واپس
غدیر اور پیغامِ رسالت کا مستقبل: کیا صرف اصول کافی ہیں؟

غدیر اور پیغامِ رسالت کا مستقبل: کیا صرف اصول کافی ہیں؟

واقعۂ غدیر کو کسی ایک تاریخی دن یا ایک وقتی اعلان تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ غدیر اپنے وقوع کے ساتھ ختم ہونے والا واقعہ نہیں، بلکہ اسلامی شعور، اسلامی فکر اور امتِ مسلمہ کی تاریخی یادداشت کا ایک مستقل اور زندہ باب ہے، جو ہر دور میں قیادت، ہدایت اور امت کے صحیح مستقبل کے بارے میں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔

الشیخ معتصم السید احمد

مکتبِ تشیع میں عیدِ غدیر کو ایک عظیم دینی مناسبت کی حیثیت حاصل ہے، کیونکہ یہ حضرت امیرالمؤمنین علی بن ابی طالبؑ کی ولایت کے اعلان سے وابستہ ہے۔ تاہم غدیر کو محض ایک تاریخی واقعہ یا ایک مذہبی جشن تک محدود کر دینا، اس کے فکری اور تمدنی مضمرات کے ایک نہایت اہم پہلو کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ غدیر صرف حضرت علیؑ کی ذات یا منصبِ ولایت سے متعلق کوئی سوال نہیں اٹھاتا، بلکہ اس سے کہیں زیادہ بنیادی اور گہرا سوال ہمارے سامنے رکھتا ہے، اور وہ یہ ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ کی رحلت کے بعد خود رسالت کا مستقبل کیا ہوگا؟ نیز یہ کہ امتیں اپنے تشخص، اپنے اصول، اور اپنے تہذیبی و تمدنی منصوبے کو زمانے کی گردش اور تاریخی تغیرات کے باوجود کس طرح محفوظ رکھے گی۔

جب ہم اقوام اور تہذیبوں کی تاریخ اور ان کے فکری و تمدنی سفر کا عمیق مطالعہ کرتے ہیں تو ایک بنیادی حقیقت پوری وضاحت کے ساتھ ہمارے سامنے آتی ہےکہ کسی نظریے، اصول یا اصلاحی پیغام کی بنیاد رکھ دینا ہی کسی معاشرے کا سب سے بڑا چیلنج نہیں ہوتا، بلکہ اصل امتحان اس وقت شروع ہوتا ہے جب مرحلۂ تاسیس کامیابی سے مکمل ہو چکا ہو۔ تاریخ گواہ ہے کہ کتنے ہی عظیم افکار ایک زمانے میں انسانوں کے اذہان کو منور کرتے، معاشروں کی رہنمائی کرتے اور تہذیبوں کی سمت متعین کرتے رہے، لیکن اپنے بانیوں کے رخصت ہو جانے کے بعد تحریف، مسخ، تضعیف یا فراموشی کا شکار ہو گئے۔ اسی طرح بے شمار اصلاحی تحریکیں اپنی ابتدا میں نہایت مضبوط، مؤثر اور امید افزا تھیں، مگر ایسی بصیر، امانت دار اور باصلاحیت قیادت کے فقدان کے باعث، جو ان کی حفاظت کرتی، ان کے حقیقی مفہوم کی پاسداری کرتی اور انہیں ہر قسم کے انحراف سے محفوظ رکھتی، وہ رفتہ رفتہ اپنی روح، اپنی اصالت اور اپنی اثر آفرینی کھو بیٹھیں۔اسی لیے تاریخ کا ایک ناقابلِ تردید سبق یہ ہے کہ اصل مسئلہ صرف کسی عظیم فکر یا اصلاحی منصوبے کا وجود میں آ جانا نہیں، بلکہ اس کے صحیح تسلسل، اس کے فکری و عملی تحفظ، اور اس کی خالص و حقیقی صورت میں بقا کو یقینی بنانا ہے۔ حقیقت میں کسی بھی فکر کی اصل کامیابی اس کے آغاز میں نہیں، بلکہ اس کے دوام اور صحیح استمرار میں مضمر ہوتی ہے۔

یہیں سے غدیر کو محض ایک تاریخی اختلاف یا مسلکی نزاع کے محدود دائرے میں نہیں، بلکہ ایک وسیع تر فکری، دینی اور تمدنی تناظر میں سمجھنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ صرف ایک سیاسی قائد نہ تھے جنہوں نے جزیرۂ عرب میں ایک ریاست کی بنیاد رکھی، بلکہ آپؐ ایک عظیم رسالتی منصوبے کے معمار تھے، جس کا مقصد محض ایک معاشرے کی تشکیل نہیں، بلکہ ایسے انسان کی تعمیر اور ایسی امت کی پرورش تھا جو توحید، عدل اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کے آفاقی پیغام کی حامل اور اس کی امین ہو۔

جب یہ عظیم رسالتی منصوبہ اپنی تکمیل کو پہنچا تو ایک نہایت فطری اور بنیادی سوال سامنے آیاکہ بانیِ رسالت ﷺ کی رحلت کے بعد اس عظیم منصوبے کا تسلسل کس طرح برقرار رہے گا؟ اور کون اس کی حفاظت، اس کی صحیح تعبیر و تفسیر، اور اسے تفرقہ، انتشار اور انحراف کے اسباب سے محفوظ رکھنے کی ذمہ داری سنبھالے گا؟

یہ سوال صرف اسلام کا نہیں، بلکہ وہ ابدی سوال ہے جو انسانی تاریخ کی ہر عظیم فکری، دینی اور تہذیبی تحریک کے ساتھ ہمیشہ وابستہ رہا ہے۔ دنیا کی کوئی بھی ایسی دعوت، جو انسان کی فکری و اخلاقی رہنمائی اور ایک پائیدار تمدن کی بنیاد رکھنے کے لیے اٹھتی ہے، وہ صرف اپنے آغاز سے نہیں بلکہ اپنے تسلسل، بقا اور اپنی اصل شناخت کے تحفظ سے بھی وابستہ ہوتی ہے۔ اسی لیے ہر عظیم تمدنی منصوبہ ایسے مضبوط نظام اور مستند مرجعیت کا تقاضا کرتا ہے جو اس کے بنیادی اصولوں کی حفاظت کرے، اس کے حقیقی تشخص کو ہر قسم کی تحریف سے محفوظ رکھے، اور آنے والی نسلوں تک اس کے پیغام کو اسی خالص صورت میں منتقل کرے جس صورت میں وہ پیش کیا گیا تھا۔

اسی حقیقت کے پیشِ نظر واقعۂ غدیر کو محض ایک وقتی سیاسی اعلان، یا تاریخ کے کسی عارضی اختلاف کی حیثیت سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ غدیر درحقیقت اسلام کے اس ہمہ گیر اور حکیمانہ نظام کا مظہر ہے جو خاتم النبیین ﷺ کی لائی ہوئی الٰہی رسالت کے تاریخی تسلسل، فکری بقا اور عملی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے عطا کیا گیا، تاکہ دینِ الٰہی زمانے کی گردش، سیاسی تغیرات اور انسانی خواہشات کی نذر نہ ہو، بلکہ قیامت تک اپنی اصل روح، اپنی حقیقی تعلیمات اور اپنی الٰہی مرجعیت کے ساتھ محفوظ رہے۔

شاید غدیر کا سب سے اہم پیغام یہ ہے کہ محض نظریات، اصول اور تحریری قوانین کسی امت کی تشکیل اور اس کی دائمی بقا کے لیے کافی نہیں ہوتے۔ اگرچہ کتابیں، قوانین اور نصوص غیر معمولی اہمیت کی حامل ہیں، لیکن وہ اس وقت تک معاشرے میں حقیقی اثر پیدا نہیں کر سکتیں جب تک کوئی ایسی زندہ اور مجسم شخصیت موجود نہ ہو جو ان تعلیمات کو اپنے کردار، گفتار اور طرزِ عمل میں ڈھال کر انسانوں کے سامنے ایک قابلِ اقتدا نمونہ بنا دے۔ نظریات اس وقت زندگی پاتے ہیں جب وہ کسی انسان کے وجود میں متجلی ہوں، اور قوانین اسی وقت دلوں میں اترتے ہیں جب وہ عملی کردار کی صورت اختیار کر لیں۔

اسی حکمت کے تحت قرآنِ کریم صرف احکام و تعلیمات کی کتاب بن کر نازل نہیں ہوا، بلکہ اس کے ساتھ رسولِ اکرم ﷺ کی مبارک ذات کو بھی پیش کیا گیا، جنہوں نے وحیِ الٰہی کو اپنی پوری زندگی میں مجسم کر کے دکھایا۔ آپؐ کی سیرت نے قرآن کو الفاظ سے حقیقت، اور تعلیمات کو نظریے سے عمل میں تبدیل کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ انسان صرف تحریری نصوص سے نہیں سیکھتا، بلکہ زندہ کردار، عملی نمونے اور مجسم اسوہ سے بھی رہنمائی حاصل کرتا ہے۔ تاریخِ انسانیت گواہ ہے کہ اقوام کی حقیقی تربیت محض کتابوں سے نہیں، بلکہ ان عظیم شخصیات کے ذریعے ہوتی ہے جو ان کتابوں کی جیتی جاگتی تفسیر بن جاتی ہیں۔

اسی زاویۂ نظر سے اسلامی نظام میں قیادت کی ضرورت کو صحیح معنوں میں سمجھا جا سکتا ہے۔ اسلام میں قیادت محض اجتماعی امور کی نگرانی یا ریاستی نظم و نسق کا نام نہیں، اور نہ ہی وہ صرف سیاسی اقتدار و اختیار کا عنوان ہے، بلکہ اس کی بنیادی ذمہ داری امت کو اس کے صحیح فکری و عملی راستے پر قائم رکھنا، اور دین کی اصل سمت کو ہر قسم کے انحراف سے محفوظ رکھنا ہے۔ اسی لیے قرآنِ کریم نے جب امامت کا ذکر کیا تو اسے قوت، نفوذ، غلبہ یا ظاہری اقتدار کے ساتھ وابستہ نہیں کیا، بلکہ ہدایت کے ساتھ مربوط فرمایا: ﴿وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا﴾۔ یعنی ہم نے انہیں ایسے امام بنایا جو ہمارے حکم سے لوگوں کی رہنمائی کرتے تھے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ قرآنی تصورِ قیادت کی بنیاد اقتدار نہیں بلکہ ہدایت ہے، اور اس کا اصل مقصد حکومت کرنا نہیں بلکہ انسانوں کو راہِ حق پر قائم رکھنا ہے۔ لہٰذا قرآنی منطق میں قیادت کا جوہر، ہر چیز سے پہلے، ہدایتِ الٰہی ہے۔

تاریخِ انسانی کا مطالعہ اس حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ معاشروں کو درپیش سب سے بڑی مشکلات میں سے ایک اقتدار اور ہدایت کے درمیان امتیاز کو فراموش کر دینا ہے۔ بسا اوقات کوئی شخص اقتدار کا مالک تو بن جاتا ہے، لیکن بصیرتِ حق سے محروم رہتا ہے۔ وہ نظمِ مملکت چلانے اور لوگوں کے اجتماعی معاملات کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے، مگر ان فکری، اخلاقی اور روحانی اقدار کی حفاظت نہیں کر سکتا جن پر کسی مہذب معاشرے کی حقیقی بقا اور استحکام کا انحصار ہوتا ہے۔

اسی بنا پر قرآنِ کریم قیادت کو نہ کوئی اعزاز سمجھتا ہے، نہ اقتدار کا استحقاق، اور نہ ہی غلبہ و برتری کا ذریعہ؛ بلکہ اسے ایک عظیم امانت اور نہایت گراں بار ذمہ داری قرار دیتا ہے، جس کی ادائیگی کے لیے محض انتظامی صلاحیت کافی نہیں، بلکہ گہرا علم، پختہ حکمت، کامل تقویٰ، بلند کردار، اور راہِ حق میں ہر قسم کی قربانی پیش کرنے کا عزم ناگزیر ہے۔

یہی وہ زاویۂ نظر ہے جس کی روشنی میں اسلامی فکر و شعور میں حضرت علیؑ کی شخصیت اور مقام کو صحیح طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ یہاں گفتگو نہ صرف رسولِ اکرم ﷺ سے نسبی قرابت کی ہے، نہ صرف اسلام قبول کرنے میں سبقت کی، بلکہ اصل بحث ایک ایسی بے مثال شخصیت کی ہے جس میں علم و حکمت، شجاعت و استقامت، عدل و انصاف، زہد و تقویٰ، بصیرت و فراست، اور پیغامِ رسالت سے کامل وابستگی ایک جامع اور متوازن صورت میں جمع ہو گئی تھی۔ یہی وہ اوصاف تھے جو انہیں امت کی فکری و عملی رہنمائی کے لیے منفرد بناتے تھے۔ اسی لیے غدیر، کسی فرد کے محض تعارف یا فضیلت کے اعلان کا نام نہیں، بلکہ قیادت کے اس مثالی معیار کے اعلان کا نام ہے جس پر اسلامی امت کی رہنمائی استوار ہونی تھی۔

جب ہم رسولِ اکرم ﷺ کے وصال کے بعد کی اسلامی تاریخ کا غیر جانب دارانہ مطالعہ کرتے ہیں تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ قیادت کا مسئلہ کوئی جزوی یا حاشیے کا موضوع نہیں تھا، جیسا کہ بعض اوقات تصور کیا جاتا ہے، بلکہ یہی وہ بنیادی سوال تھا جس نے امتِ مسلمہ کی فکری، سیاسی اور سماجی تاریخ کی سمت متعین کی۔ بعد کے ادوار میں رونما ہونے والی بہت سی فکری تحریکیں، سیاسی تغیرات، داخلی اختلافات اور سماجی تبدیلیاں براہِ راست یا بالواسطہ اسی امر سے وابستہ تھیں کہ امت نے قیادت کے اس بنیادی سوال کا جواب کس بنیاد پر اور کس انداز میں دیا۔

اسی لیے واقعۂ غدیر کو کسی ایک تاریخی دن یا ایک وقتی اعلان تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ غدیر اپنے وقوع کے ساتھ ختم ہونے والا واقعہ نہیں، بلکہ اسلامی شعور، اسلامی فکر اور امتِ مسلمہ کی تاریخی یادداشت کا ایک مستقل اور زندہ باب ہے، جو ہر دور میں قیادت، ہدایت اور امت کے صحیح مستقبل کے بارے میں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔تاہم غدیر کی حقیقی اہمیت صرف ماضی کی ایک تاریخی یاد کو زندہ کرنے میں نہیں، بلکہ اس حقیقت میں مضمر ہے کہ وہ آج کے انسان اور عصرِ حاضر کو بھی روشنی فراہم کرتا ہے۔ غدیر محض تاریخ کا ایک باب نہیں، بلکہ ایک ایسا زندہ پیغام ہے جو ہر دور میں انسان کو قیادت، ہدایت اور اخلاقی ذمہ داری کے صحیح معیار سے آشنا کرتا ہے۔

آج کا انسان ایک ایسے عالم میں زندگی بسر کر رہا ہے جو مختلف سطحوں پر قیادت کے گہرے بحران سے دوچار ہے۔ جدید معاشروں نے علم، معلومات اور ٹیکنالوجی کے میدان میں غیر معمولی ترقی حاصل کر لی ہے، لیکن اس بے پناہ علمی و سائنسی قوت کو صحیح سمت دینے والی اخلاقی بصیرت اور رہنما اقدار سے وہ اکثر محروم دکھائی دیتے ہیں۔ انسان نے فطرت کی قوتوں کو بڑی حد تک اپنے تابع کر لیا ہے، مگر افسوس کہ وہ اپنی خواہشاتِ اقتدار، حرص، لالچ اور تشدد کے رجحانات پر اسی طرح قابو پانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

اسی پس منظر میں غدیر ایک نئی معنویت اور تازہ پیغام کے ساتھ ہمارے سامنے جلوہ گر ہوتا ہے۔ وہ ہمیں اس بنیادی حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ محض مادی ترقی کسی متوازن، مہذب اور پائیدار معاشرے کی تعمیر کے لیے کافی نہیں ہوتی، اور نہ ہی صرف قوت و اقتدار کسی قیادت کو حقیقی مشروعیت عطا کر سکتے ہیں۔ اسی طرح اقتصادی خوش حالی بھی اخلاقی اقدار، فکری رہنمائی اور روحانی اصولوں کی ضرورت سے بے نیاز نہیں بنا سکتی۔ معاشرے ہر دور میں ایسی مضبوط اخلاقی اور فکری مرجعیت کے محتاج رہتے ہیں جو انہیں انحراف، انتشار اور اقدار کے زوال سے محفوظ رکھے، اور ایسی مثالی قیادت کی ضرورت ہمیشہ باقی رہتی ہے جو اعلیٰ اقدار کو محض نعروں، خطابات اور رسمی تقریبات تک محدود نہ رہنے دے، بلکہ انہیں انسانی زندگی اور اجتماعی نظام کی ایک زندہ، متحرک اور عملی حقیقت بنا دے۔

شاید عصرِ حاضر میں انسان کو جن سب سے گہرے اور فیصلہ کن بحرانوں کا سامنا ہے، ان میں بحرانِ شعور سب سے زیادہ تشویش ناک ہے۔ آج انسان کے لیے مسئلہ صرف معلومات کی کمی نہیں، بلکہ صحیح شعور، درست بصیرت اور حق و باطل میں امتیاز کی صلاحیت کا کمزور پڑ جانا ہے۔ چنانچہ بہت سے لوگ اپنے افکار، نظریات اور ترجیحات کا انتخاب آزادانہ طور پر نہیں کرتے، بلکہ ان کے اذہان ذرائع ابلاغ، سوشل میڈیا، اور ان وسیع ثقافتی، اقتصادی اور فکری نظاموں کے ذریعے تشکیل پاتے ہیں جو رائے عامہ کو خاموشی کے ساتھ اپنی مطلوبہ سمت میں ڈھالتے رہتے ہیں۔ یوں انسان بظاہر آزاد نظر آتا ہے، لیکن اس کا شعور اکثر ایسے عوامل کے زیرِ اثر ہوتا ہے جن کا اسے خود بھی احساس نہیں ہوتا۔

ایسے حالات میں غدیر کا پیغام ایک نئی تازگی اور معنویت کے ساتھ ہمارے سامنے آتا ہے، اور اس کا بنیادی سوال پہلے سے کہیں زیادہ اہم اور بروقت محسوس ہوتا ہے۔ہمارے شعور کی رہنمائی کون کر رہا ہے؟ ہمارے فکری اور اخلاقی معیارات کا سرچشمہ کیا ہے؟ ہم کن بنیادوں پر حق و باطل، عدل و ظلم، اور حقیقت و مصلحت کے درمیان امتیاز قائم کرتے ہیں؟ اور آخر وہ کون سی شخصیت یا مرجع ہے جس پر یہ اطمینان کیا جا سکے کہ وہ ہماری رہنمائی ذاتی مفادات، سیاسی اغراض اور وقتی مصلحتوں کی بنیاد پر نہیں، بلکہ انہی ابدی الٰہی اقدار کی روشنی میں کرتی ہے جن پر ہمارا ایمان استوار ہے؟

غدیر اپنی حقیقت اور جوہر کے اعتبار سے اس قیادت کی تلاش کی دعوت ہے جو ہدایت دے، گمراہی میں نہ ڈالے؛ تعمیر کرے، تخریب نہ کرے، اور اصول و اقدار کی حفاظت کرے، انہیں ذاتی مفادات کی منڈی میں سودا نہ بنائے۔ وہ ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ حق کا معیار ہمیشہ قوت، غلبے یا اکثریت نہیں ہوتا، بلکہ اس کی اصل کسوٹی یہ ہے کہ وہ عدل، صداقت، انسانی وقار اور ان ابدی اقدار سے کس حد تک ہم آہنگ ہے جنہیں الٰہی رسالتوں نے انسانیت کے لیے بنیاد بنایا۔

اسی لیے عیدِ غدیر کا جشن محض ایک تاریخی واقعے کی یاد تازہ کرنے یا کسی مذہبی وابستگی کے اظہار تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ اسے قیادت کے حقیقی مفہوم، ذمہ داری کے احساس، اور اصولوں سے وفاداری کے عہد کی تجدید کا موقع بننا چاہیے۔ غدیر صرف ماضی کی ایک یادگار نہیں، بلکہ ہر دور اور ہر نسل کے لیے ایک زندہ اور دائمی پیغام ہے کہ قومیں نہ صرف اصولوں سے تعمیر ہوتی ہیں اور نہ صرف قوت و اقتدار سے؛ بلکہ ان کی حقیقی تعمیر اس وقت ہوتی ہے جب سچے اصول، باشعور قیادت سے مل کر عملی زندگی میں ایک زندہ حقیقت بن جائیں۔

اسی لیے غدیر ایک ایسا زندہ، دائمی اور ہمہ گیر واقعہ ہے جو زمان و مکان کی تمام حدوں سے بلند ہو کر ہر عہد سے مخاطب ہوتا ہے۔ اس کی حیات صرف ایک تاریخی دن تک محدود نہیں، بلکہ اس کی معنویت ہر اس دور میں تازہ ہو جاتی ہے جب انسان حق کی تلاش، صحیح رہنمائی اور قابلِ اعتماد قیادت کا محتاج ہوتا ہے۔ غدیر درحقیقت انسان کی ایک ابدی ضرورت کی ترجمانی کرتا ہے کہ ایسی ہدایت بخش قیادت کی ضرورت جو حیرت، اضطراب اور فکری انتشار کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں راہِ حق کو روشن کرے؛ ایسے پاکیزہ اور مثالی نمونوں کی ضرورت جو نعروں، دعووں اور ظاہری دلکشی کے ہجوم میں اقدار کو اپنے کردار اور عمل کے ذریعے مجسم کر دیں؛ اور ایسی امانت دار قیادت کی ضرورت جو تاریخ کے نشیب و فراز، زمانے کی آزمائشوں اور فتنوں کی تند و تیز آندھیوں کے درمیان بھی پیغامِ الٰہی کو اس کی اصل روح، خالص تعلیمات اور حقیقی مقاصد کے ساتھ محفوظ رکھے، اور اسے اس کی بنیادوں اور جڑوں سے اکھاڑ پھینکنے کی ہر کوشش کا ثابت قدمی سے مقابلہ کرے۔

شیئر: