واپس
کیا اللہ معرفت کا ایک موضوع ہے، یا ہر معرفت کی اصل؟

کیا اللہ معرفت کا ایک موضوع ہے، یا ہر معرفت کی اصل؟

قرآنی نقطۂ نظر میں اللہ تعالیٰ اس معنی میں معرفت کا موضوع نہیں جس معنی میں دیگر اشیاء معرفت کا موضوع بنتی ہیں، بلکہ وہ ہر معرفت کی اصل اور وہ حقیقت ہے جس کے ذریعے تمام اشیاء جانی اور پہچانی جاتی ہیں۔

شیخ معتصم السید احمد

دین اور ایمان کے بارے میں ہونے والی بہت سی جدید بحثیں ایک ایسے مفروضے سے آغاز کرتی ہیں جس پر عموماً توجہ ہی نہیں دی جاتی، حالانکہ یہی مفروضہ پوری بحث کی سمت اور اس کے حتمی نتائج کا تعین کرتا ہے۔ مفروضہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو بھی دیگر تمام اشیاء کی طرح’’معرفت کا ایک موضوع‘‘سمجھا جائے۔ یعنی جس طرح انسان مادّہ، فطرت، تاریخ اور خود انسان کا مطالعہ کرتا ہے، بعض فلسفی یہ فرض کرتے ہیں کہ اللہ کا مطالعہ بھی اسی طریقے سے ہونا چاہیے، اور اسے بھی انہی عقلی و فکری اصولوں اور طریقۂ کار کے تابع قرار دینا چاہیے جن کے تحت دیگر تمام اشیاء کو پرکھا جاتا ہے۔ اسی بنیاد پر متعدد سوالات جنم لیتے ہیں، مثلاً: کیا اللہ کی تعریف کی جا سکتی ہے؟ کیا اس کا تصور قائم کیا جا سکتا ہے؟ کیا اس کے بارے میں ایک واضح ذہنی مفہوم تشکیل دیا جا سکتا ہے؟ اور اگر وہ زمان و مکان، حدود اور انسانی صفات سے ماورا و منزّہ ہے، تو کیا پھر اس کے بارے میں گفتگو کرنا بھی کوئی بامعنی امر رہ جاتا ہے؟ اور بظاہر یہ طرزِ فکر پہلی نظر میں نہایت بدیہی اور معقول معلوم ہوتا ہے، لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ ممکن ہے خود یہ سوال ہی ایک غلط مفروضے پر قائم ہو۔ اس لیے اس سے پہلے کہ ہم یہ پوچھیں: "ہم اللہ کو کیسے جان سکتے ہیں؟" ہمیں پہلے یہ سوال اٹھانا چاہیے کہ: کیا اللہ کی معرفت بھی حقیقتاً اسی نوع کی معرفت ہے جس نوع کی معرفت ہمیں دیگر اشیاء کے بارے میں حاصل ہوتی ہے؟

انسان جب کسی شے کو جانتا ہے تو اس کا ایک تصور اپنے ذہن میں قائم کر لیتا ہے۔ عقل چیزوں کو سمجھنے کے لیے انہیں ایک دوسرے سے الگ کرتی ہے، ان کی حدود متعین کرتی ہے اور ان میں فرق کرتی ہے۔ اسی لیے کسی چیز کے عقل کے لیے قابلِ فہم ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایسی حدود میں ہو جنہیں عقل سمجھ سکے، ان کی نشاندہی کر سکے یا دوسری چیزوں سے ان کا موازنہ کر سکے۔ معرفت کا یہ طریقہ اُن محدود موجودات کے بارے میں کامیاب رہتا ہے جن میں ایسی مشترک خصوصیات اور باہمی تعلقات پائے جاتے ہیں جنہیں عقل دیکھ، سمجھ اور درجہ بندی کر سکتی ہے۔

لیکن جب گفتگو اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کے بارے میں ہو، تو معاملہ بنیادی طور پر مختلف ہو جاتا ہے۔ اللہ نہ تو کائنات کا کوئی جز ہے کہ اس پر وہی قوانین لاگو ہوں جو کائنات کے اجزاء پر نافذ ہوتے ہیں، اور نہ ہی وہ موجودات کے سلسلے میں شامل کوئی موجود ہے کہ اس کے ساتھ دیگر موجودات جیسا برتاؤ کیا جائے۔ وہ وجود کی اصل ہے، اس کا ایک فرد نہیں؛ حقیقت کا سرچشمہ ہے، اس کی کوئی حالت نہیں؛ اور وہی قیّوم ہے جس کے سہارے ہر چیز اپنے وجود میں قائم ہے، جبکہ وہ خود کسی چیز کا محتاج نہیں۔

یہیں سے جدید فلسفیانہ نظریات کی اصل خامی واضح ہوتی ہے۔ ان کے نزدیک اللہ تعالیٰ بھی دوسری اشیاء کی طرح ایک ایسا موضوع ہے جسے عقل مکمل طور پر سمجھ سکتی ہے، اس کی حقیقت جان سکتی ہے اور اس کا احاطہ کر سکتی ہے۔ لیکن جب عقل ایسا کرنے میں ناکام رہتی ہے، تو وہ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں گفتگو بے معنی یا مبہم ہے۔ لیکن اس نتیجے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ دین اللہ تعالیٰ کے بارے میں گفتگو کرنے سے عاجز ہے، بلکہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ جو طریقۂ کار اختیار کیا گیا ہے، وہ ایسی حقیقت کو سمجھنے سے قاصر ہے جو اس کی فطری حدود سے ماورا ہے۔ یعنی اصل کمی دین میں نہیں، بلکہ اس محدود منہج میں ہے جو ہر حقیقت کو انہی پیمانوں سے جانچنا چاہتا ہے جو صرف محدود اشیاء کے لیے موزوں ہیں۔

انسان اپنی روزمرہ زندگی میں بہت سی حقیقتوں کا ادراک کرتا ہے، حالانکہ وہ انہیں کسی مکمل ذہنی یا فلسفیانہ تصور میں نہیں سمو سکتا۔ مثال کے طور پر، انسان اپنے وجود کا شعور اس سے پہلے رکھتا ہے کہ وہ ''ذات'' کی کوئی فلسفیانہ تعریف جانتا ہو۔ اسی طرح وہ شعور کی حقیقت کا ادراک رکھتا ہے، اگرچہ اس کی کوئی آخری اور جامع توجیہ پیش نہیں کر سکتا۔ وہ اسی عقل سے بھی واقف ہے جس کے ذریعے وہ سوچتا ہے، لیکن اسے اپنے سامنے کسی خارجی شے کی طرح رکھ کر ہر پہلو سے اس کا احاطہ نہیں کر سکتا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ کسی حقیقت کا ادراک ہمیشہ اس کے مکمل مفہومی احاطے پر موقوف نہیں ہوتا۔ بلکہ انسان بہت سی حقیقتوں کو پہلے براہِ راست جانتا اور ان کے ساتھ زندگی گزارتا ہے، پھر بعد میں انہیں الفاظ اور مفاہیم کا قالب دیتا ہے۔

اگر بعض مخلوقات کے بارے میں بھی یہی صورتِ حال ہے، تو پھر ہم یہ کیوں فرض کر لیں کہ اللہ تعالیٰ کی معرفت اسی وقت ممکن ہوگی جب اسے ایک محدود عقلی تصور میں ڈھال دیا جائے؟ یعنی اگر انسان بہت سی حقیقتوں کو ان کا مکمل مفہومی احاطہ کیے بغیر جان سکتا ہے، تو اللہ تعالیٰ کی معرفت کو صرف اسی شرط سے کیوں وابستہ کیا جائے کہ اس کی ذات عقل کے محدود تصورات میں پوری طرح سمٹ آئے؟

قرآنِ کریم اس معاملے میں بالکل مختلف زاویۂ نظر پیش کرتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کو ایسی مطلقاً مجہول حقیقت کے طور پر پیش نہیں کرتا جسے تلاش کرکے دریافت کرنا ہو، بلکہ ایسی حقیقت کے طور پر متعارف کراتا ہے جو انسان سے سب سے زیادہ قریب اور اس کے وجود میں سب سے زیادہ حاضر ہے۔ اسی لیے قرآن کا منہج کسی غائب حقیقت کی تلاش نہیں، بلکہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے جو پہلے سے موجود ہے۔ چنانچہ اس کی آیات میں ذکر، تذکرہ اور تذکیر جیسے الفاظ بار بار آتے ہیں، گویا مسئلہ حقیقت کے غائب ہونے کا نہیں، بلکہ انسان کے اس سے غافل ہو جانے کا ہے۔

جب قرآنِ کریم انبیاء علیہم السلام کے منصب کو بیان کرتا ہے تو انہیں کسی ایسی نامعلوم حقیقت کے دریافت کنندگان کے طور پر پیش نہیں کرتا، بلکہ انہیں انسانی شعور کو بیدار کرنے والے اور انسان کی فطرت میں اللہ تعالیٰ کی جو معرفت ودیعت کی گئی ہے، اس کی یاد تازہ کرانے والے قرار دیتا ہے۔ یہی مفہوم امیرالمؤمنین علیہ السلام کے اس فرمان میں نمایاں ہوتا ہے کہ انبیاء علیہم السلام اس لیے مبعوث ہوئے تاکہ لوگوں سے ان کی فطرت کا عہد پورا کرائیں اور ان کے لیے عقلوں کے پوشیدہ خزانے بیدار کریں۔ یعنی انبیاء کوئی نئی حقیقت پیدا نہیں کرتے، بلکہ انسان کے اندر پہلے سے موجود حق شناسی کو بیدار کرتے ہیں۔

اسی بنیاد پر اللہ تعالیٰ کی معرفت، مطلق جہالت سے مطلق علم کی طرف سفر کا نام نہیں، بلکہ غفلت سے بیداری اور یاد دہانی کی طرف، حجاب سے انکشاف کی طرف، اور ظاہری مظاہر میں کھو جانے سے اس بنیادی حقیقت کی طرف متوجہ ہونے کا نام ہے جس پر یہ تمام مظاہر قائم ہیں۔ یعنی معرفتِ الٰہی کسی نئی چیز کے حصول سے زیادہ، اس حقیقت کو دوبارہ پہچاننے کا نام ہے جو ہمیشہ سے انسان کے وجود کے قریب موجود رہی ہے۔

اسی وجہ سے کائنات کی نشانیاں بھی اللہ تعالیٰ پر اس معنی میں دلیل نہیں ہیں جو عام طور پر سمجھا جاتا ہے، گویا وہ خود مستقل حقیقتیں ہوں جو اپنے پیچھے کسی نامعلوم حقیقت کا پتا دیتی ہوں۔ بلکہ ان کا اصل کام انسان کے اندر موجود اللہ تعالیٰ کی فطری معرفت کو بیدار کرنا ہے۔ یعنی یہ آیات انسان کو کوئی نئی معرفت نہیں دیتیں، بلکہ اس کے دل و فطرت میں پہلے سے موجود معرفت کو جگا دیتی ہیں۔ اس لیے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کائنات اللہ کو ظاہر کرتی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ تو خود کائنات سے بھی زیادہ ظاہر ہے؛ البتہ کائنات انسان کے اندر اس ظہور کو دیکھنے اور محسوس کرنے کی صلاحیت کو بیدار کر دیتی ہے۔

اس حقیقت کو نہایت حسین انداز میں امام حسین علیہ السلام نے دعائے عرفہ میں بیان فرمایا ہے: مَتَى غِبْتَ حَتَّى تَحْتَاجَ إِلَى دَلِيلٍ يَدُلُّ عَلَيْكَ؟ وَمَتَى بَعُدْتَ حَتَّى تَكُونَ الْآثَارُ هِيَ الَّتِي تُوصِلُ إِلَيْكَ؟  یعنی: تو کب غائب ہوا تھا کہ تجھے ثابت کرنے کے لیے کسی دلیل کی ضرورت پیش آئے؟ اور تو کب دور ہوا تھا کہ تیری مخلوقات اور آثار ہی انسان کو تیری طرف پہنچانے کا ذریعہ بنیں؟

یہ کلمات صرف ایک وجدانی کیفیت کا اظہار نہیں، بلکہ اپنے اندر نہایت گہری معرفتی بصیرت بھی رکھتے ہیں۔ کیونکہ عام طور پر دلیل اپنے مدلول سے زیادہ واضح ہوتی ہے، اور کسی چیز کا تعارف کرانے والی شے خود اس چیز سے زیادہ ظاہر ہوتی ہے۔ لیکن اگر اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کے ظہور کا سرچشمہ ہے، تو پھر اس کے سوا کوئی چیز اس سے زیادہ ظاہر کیسے ہو سکتی ہے کہ وہ اللہ کا تعارف کرائے؟ یعنی جو ذات ہر ظہور کی بنیاد ہے، وہ خود کسی اور کے ذریعے ظاہر ہونے کی محتاج نہیں ہو سکتی۔

دین کے بارے میں جدید دور کے بہت سے مباحث دراصل اسی بنیادی حقیقت کو الٹ دینے کی کوشش کا نتیجہ ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کو ہر ظہور کی اصل ماننے کے بجائے ایک ایسے موضوع کے طور پر دیکھا جاتا ہے جسے کسی اور چیز کے ذریعے ثابت یا ظاہر کیا جائے، اور تمام معرفت کی بنیاد سمجھنے کے بجائے اسے ایک ایسے دعوے کی حیثیت دے دی جاتی ہے جو اپنے باہر سے دلیل کا محتاج ہو۔ حالانکہ دینی نقطۂ نظر میں اللہ تعالیٰ وہ حقیقت ہے جس کے نور میں ہر دوسری حقیقت پہچانی جاتی ہے، نہ کہ وہ حقیقت جو خود کسی اور کے نور سے پہچانی جائے۔

