واپس
عظیم لوگوں کی تنہائی؟حضرت علیؑ کا امتحان اور انسانی شعور کا فکری مطالعہ

عظیم لوگوں کی تنہائی؟حضرت علیؑ کا امتحان اور انسانی شعور کا فکری مطالعہ

الشيخ معتصم السيد أحمد

جب حضرت علی بن ابی طالبؑ کا ذکر آتا ہے تو ذہن میں ایک سوال ابھرتا ہے جو بظاہر بہت سادہ دکھائی دیتا ہے لیکن درحقیقت اسلامی تاریخ کے نہایت پیچیدہ سوالات میں سے ایک ہے۔وہ سوال یہ ہے کہ آخر اتنی عظیم علمی، اخلاقی اور روحانی شخصیت کو اس قدر بے وفائی اور تنہائی کا سامنا کیوں کرنا پڑا؟ وہ ہستی جو نبوت کے گھرانے میں پروان چڑھی، جس کے علم، شجاعت اور عدل کی گواہی دوستوں ہی نہیں بلکہ مخالفین نے بھی دی، رسول اللہ ﷺ کی رحلت کے بعد امت کی تائید و حمایت سے کیوں محروم رہی؟ حالانکہ آپ کا مقام و مرتبہ اس حمایت کا تقاضا کرتا تھا۔پھر یہ کیسے ہوا کہ خلافت سنبھالنے کے بعد بھی آپ کی آزمائشیں ختم نہ ہوئیں بلکہ انہیں اپنے دشمنوں کے ساتھ اپنے ساتھیوں اور پیروکاروں کی بے عملی، کمزوری اور بے وفائی کا شکوہ بھی رہا؟

اگر اس مسئلے کو صرف ایک سیاسی اختلاف سمجھ کر دیکھا جائے تو اس کی بہت سی حقائق نظروں سے اوجھل رہ جاتی ہیں کیونکہ دراصل یہ واقعہ انسانی نفسیات، معاشرتی رویّوں اور تاریخ کے دھارے پر اثر انداز ہونے والے بنیادی اصولوں کو آشکار کرتا ہے۔ اسی لیے امام علیؑ کے ساتھ ہونے والی بے وفائی اور عدمِ نصرت کا مطالعہ محض ماضی کے ایک تاریخی واقعے کا جائزہ نہیں بلکہ انسان کی فطرت، اس کے طرزِ فکر اور اس کے اجتماعی رویّوں کو سمجھنے کی ایک سنجیدہ کوشش بھی ہے۔ اس لیے کہ جن عوامل نے اس دور میں بہت سے لوگوں کو امام علیؑ سے دور رکھا یا ان کی نصرت میں تردد کا شکار کیا، وہی عوامل آج بھی مختلف شکلوں میں ہر زمانے اور ہر معاشرے میں اپنا وجود رکھتے ہیں۔

ان اہم نفسیاتی اسباب میں سے ایک یہ ہے کہ انسان ہمیشہ حق کی طرف اس قدر نہیں کھنچتا جتنا ان چیزوں کی طرف جو اسے اطمینان، مفاد اور استحکام فراہم کریں۔ عام طور پر لوگ ایسے رہنماؤں کو پسند کرتے ہیں جو انہیں راحت دیں، ان رہنماؤں کے مقابلے میں جو ان سے تبدیلی کا مطالبہ کریں۔ امام علیؑ ایسی شخصیت نہیں تھے جو لوگوں کو محض جواز یا فرار کے بہانے فراہم کرتے بلکہ وہ ہمیشہ انہیں ان کی اخلاقی ذمہ داریوں کے سامنے کھڑا کرتے تھے۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے لوگوں نے اصولی طور پر حضرت علیؑ سے محبت کی لیکن وہ ان کے مشن کے عملی نتائج اور اس کی ذمہ داریوں کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔

عدل ان اقدار میں سے ایک ہے جن کے نعرے لوگ بہت زیادہ بلند کرتے ہیں لیکن عملی طور پر اس  کا نفاذ سب سے مشکل ہوتا ہے۔ ہر کوئی عدل چاہتا ہے جب وہ اس کے حق میں ہولیکن بہت کم لوگ اسے قبول کرتے ہیں جب وہ ان کے خصوصی  حقوق اور مفادات کو متاثر کرے۔ جب امام علیؑ نے حکومت سنبھالی تو انہوں نے لوگوں کے سامنے کوئی ایسا عوامی یا جذباتی طرزِ حکمرانی پیش نہیں کیا جو وفاداریاں خریدنے یا مراعات تقسیم کرنے پر مبنی ہو بلکہ انہوں نے معاملات کو اصل اور فطری میزان پر واپس رکھا۔ یہیں سے بحران شروع ہوا کیونکہ لوگ ایک عادل رہنما کو اس وقت تک پسند کر سکتے ہیں جب تک وہ آزمائش کے دائرے سے باہر ہو لیکن جب عدل ان کا محاسبہ کرنے لگے یا انہیں ان فوائد سے محروم کرے جن کے وہ عادی ہو چکے ہوں تو وہ پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔

ایک اور نفسیاتی عامل خوف ہے کہ انسان اپنی فطرت کے لحاظ سے جان بچانے کی طرف مائل ہوتا ہے اور خطرات سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔ بہت سے لوگ امام علیؑ کے مقام و مرتبے کو سمجھتے تھے لیکن وہ ایسے تنازعات میں پڑنے سے ڈرتے تھے جو ان کی جان، حیثیت یا مفادات کے لیے نقصان کا باعث بن سکتے تھے۔ یہ صورتِ حال صرف اسی دور تک محدود نہیں بلکہ تاریخ میں سب سے زیادہ پائی جانے والی حقیقتوں میں سے ایک ہے۔ کتنے ہی لوگ حق کو جانتے تھے لیکن انہوں نے خاموشی کو ترجیح دی کیونکہ اپنے مؤقف کا اظہار ان کے مفادات یا آرام میں کسی نہ کسی کمی کا سبب بن سکتا تھا۔

معاشرتی لحاظ سے دیکھا جائے تو اس دور کا عرب معاشرہ ابھی مکمل طور پر اپنے قبائلی ڈھانچے سے آزاد نہیں ہوا تھا۔ اسلام نے قبائلی تعصبات کو بڑی حد تک مہذب اور محدود ضرور کر دیا تھا لیکن انہیں مکمل طور پر ختم نہیں کیا تھا۔ اسی لیے قبائلی وابستگیاں اور سماجی حیثیت کے اعتبارات بہت سے سیاسی رویّوں پر اثر انداز ہوتے رہے۔ امام علیؑ ایک ایسے منصوبے اور طرزِ فکر کی نمائندگی کرتے تھے جو قبیلے کی حدوں سے آگے بڑھ کر اہلیت اور حق کو معیار بناتا تھاجبکہ بہت سے لوگ اب بھی معاملات کو طاقت، اثر و رسوخ اور سماجی توازن کی بنیاد پر دیکھنے کے عادی تھے۔

ثقافتی اسباب میں سے ایک اہم سبب یہ بھی تھا کہ معاشرہ بڑی تیز رفتاری سے ایک عبوری دور گزارا تھا۔ چند ہی برسوں کے اندر وہ ایک محدود جزیرۂ عرب کے معاشرے سے نکل کر ایک وسیع و عریض ریاست میں تبدیل ہو گیا جو بڑے بڑے علاقوں پر پھیل چکی تھی۔ اس دوران اسلام میں بہت سے ایسے گروہ داخل ہوئے جنہوں نے براہِ راست نبی کریم ﷺ کی تربیت حاصل نہیں کی تھی اور نہ ہی وہ اس تربیتی عمل سے گزرے تھے جس سے پہلی نسل گزری تھی۔ یہ لوگ مختلف درجوں کے شعور اور فہم کے ساتھ اسلام میں داخل ہوئے تھے اور یہ بات فطری ہے کہ ان کی قیادت کے تصور اور معاشرتی ترجیحات کے بارے میں سوچ مختلف تھی۔

شاید سب سے خطرناک ثقافتی سبب یہ تھا کہ بہت سے لوگ دین کو صرف عبادات اور عقائد کے ایک نظام کے طور پر دیکھتے تھے جبکہ امام علیؑ اسے ایک مکمل اخلاقی اور تہذیبی منصوبے کے طور پر سمجھتے تھے۔ ظاہری مذہب داری اور پیغامِ دین پر مبنی مذہب داری کے درمیان یہی خلا ان کے سامنے آنے والے سب سے بڑے چیلنجز میں سے ایک تھا۔ انسان ممکن ہے اپنی عبادات میں تو مذہبی ہولیکن وہ عدل، مساوات اور دیانت جیسے دینی اصولوں کے مکمل عملی تقاضوں کو قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہو۔

سیاسی عامل سب سے زیادہ اثر رکھنے والے عوامل میں سے تھا۔ سیاست اپنی فطرت کے لحاظ سے وہ میدان ہے جہاں مفادات، طاقتیں اور اثر و رسوخ ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔ امام علیؑ اس میدان میں اس طرح داخل ہوئے کہ ان کے پاس ایک سخت اخلاقی تصور تھا جو بنیادی اصولوں پر کسی قسم کی مفاہمت کو قبول نہیں کرتا تھا۔ ان کے مخالفین سیاسی ذرائع اور دستیاب وسائل کو اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے زیادہ آسانی سے استعمال کرنے کے لیے تیار تھے۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے مفاد پرست افراد امام علیؑ کے اس منصوبے کو اپنے اثر و رسوخ میں اضافے کا موقع نہیں سمجھتے تھےبلکہ اسے اپنی مراعات کے لیے ایک خطرہ تصور کرتے تھے۔

یہاں سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ امام علیؑ کو اپنے ہی لشکر سے وابستہ بعض لوگوں کی طرف سے بھی کیوں مشکلات کا سامنا تھا۔ کیونکہ ہر وہ شخص جس نے امام علیؑ کی بیعت کی تھی، وہ حقیقت میں علیؑ پر ایمان نہیں رکھتا تھا۔ ان میں سے کچھ سیاسی مفاد کی تلاش میں تھے، کچھ مخصوص حالات کے زیرِ اثر شامل ہوئے تھےاور کچھ اس وقت تک ان کی حمایت کرتے تھے جب تک یہ حمایت ان کے ذاتی مفادات سے متصادم نہ ہو۔ جب قربانیوں کا مطالبہ بڑھا یا اختلافات سامنے آئے تو حقیقی وفاداری اور ظاہری وفاداری کے درمیان موجود فرق پوری طرح واضح ہو گیا۔

شاید اس حقیقت کو سب سے زیادہ واضح کرنے والی بات وہ بار بار ملنے والی شکایات ہیں جو ہمیں خود امام کے کلمات میں نظر آتی ہیں، جہاں وہ اپنے بہت سے پیروکاروں کے سستی، تذبذب اور کمزور ارادے کی شکایت کرتے ہیں۔ یہ مسئلہ ان کے پاس معلومات کی کمی کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ ارادے کی کمزوری کی وجہ سے تھا۔ یہاں تاریخ کو سمجھنے کا ایک اہم نکتہ سامنے آتا ہے کہ حق کو جان لینا کافی نہیں ہوتا بلکہ اس پر عمل کرنے اور اس کی ذمہ داریوں کو برداشت کرنے کے لیے نفسیاتی اور اخلاقی تیاری بھی ضروری ہوتی ہے۔

یہ مسئلہ صرف امام علیؑ کے دور تک محدود نہیں ہے۔ تاریخ اس طرح کی بے شمار مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ لوگ اکثر مصلحین کی وفات کے بعد ان کی زیادہ تعریف کرتے ہیں، بہ نسبت اس کے کہ ان کی زندگی میں ان کی مدد کریں۔ وہ عظیم افکار کی کامیابی کے بعد ان کا جشن زیادہ مناتے ہیں، بجائے اس کے کہ جب وہ مزاحمت کا سامنا کر رہے ہوں تو ان کا دفاع کریں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حق کے ساتھ کھڑے ہوناجب معرکہ جاری ہو تو اس کے لیے ہمت اور قربانی درکار ہوتی ہےجبکہ معرکہ ختم ہونے کے بعد اس کی تعریف کرنا کوئی قیمت نہیں مانگتا۔

امام علیؑ کی امامت کے حق میں دلائل کم نہ تھےنہ ہی ان کی شخصیت میں کوئی کمزوری تھی اور نہ ہی ان کی فضیلتیں  کم تھیں بلکہ اصل مسئلہ انسان کی اپنی فطرت تھی۔ وہی انسان جو بعض اوقات حق کو پہچان تو لیتا ہے لیکن اس کی پیروی نہیں کرتا، عدل کو پسند تو کرتا ہے لیکن اس کی قیمت ادا نہیں کرتا اور عظیم شخصیات کو سراہتا تو ہے لیکن ان کے ساتھ کھڑے ہونے کی ذمہ داری اٹھانے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔

اسی لیے امام علیؑ کے تجربے سے ہر نسل کے سامنے اصل سوال یہ نہیں اٹھتا کہ لوگوں نے ان کے ساتھ بے وفائی کیوں کی بلکہ یہ ہے کہ اگر ہم اسی دور اور انہی حالات میں ہوتے تو کیا ہم مختلف ہوتے؟ اور کیا آج ہمارے اندر اتنی ہمت، شعور اور قربانی کا جذبہ موجود ہے کہ ہم حق کے ساتھ اس وقت کھڑے ہو سکیں جب اس کی قیمت ادا کرنی پڑے؟

امام علیؑ کا  تاریخ کو سب سے بڑا درس یہ نہیں کہ حق کو بے وفائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہےکیونکہ انسانیت یہ حقیقت بارہا جان چکی ہےبلکہ یہ ہے کہ انسان پر لازم ہے کہ وہ حق کو اس وقت بھی تھامے رکھے جب دوسرے اسے چھوڑ دیں۔ اسی لیے امام علیؑ انسانی شعور میں ہر طرح کی بے وفائی کے باوجود غالب اور سربلند رہے کیونکہ انسان کی اصل قدر و قیمت اس کے ساتھیوں کی تعداد سے نہیں بلکہ ان اصولوں سے وفاداری سے جانی جاتی ہے جن پر وہ قائم ہوتا ہے۔

شیئر: