جس میں کسی شک کی گنجائش نہ تھی، لیکن وہ شدید غصے اور جذباتی ردعمل کا اظہار اس وقت تک نہ کر سکے جب تک انہوں نے اس منظر کو اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ سورۂ اعراف کی آیت 150 میں ارشاد فرماتا ہے:
﴿وَلَمَّا رَجَعَ مُوسَىٰ إِلَىٰ قَوْمِهِ غَضْبَانَ أَسِفًا قَالَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُونِي مِن بَعْدِي ۖ أَعَجِلْتُمْ أَمْرَ رَبِّكُمْ ۖ وَأَلْقَى الْأَلْوَاحَ وَأَخَذَ بِرَأْسِ أَخِيهِ يَجُرُّهُ إِلَيْهِ﴾
اور جب موسیٰ اپنی قوم کی طرف واپس آئے تو وہ غصے اور رنج میں بھرے ہوئے تھے، انہوں نے کہا: تم نے میرے بعد میری کتنی بری جانشینی کی! کیا تم نے اپنے رب کے حکم سے پہلے ہی جلدی کر دی؟ اور انہوں نے تختیاں پھینک دیں اور اپنے بھائی کے سر کو پکڑ کر اپنی طرف کھینچنے لگے۔
اس لیے واقعۂ عاشورا کو مجالس اور عزائی مظاہر کے ذریعے زندہ رکھنے کا مقصد یہ ہے کہ اس دردناک منظر اور مظلومیت کی کیفیت کو اس انداز سے پیش کیا جائے جو براہِ راست انسانی جذبات کو متاثر کرے، تاکہ فکر ایک متحرک عقیدے میں تبدیل ہو جائے اور ایسا جوش و جذبہ پیدا ہو جو عملی طور پر انحراف اور فساد کو قبول کرنے سے انکار کرے۔
ثالثاً: عاشورا میں ’’تبری‘‘ اور انکار (رفض) کی ثقافت کے پہلو:
بعض لوگ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ بعض ’’مستغربین‘‘ کی طرف سے زیارتِ عاشورا میں وارد لعنت اور امام حسین علیہ السلام کے دشمنوں سے براءت کے فقروں پر اعتراض کیا جاتا ہے، اور یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ منفی جذبات یا تشدد کو فروغ دیتے ہیں، اس لیے ان کی جگہ سلام اور مسکراہٹ کو اپنانا چاہیے۔
اس کا علمی جواب یہ ہے کہ انسانی فطرت کو صرف مثبت جذبات جیسے محبت اور خوشی پر ہی نہیں بنایا گیا، بلکہ اس میں منفی جذبات جیسے نفرت اور دشمنی بھی شامل کیے گئے ہیں، تاکہ انہیں صحیح مواقع پر استعمال کیا جا سکے۔ اللہ کے دشمنوں اور انسانیت پر ظلم کرنے والوں سے بغض اور انکار دراصل روح اور معاشرے کا ’’دفاعی نظام‘‘ ہے، بالکل اسی طرح جیسے جسمانی نظام میں سفید خون کے خلیے جراثیم اور زہریلے مادّوں کے خلاف متحرک ہو کر انہیں ختم کرتے ہیں تاکہ جسم زندہ اور محفوظ رہ سکے۔ جو دشمن دین، شناخت اور اقدار کو مسخ کرنے اور فساد کو جائز قرار دینے کی کوشش کرتا ہے، اس کے ساتھ نرمی یا مصالحت کرنا ممکن نہیں ہوتا، کیونکہ اس کے ساتھ قربت اور ہم آہنگی آہستہ آہستہ انسان کو اس کے طرزِ عمل سے متاثر کر کے انحراف کو قبول کرنے پر آمادہ کر دیتی ہے۔اسی لیے اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں شیطان اور اس کے پیروکاروں کو دشمن قرار دینے کا حکم دیا ہے، جیسا کہ سورۂ فاطر کی آیت 6 میں ارشاد ہوتا ہے: ﴿إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوهُ عَدُوًّا﴾ بے شک شیطان تمہارا دشمن ہے، پس تم بھی اسے دشمن ہی سمجھو۔
جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں انبیائے کرام کے ذریعے گمراہ اور طاغوتی اور فاسد معاشروں سے براءت کی ایک بہترین مثال عطا فرمائی ہے، چنانچہ سورۂ ممتحنہ کی آیت 4 میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے:
﴿قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِي إِبْرَاهِيمَ وَالَّذِينَ مَعَهُ إِذْ قَالُوا لِقَوْمِهِمْ إِنَّا بُرَآءُ مِنكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ كَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَاءُ أَبَدًا حَتَّىٰ تُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَحْدَهُ﴾
تمہارے لیے حضرت ابراہیم اور ان کے ساتھیوں میں بہترین نمونہ ہے، جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا: ہم تم سے اور ان چیزوں سے جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، بیزار ہیں۔ ہم تمہارے منکر ہیں، اور ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لیے دشمنی اور بغض ظاہر ہو چکا ہے، یہاں تک کہ تم اللہ واحد پر ایمان لے آؤ۔
اس سے واضح ہوتا ہے کہ اسلامی تعلیمات میں دین کے فروعات صرف “تولّی” یعنی اللہ کے اولیاء سے محبت اور ان کی پیروی تک محدود نہیں، بلکہ اس کے ساتھ “تبرّی” یعنی اللہ کے دشمنوں سے بیزاری اور ان کے ظلم و انحراف کے خلاف کھلا موقف بھی ضروری ہے۔ قرآنِ کریم بھی اہل ایمان کی صفات کو بیان کرتے ہوئے سورۂ فتح کی آیت 29 میں فرماتا ہے: ﴿أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ﴾ ۔وہ کفار کے مقابلے میں سخت ہیں اور آپس میں رحم دل ہیں۔
یعنی اہل ایمان کا کردار یہ ہے کہ وہ اندرونی طور پر باہمی محبت و رحمت کے حامل ہوتے ہیں، لیکن فکری، اعتقادی اور اصولی سطح پر ظلم، انحراف اور باطل کے مقابلے میں مضبوط اور غیر لچکدار موقف رکھتے ہیں، تاکہ امت کا دینی تشخص محفوظ رہے۔اسی بنیاد پر امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے: ﴿وَ هَلِ الْإِيمَانُ إِلَّا الْحُبُّ وَ الْبُغْضُ﴾ کیا ایمان صرف محبت اور نفرت کے سوا کچھ ہے؟ پھر آپؑ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی: ﴿حَبَّبَ إِلَيْكُمُ الْإِيمَانَ وَزَيَّنَهُ فِي قُلُوبِكُمْ وَكَرَّهَ إِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ أُولَئِكَ هُمُ الرَّاشِدُونَ﴾ (الكافي: ج3، ص324)
یعنی ایمان کی حقیقت صرف مثبت جذبات نہیں، بلکہ ایک ایسی فکری اور اخلاقی ساخت ہے جس میں حق سے محبت اور باطل سے نفرت دونوں شامل ہیں، اور یہی توازن انسان کو حقیقی ہدایت اور رشد کی طرف لے جاتا ہے۔
سید الشہداء (علیہ السلام) کی یاد کو زندہ رکھنا دراصل حسینی پاکیزہ زندگی کی ازسرِ نو تشکیل ہے، اور یہ ہر دور میں فکری گمراہی اور حکومتی فساد کے خلاف ایک مسلسل انقلاب ہے۔ ہم مجالسِ عاشورا میں فکری شعور اور پرجوش جذبات کو یکجا کرتے ہیں، امام حسین علیہ السلام ، جو معصوم ہیں اور حق نما اور رہمنا کی حیثیت رکھتے ہیں ، کو ہزاروں سلام و تحیات پیش کرتے ہیں، اور اسی کے ساتھ ہر ظالم اور مفسد کے خلاف ہزاروں مرتبہ لعنت، انکار اور براءت کا اظہار کرتے ہیں جو اس دین کو مسخ کرنے اور انسان کی عزت و ثروت چھیننے کی کوشش کرتا ہے۔