یہیں عقل ایک عجیب فکری تضاد کا شکار ہو جاتی ہے؛ کیونکہ وہ جس چیز کو اصل پر موقوف اور اس کی فرع ہونا چاہیے، اسے اصل بنا دیتی ہے، اور جو حقیقت اپنے وجود میں اللہ تعالیٰ پر قائم ہے، اسے خود اپنے بل بوتے پر قائم فرض کر لیتی ہے، پھر اسی سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا تعارف کرائے۔ یوں وہ سبب اور مسبب، اصل اور فرع کے تعلق کو الٹ دیتی ہے، اور اسی الٹاؤ سے اشکالات جنم لیتے ہیں۔

اصل مسئلہ یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ اتنا بلند و برتر ہے کہ اسے جانا ہی نہیں جا سکتا، اور نہ ہی یہ کہ اللہ کی پاکیزگی اور بے مثالی کے عقیدے نے اس کے تصور کو بے معنی بنا دیا ہے، جیسا کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ آج کے بعض فکری نظریات صرف اسی چیز کو قابلِ معرفت مانتے ہیں جسے ذہن میں ایک واضح تصور یا تعریف کی صورت میں لایا جا سکے۔ اس لیے جو حقیقت انسانی تصور اور تعریف سے بلند ہو، اسے وہ یا تو مبہم سمجھتے ہیں یا ناقابلِ معرفت قرار دے دیتے ہیں۔ حالانکہ ہر حقیقت کو جاننے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ اسے مکمل طور پر کسی محدود ذہنی تصور یا تعریف میں سمویا جا سکے۔

حقیقت یہ ہے کہ کسی چیز کا مکمل احاطہ نہ کر سکنا، اس کی معرفت نہ ہونے کے مترادف نہیں۔ انسان کسی حقیقت کو جانے بغیر اس کا مکمل احاطہ نہیں کر سکتا، وہ ادراک تو حاصل کر سکتا ہے لیکن اس کی پوری حقیقت کا استیعاب ضروری نہیں، اور وہ کسی حقیقت کا مشاہدہ بھی کر سکتا ہے، خواہ اسے ایک محدود ذہنی تصور میں نہ ڈھال سکے۔ یعنی معرفت ہمیشہ احاطۂ کامل کی محتاج نہیں ہوتی۔

اسی لیے اسلامی نقطۂ نظر میں اللہ تعالیٰ کو ہر نقص، کمی، حد اور مخلوق سے مشابہت سے پاک ماننا، اس کی معرفت میں رکاوٹ نہیں بلکہ صحیح معرفت کی پہلی شرط ہے۔ انسان جتنا اللہ تعالیٰ کو مخلوقات سے بلند اور بے مثال سمجھتا ہے، اتنا ہی اس پر یہ حقیقت واضح ہوتی جاتی ہے کہ اللہ نہ کائنات کی دوسری چیزوں کی طرح کوئی چیز ہے، نہ ایسا موضوع جسے عقل دوسری اشیاء کی طرح مکمل طور پر سمجھ سکے۔ بلکہ وہی ذات ہے جس کے سہارے پوری کائنات قائم ہے، اور اسی کے نور سے ہر چیز اپنا وجود، اپنی حقیقت اور اپنا معنی حاصل کرتی ہے۔

شاید آج سب سے گہرا سوال یہ نہیں کہ  کیا ہم اپنے محدود ذہنی تصورات کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا مکمل احاطہ کر سکتے ہیں؟ بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ  آخر ہم یہ مفروضہ کیوں قائم کر لیتے ہیں کہ حقیقتِ مطلقہ اسی وقت قابلِ معرفت ہوگی جب وہ ہمارے محدود مفاہیم کے اندر سمٹ جائے؟ یعنی کیا کسی حقیقت کے معلوم ہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ عقل کی تمام حدود میں قید ہو جائے؟

قرآنی نقطۂ نظر میں اللہ تعالیٰ اس معنی میں معرفت کا موضوع نہیں جس معنی میں دیگر اشیاء معرفت کا موضوع بنتی ہیں، بلکہ وہ ہر معرفت کی اصل اور وہ حقیقت ہے جس کے ذریعے تمام اشیاء جانی اور پہچانی جاتی ہیں۔ جب انسان اس حقیقت کو سمجھ لیتا ہے تو اس کی کوشش یہ نہیں رہتی کہ اللہ تعالیٰ کو عقل کی محدود حدود میں محصور کر لے، بلکہ وہ اپنے ہی عقل و شعور کو ان وہموں اور پردوں سے آزاد کرنے کی کوشش کرتا ہے جو اسے اس حقیقت کے مشاہدے سے محروم رکھتے ہیں جو ہر ظاہر سے زیادہ ظاہر اور ہر قریب سے زیادہ قریب ہے۔ یعنی اصل تبدیلی اللہ کو سمجھنے میں نہیں، بلکہ اپنے ادراک کو اس قابل بنانے میں ہے کہ وہ اس ازلی حقیقت کو پہچان سکے۔

شیئر: