شیخ معتصم السید احمد
معاصر فکری شعور میں جن تصورات کو ازسرِ نو سمجھنے کی ضرورت ہے، ان میں نصر (حقیقی کامیابی) کا تصور سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ انسان عموماً کامیابی کو ظاہری نتائج سے جوڑتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ کون غالب آیا، کس نے اقتدار حاصل کیا، کس کی بات نافذ ہوئی، اور میدانِ جنگ کے اختتام پر فاتح کس کو قرار دیا گیا۔ یوں طاقت، سیاست، اسلحہ اور عددی برتری ہی کامیابی کا معیار بن جاتے ہیں۔ یہ طرزِ فکر فطری ہے، کیونکہ انسان فوری نتائج اور ظاہری مناظر سے متاثر ہوتا ہے۔ بسا اوقات وہ ظاہری غلبے ہی کو آخری حقیقت سمجھ لیتا ہے اور یہ گمان کرنے لگتا ہے کہ جس نے اقتدار حاصل کر لیا، حق بھی اسی کے ساتھ ہے، جبکہ جو بظاہر مغلوب ہو گیا، وہ شکست کھا گیا۔
لیکن تاریخ اس تصور کی تائید نہیں کرتی۔ بہت سے لوگ اپنے زمانے میں فاتح سمجھے گئے، مگر وقت نے انہیں شکست خوردہ ثابت کر دیا؛ جبکہ بہت سے ایسے بھی تھے جو بظاہر میدانِ جنگ میں شہید ہو گئے، مگر آنے والی نسلوں کے ضمیر اور تاریخ میں ہمیشہ کے لیے زندہ ہو گئے۔ بعض نے جنگ جیتی، مگر مقصد اور اخلاقی جواز کھو دیا؛ جبکہ بعض نے جان قربان کر دی، مگر ابدی عزت اور لازوال حیات پا لی۔ طاقت وقتی غلبہ تو پیدا کر سکتی ہے، مگر دائمی حقانیت نہیں۔ اس کے برعکس، کبھی ایک مظلوم کا خون ایسا ابدی معیار بن جاتا ہے کہ ہر دور کے اقتدار اور نظام کو اسی پر پرکھا جاتا ہے۔ یہیں سے ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے: کیا کامیابی صرف زندہ رہنے کا نام ہے، یا حقیقی کامیابی یہ ہے کہ انسان کی سچائی، اس کی اقدار اور اس کا پیغام زندہ رہیں، خواہ اس کے لیے اسے اپنی جان ہی کیوں نہ قربان کرنا پڑے؟
عاشورا اس حقیقت کی سب سے روشن گواہ ہے۔ اگر واقعۂ کربلا کو صرف ایک عسکری معرکے کی نظر سے دیکھا جائے تو بظاہر یہی محسوس ہوتا ہے کہ امام حسینؑ بن علیؑ شہید ہو گئے اور یزید کا لشکر کامیاب رہا۔ امام حسینؑ، ان کے اصحاب اور اہلِ بیتؑ کو شہید کیا گیا، مخدراتِ اہلِ بیتؑ کو اسیر بنایا گیا، اور مقدس سروں کو نیزوں پر بلند کیا گیا۔ یزید کا لشکر اس گمان میں تھا کہ اس نے اس تحریک کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا ہے، اور بظاہر ہر منظر یہی بتا رہا تھا کہ طاقت نے معرکہ جیت لیا ہے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ تاریخ نے فیصلہ بدل دیا۔ تلوار کے زور پر غالب آنے والے رسوائی اور لعنت کی علامت بن گئے، جبکہ امام حسینؑ حق، آزادی، عزت اور ظلم کے خلاف استقامت کا ابدی پرچم بن کر رہ گئے۔
یہی کربلا کی حقیقی عظمت ہے۔ کربلا صرف شہادت کا درس نہیں دیتی، بلکہ فتح اور شکست کے معیار ازسرِ نو متعین کرتی ہے۔ وہ سکھاتی ہے کہ حقیقی کامیابی لشکر، اقتدار یا ظاہری غلبے میں نہیں، بلکہ ایسے وقت میں حق کو زندہ رکھنے میں ہے جب باطل اسے مٹانے پر تُلا ہو۔ یزید چاہتا تھا کہ امام حسینؑ کی بیعت کے ذریعے اپنے اقتدار کو دینی جواز مل جائے۔ اگر امام حسینؑ یہ بیعت قبول کر لیتے تو جسم تو محفوظ رہتا، مگر دین کی روح، حق کا پیغام اور سچائی کا مفہوم ہمیشہ کے لیے مجروح ہو جاتا۔ لیکن آپؑ نے انکار کر کے اپنے جسم کی قربانی دی اور حق کے اس ابدی پیغام کو زندہ کر دیا جس کی قوت قاتلوں کی تمام تلواروں سے بڑھ کر ثابت ہوئی۔
فتح کے بارے میں ہماری سب سے بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ ہم اسے عموماً صرف ظاہری بقا، زندگی کے تسلسل اور جسم کے محفوظ رہنے سے تعبیر کرتے ہیں، حالانکہ زندگی کی حقیقی قدر اس مقصد، اس پیغام اور اس معنی میں ہوتی ہے جسے انسان اپنے وجود کے ذریعے زندہ رکھتا ہے۔ کتنے ہی لوگ ہیں جو طویل عمر پاتے ہیں، مگر اپنے ضمیر، اپنے کردار اور اپنے اصولوں کی شکست کے ساتھ زندہ رہتے ہیں؛ اور کتنے ہی ایسے ہیں جو عمر کے اعتبار سے جلد دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں، مگر اپنے خوف، اپنی کمزوری، اپنے نفس اور اپنے زمانے پر ایسی فتح حاصل کر لیتے ہیں جو ہمیشہ کے لیے امر ہو جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عظمت اس میں نہیں کہ انسان موت سے بچ نکلے، کیونکہ موت تو ہر جاندار کی ناگزیر منزل ہے؛ بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ وہ اپنی جسمانی موت سے پہلے اخلاقی اور روحانی موت کا شکار نہ ہو، اپنی عزت و کرامت کو پامال نہ ہونے دے، اپنے ضمیر کا سودا نہ کرے، اور خوف و مصلحت کو اپنی انسانیت پر غالب نہ آنے دے۔ اسی زاویۂ نگاہ سے ہم سمجھتے ہیں کہ امام حسینؑ ہرگز موت کے متلاشی نہ تھے، جیسا کہ بعض سطحی فکر رکھنے والے لوگ تصور کرتے ہیں، بلکہ آپؑ اس زندگی کو مسترد کر رہے تھے جو باطل کی گواہ، ظلم کی تائید اور انحرافِ دین کی خاموش توثیق بن جائے۔ آپؑ کے نزدیک اگر زندگی کی قیمت حق سے بے وفائی، دین سے انحراف اور باطل کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا ہو، تو ایسی زندگی حقیقت میں زندگی نہیں، بلکہ ایک ذلت آمیز شکست ہے؛ اور اگر حق کی حفاظت کے لیے جسم قربان کرنا پڑے، تو ایسی شہادت ہی ابدی اور حقیقی فتح ہے۔
یہی وہ حقیقت ہے جس کی ہمارے عہد کو سب سے زیادہ ضرورت ہے؛ کیونکہ جدید تہذیب نے انسان کے ذہن میں کامیابی کا ایک ایسا تصور راسخ کر دیا ہے جو تقریباً مکمل طور پر فوری نتائج کا اسیر ہے۔ اس کے نزدیک کامیابی وہ ہے جو اعداد و شمار میں ناپی جا سکے، طاقت وہ ہے جسے ذرائع ابلاغ مسلسل نمایاں کریں، اثر و نفوذ وہ ہے جس پر ہجوم تالیاں بجائے، اور انسان کی قدر و قیمت کا فیصلہ شہرت، دولت اور اقتدار کی میزان پر کیا جائے۔ رفتہ رفتہ انسان بھی اسی مصنوعی معیار کو حقیقت سمجھنے لگتا ہے۔ پھر وہ یہ گمان کرنے لگتا ہے کہ جس کی آواز سب سے بلند ہے، وہی حق کا سب سے بڑا نمائندہ ہے؛ جس کے ہاتھ میں اقتدار ہے، وہی احترام کا زیادہ مستحق ہے؛ جو مقصد جلد کامیاب نہ ہو، وہ ایک ناکام مقصد ہے؛ اور جو شخص فوری فائدے کے بغیر اپنے اصولوں پر ثابت قدم رہے، وہ حقیقت پسند نہیں بلکہ سادہ لوح ہے۔ یہی وہ فکری دھوکا ہے جسے کربلا آ کر توڑتی ہے۔ کربلا اعلان کرتی ہے کہ حق کی صداقت کا فیصلہ نہ اکثریت کرتی ہے، نہ طاقت، نہ شہرت، نہ دولت، اور نہ وقتی کامیابیاں؛ بلکہ حق، حق ہی رہتا ہے، خواہ اس کے ساتھ کھڑے ہونے والے چند ہی کیوں نہ ہوں، اور باطل، باطل ہی رہتا ہے، خواہ اس کے پیچھے سلطنتوں کی طاقت، میڈیا کا شور اور دنیا کی تمام ظاہری قوتیں کیوں نہ کھڑی ہوں۔ اسی لیے کربلا ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اصولوں پر استقامت کبھی حماقت نہیں ہوتی، بلکہ یہی وہ سرمایہ ہے جس سے تاریخ کے حقیقی فاتح جنم لیتے ہیں۔
لیکن عاشورا آ کر اس فریبِ نظر کو بنیادوں سمیت منہدم کر دیتی ہے۔ وہ ہمیں یہ اعلان سناتی ہے کہ تاریخ اپنا آخری اور فیصلہ کن حکم میدانِ جنگ کے خاتمے پر صادر نہیں کرتی۔ بسا اوقات حق کو اپنی روشنی پوری طرح نمایاں کرنے کے لیے زمانوں کا انتظار کرنا پڑتا ہے، اور کبھی ایک پاکیزہ خون کو نسلوں کے ضمیر میں سفر کرنا پڑتا ہے تاکہ وہ اس طاقت کے جھوٹے وقار، اس اقتدار کے کھوکھلے غرور، اور اس ظلم کی حقیقت کو بے نقاب کر دے جس نے اسے بہایا تھا۔ اسی لیے امام حسینؑ کی فتح، دنیا کی عام فتوحات سے بالکل مختلف تھی۔ وہ نہ تلوار کی فتح تھی، نہ لشکر کی، نہ حکومت کی، اور نہ ہی سیاسی غلبے کی؛ بلکہ وہ انسانی شعور، زندہ ضمیر، اخلاقی وجدان اور تاریخ کے اٹل فیصلے میں حاصل ہونے والی ایسی ابدی فتح تھی جسے نہ کوئی سلطنت مٹا سکی، نہ کوئی طاقت شکست دے سکی، اور نہ ہی زمانہ فراموش کر سکا۔ کربلا کی تپتی ہوئی سرزمین پر اگرچہ امام حسینؑ کا جسمِ اطہر خاک پر گر گیا، مگر اسی لمحے آپؑ کا پیغام امت کی روح میں زندہ ہو گیا، آپؑ کی قربانی حق کا ابدی معیار بن گئی، اور آپؑ کا نام ظلم کے مقابلے میں استقامت کی لازوال علامت قرار پایا۔ دوسری طرف، جن لوگوں نے آپؑ کو شہید کیا، ان کے جسم اگرچہ میدانِ جنگ سے سلامت واپس لوٹ آئے، لیکن اسی دن سے وہ تاریخ کے ضمیر، انسانیت کے وجدان اور آنے والی نسلوں کی یادداشت میں ہمیشہ کے لیے اخلاقی اور روحانی موت مر گئے۔ یہی عاشورا کا سب سے عظیم سبق ہے کہ جسموں کی بقا ہمیشہ زندگی نہیں ہوتی، اور جسموں کا فنا ہو جانا ہمیشہ شکست نہیں ہوتا۔ حق کے لیے بہایا جانے والا خون زمانے کی گردش کے ساتھ مٹتا نہیں، بلکہ ہر گزرتی صدی کے ساتھ مزید روشن، مزید مؤثر اور مزید زندہ ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ باطل کی ہر ظاہری فتح کو تاریخ کی سب سے بڑی شکست میں تبدیل کر دیتا ہے۔
یہیں سے ہمارے لیے غلبہ اور فتح کے درمیان اس بنیادی فرق کو سمجھنا ناگزیر ہو جاتا ہے جسے اکثر لوگ خلط ملط کر دیتے ہیں۔ غلبہ محض قوت، اسباب اور ظاہری اقتدار کا نتیجہ ہو سکتا ہے، اس لیے کبھی طاقتور بھی غالب آ جاتا ہے؛ لیکن فتح صرف اسی کا مقدر بنتی ہے جو حق پر ثابت قدم رہے، خواہ بظاہر تنہا ہو، کمزور ہو یا مظلوم۔ غلبہ ایک خارجی واقعہ ہے، جبکہ فتح ایک اخلاقی، روحانی اور تاریخی حقیقت۔ غلبہ تلوار، لشکر اور سلطنت کو حاصل ہو سکتا ہے، لیکن فتح ہمیشہ فکر، پیغام، اصول اور سچائی کی ہوتی ہے۔ باطل کبھی کسی لمحے کے لیے غالب آ سکتا ہے، مگر وہ اپنے حقیقی مفہوم میں کبھی فاتح نہیں بن سکتا؛ کیونکہ حقیقی فتح کے لیے صرف میدان جیتنا کافی نہیں، بلکہ انسانی ضمیر سے اپنی حقانیت کی گواہی بھی درکار ہوتی ہے، اور یہی وہ منزل ہے جہاں باطل ہمیشہ ناکام اور بے بس ثابت ہوتا ہے۔ ظلم جسموں کو مغلوب کر سکتا ہے، لیکن دلوں کو اپنا اسیر اور ضمیروں کو اپنا گواہ نہیں بنا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ ظالموں کی سلطنتیں ختم ہو جاتی ہیں، مگر اہلِ حق کا پیغام صدیوں تک زندہ رہتا ہے۔
آج کے اس پرآشوب دور میں، جب حق و باطل کے پیمانے ہر لمحہ بدلتے دکھائی دیتے ہیں، اس حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ذرائع ابلاغ لمحوں میں جھوٹے ہیرو تخلیق کر لیتے ہیں، سرمایہ وقتی عظمت اور مصنوعی وقار خرید لیتا ہے، طاقت جھوٹ کو حقیقت اور ظلم کو قانون کا روپ دے دیتی ہے، اور لوگ اکثر اس کے گرد جمع ہو جاتے ہیں جس کے پاس شور زیادہ ہو، تصویر زیادہ دلکش ہو، اقتدار زیادہ مضبوط ہو اور آواز زیادہ بلند ہو۔ لیکن عاشورا آ کر ان تمام مصنوعی معیاروں کو یکسر باطل قرار دیتی ہے۔ وہ ہمیں بتاتی ہے کہ تاریخ کے حقیقی فاتح وہ نہیں ہوتے جن کے پاس لشکر، خزانے اور تخت و تاج ہوں، بلکہ وہ ہوتے ہیں جن کے پاس سچائی کی روشنی، ضمیر کی پاکیزگی اور قربانی کا حوصلہ ہو۔ امام حسینؑ کے پاس نہ سلطنت تھی، نہ بے شمار سپاہ، نہ دولت کے انبار، نہ ذرائع ابلاغ کی طاقت، اور نہ دنیاوی اقتدار کے وسائل؛ لیکن آپؑ کے پاس وہ سرمایہ تھا جسے نہ کوئی لشکر شکست دے سکتا تھا، نہ کوئی حکومت چھین سکتی تھی، اور نہ کوئی زمانہ مٹا سکتا تھا: حق کی بے غبار روشنی، موقف کی غیر متزلزل صداقت، ایمان کی کامل استقامت، اور راہِ خدا میں ہر چیز قربان کر دینے کا عزم۔ یہی وہ طاقت تھی جس نے کربلا کے محدود میدان کو انسانیت کی سب سے عظیم درسگاہ میں بدل دیا، اور یہی وہ سرمایہ ہے جس نے امام حسینؑ کو صرف ایک تاریخی شخصیت نہیں، بلکہ ہر دور کے مظلوموں کے لیے امید، ہر حق طلب کے لیے حوصلہ، ہر مجاہد کے لیے نمونۂ عمل، اور قیامت تک حق و باطل کے درمیان امتیاز کا ابدی معیار بنا دیا۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ عاشورا ہمیں صرف یہ نہیں سکھاتی کہ حق کی خاطر کیسے جان دی جاتی ہے، بلکہ اس سے بڑھ کر یہ سکھاتی ہے کہ زندگی میں حقیقی فتح کا مفہوم کیا ہے۔ وہ ہمیں یہ بصیرت عطا کرتی ہے کہ ظاہری غلبہ ہمیشہ حقیقی کامیابی نہیں ہوتا، اس لیے نہ باطل کے شور و غوغا سے مرعوب ہونا چاہیے، نہ اس کی وقتی طاقت سے، اور نہ ہی کسی موقف کی سچائی کا فیصلہ صرف اس کے فوری نتائج سے کرنا چاہیے۔ عاشورا ہمیں سکھاتی ہے کہ ایک انسان بظاہر تنہا ہو کر بھی فاتح ہو سکتا ہے، اور ایک شخص بے شمار لشکروں اور سلطنتوں کے باوجود حقیقت میں شکست خوردہ ہو سکتا ہے۔ وہ ہمیں یقین دلاتی ہے کہ جو خون راہِ خدا میں بہایا جائے، وہ کبھی رائیگاں نہیں جاتا، اور جو موقف خالصتاً حق کے لیے اختیار کیا جائے، وہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔ اگر حق کو زمین پر فوری فتح نصیب نہ بھی ہو، تو وہ تاریخ کے زندہ ضمیر میں ہمیشہ کے لیے اپنی جگہ بنا لیتا ہے۔ یہی عاشورا کا ابدی پیغام ہے کہ حقیقی فتح تلوار کی نہیں، کردار کی؛ غلبے کی نہیں، حق پر استقامت کی؛ اور وقتی کامیابی کی نہیں، بلکہ ابدی سچائی کی ہوتی ہے۔
لہٰذا کربلا کو صرف ایک دردناک سانحہ سمجھ کر نہیں پڑھنا چاہیے، بلکہ اسے ایک ایسی عظیم درسگاہ کے طور پر دیکھنا چاہیے جو ہمارے حق و باطل کے تمام معیاروں کو ازسرِنو تشکیل دیتی ہے۔ عاشورا ہم سے یہ سوال نہیں کرتی کہ دس محرم کے دن ظاہری طور پر کون غالب آیا؟ کیونکہ اس کا جواب ہر دیکھنے والی آنکھ دے سکتی ہے۔ اصل سوال یہ ہے: کون باقی رہا؟ کون حق کا معیار بن گیا؟ کس کے قاتل کا نام لیتے ہوئے لوگ شرمندگی محسوس کرتے ہیں، اور کس کا نام آتے ہی احترام سے سر جھک جاتے ہیں؟ کس کی شہادت شعور، عزت اور بیداری کا سرچشمہ بن گئی، اور کس کی عسکری فتح تاریخ کی ابدی لعنت میں بدل گئی؟
جب ان سوالوں پر غور کیا جائے تو حقیقت آشکار ہو جاتی ہے کہ امام حسینؑ کربلا میں ہرگز شکست خوردہ نہیں ہوئے تھے، بلکہ آپؑ ایک ایسی ابدی فتح کی بنیاد رکھ رہے تھے جسے اس وقت کی تلواریں دیکھ نہ سکیں، مگر جسے زمانے کی ہر صدی نے تسلیم کیا، اور جو قیامت تک حق کی روشن علامت بنی رہے گی۔
اسی لیے عاشورا ہمیں دعوت دیتی ہے کہ ہم اپنے شعور کو وقتی نتائج کی پرستش سے آزاد کریں۔ وہ ہمیں سکھاتی ہے کہ حق کو صرف اس لیے ناکام نہ سمجھیں کہ وہ مظلوم یا محصور ہے، اور باطل کو صرف اس لیے کامیاب نہ مان لیں کہ اس کے پاس قوت، اقتدار اور وسائل ہیں۔ وہ ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ راستہ طویل ہو جائے تو بھی اپنے اصول نہ چھوڑیں، آزمائشیں بڑھ جائیں تو بھی اپنے موقف کا سودا نہ کریں، اور وقتی فائدے کے لیے ابدی اقدار کو قربان نہ کریں۔ کیونکہ حقیقی فتح اس وقت شروع ہوتی ہے جب انسان اپنے خوف، اپنی مصلحت پسندی اور فوری منفعت کی خواہش پر غلبہ حاصل کر لیتا ہے۔ یہی ہماری زندگی میں امام حسینؑ کے پیغام کا ایک عظیم مفہوم ہے کہ اصل شکست مظلوم ہو کر شہید ہونا نہیں، بلکہ حق کو پہچان کر بھی اس کا ساتھ چھوڑ دینا ہے؛ اور حقیقی فتح دوسروں کو زیر کرنا نہیں، بلکہ اپنے دل، اپنے ضمیر اور اپنے ایمان کو باطل کے سامنے جھکنے سے بچا لینا ہے۔
باطل دھمکا سکتا ہے، فریب دے سکتا ہے، دولت سے ضمیر خرید سکتا ہے، اور اپنے شور سے دنیا کو متاثر کر سکتا ہے، لیکن ایک سچے مظلوم کے خون کے سامنے وہ کبھی مطمئن نہیں ہو سکتا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ خون کی صداقت تلوار کی طاقت سے زیادہ دیرپا ہوتی ہے۔ یہی راز ہے کہ کربلا دسویں محرم کے غروبِ آفتاب کے ساتھ ختم نہیں ہوئی۔ اگر یہ صرف ایک عسکری معرکہ ہوتا تو میدانِ طف کی ریت میں دفن ہو جاتا، جیسے تاریخ کی بے شمار جنگیں گم نام ہو گئیں۔ لیکن کربلا باقی رہی، کیونکہ اس نے زمان و مکان سے بلند ایک ابدی حقیقت کو زندہ کر دیا۔ اس نے ہر دور کے انسان کے سامنے ایک ایسا سوال رکھ دیا جو کبھی پرانا نہیں ہوتا: جب باطل تم سے اپنی حکومت کے لیے جواز مانگے تو تم کیا کرو گے؟ جب حق کا راستہ قربانی مانگے اور باطل کا راستہ ذلت آمیز سلامتی پیش کرے تو تم کس کا انتخاب کرو گے؟ کیا تم اپنی زندگی کا فیصلہ وقتی فائدے سے کرو گے، یا اپنے دین، اپنے ضمیر اور اپنی عزت و کرامت کی حفاظت کو ترجیح دو گے؟ یہی وہ سوال ہے جس نے کربلا کو ایک تاریخی واقعہ نہیں، بلکہ قیامت تک کے لیے انسانیت کا زندہ ضمیر اور حق و باطل کے درمیان فیصلہ کن معیار بنا دیا۔
شاید عاشورا کے سب سے گہرے اور زندگی بدل دینے والے اسباق میں سے ایک یہ ہے کہ وہ ہمیں حق کی فتح کے انتظار کا صبر سکھاتی ہے۔ بہت سے لوگ حق کا ساتھ اس لیے نہیں چھوڑتے کہ وہ اس سے نفرت کرتے ہیں، بلکہ اس لیے کہ ان میں اس کے راستے کی طویل آزمائشیں برداشت کرنے کا حوصلہ نہیں ہوتا۔ وہ چاہتے ہیں کہ حق فوراً غالب آ جائے، اس کا راستہ آسان ہو، اور انہیں کسی قربانی یا تکلیف کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ لیکن جب راستہ لمبا ہو جاتا ہے، قیمت بڑھ جاتی ہے اور آزمائش سخت ہو جاتی ہے، تو وہ آہستہ آہستہ پیچھے ہٹنے لگتے ہیں یا اپنی کمزوری کے لیے دلائل تراش لیتے ہیں۔ حالانکہ تاریخ کے الٰہی قوانین انسان کی خواہشات کے تابع نہیں ہوتے۔ اصل شکست تو اس وقت ہوتی ہے جب انسان حق پر اپنا یقین اس لیے کھو دے کہ وہ اس وقت کامیاب نہیں ہوا، جب وہ خود اسے کامیاب دیکھنا چاہتا تھا۔
امام حسینؑ کی عظیم ترین کامیابی یہی تھی کہ آپؑ نے یزید کو کبھی یہ اختیار نہیں دیا کہ وہ اس معرکے کا مفہوم متعین کرے۔ یزید اسے صرف اقتدار کی اطاعت اور حکومت کے خلاف بغاوت کا مسئلہ بنانا چاہتا تھا، مگر امام حسینؑ نے اسے ہمیشہ کے لیے حق و باطل، عدل و ظلم، اور دین و انحراف کے درمیان فیصلہ کن معرکہ بنا دیا۔ وہ اسے ایک محدود سیاسی واقعہ بنانا چاہتا تھا، مگر امامؑ نے اسے پوری امت کے ضمیر کی بیداری کا عنوان بنا دیا۔ وہ اسے کربلا کے ریگزار میں دفن کرنا چاہتا تھا، مگر امام حسینؑ نے اسے پوری انسانی تاریخ میں پھیلا دیا۔ یہی حقیقی فتح کی بلند ترین صورت ہے کہ انسان اپنے دشمن کو یہ اجازت نہ دے کہ وہ جنگ کی زبان، اس کے معیار اور کامیابی و ناکامی کی تعریف خود طے کرے۔ کیونکہ انسان اس وقت شکست نہیں کھاتا جب وہ میدان میں گر جاتا ہے، بلکہ اس وقت شکست کھاتا ہے جب وہ اپنے دشمن کے معیاروں کو قبول کر لیتا ہے۔ امام حسینؑ نے ابتدا ہی سے باطل کی منطق، اس کے پیمانوں اور اس کے اقتدار کو مسترد کر دیا، اور اسی لیے آپؑ کی فتح تلواروں کی فتح نہیں، بلکہ ضمیر، تاریخ اور انسانیت کی ابدی فتح بن گئی۔
حقیقت یہ ہے کہ عاشورا کا یہ درس صرف عظیم انقلابات اور تاریخی معرکوں کے لیے نہیں، بلکہ ہر انسان کی روزمرہ زندگی کے لیے بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ انسان اپنے کاروبار، ملازمت، خاندان، معاشرت اور روزانہ کے بے شمار فیصلوں میں بار بار ایسے امتحانات سے گزرتا ہے جہاں کامیابی کی ایک جھوٹی تعریف اس کے سامنے پیش کی جاتی ہے۔ کبھی اسے محسوس ہوتا ہے کہ جھوٹ بول کر مخالف کو زیر کرنا ہی کامیابی ہے، کبھی دھوکے سے فائدہ اٹھانا، کبھی اپنے منصب یا مفاد کو بچانے کے لیے اصولوں پر سمجھوتہ کر لینا، اور کبھی اپنے تعلقات یا دنیاوی آسائشوں کی خاطر حق بات پر خاموش رہ جانا۔ بظاہر وہ کچھ حاصل کر لیتا ہے، لیکن درحقیقت وہ اپنے ضمیر، اپنے کردار اور اپنی انسانیت کا ایک حصہ کھو دیتا ہے۔ ممکن ہے دنیا اسے کامیاب سمجھے، مگر اپنے باطن اور خدا کی میزان میں وہ شکست کھا چکا ہوتا ہے۔
یہیں عاشورا ہمیں زندگی کی سب سے بڑی فتح کا راز سکھاتی ہے کہ سب سے پہلی اور سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ انسان خود کو نہ ہارے۔ جو شخص جھوٹ کے ذریعے کامیابی حاصل کرے، وہ فاتح نہیں؛ جو ظلم اس لیے کرے کہ اس کے پاس طاقت ہے، وہ فاتح نہیں؛ جو لوگوں کے خوف سے اپنی عزت و غیرت قربان کر دے، وہ فاتح نہیں؛ اور جو وقتی سلامتی یا معمولی فائدے کے لیے حق کا سودا کر لے، وہ بھی ہرگز کامیاب نہیں۔ حقیقی فتح انسان کے باطن سے آغاز ہوتی ہے، اس لمحے سے جب وہ اپنے ضمیر کے سامنے یہ عہد کرتا ہے: میں اپنی سچائی فروخت نہیں کروں گا، میں قدرت کے باوجود ظلم نہیں کروں گا، میں فائدے کے لیے خیانت نہیں کروں گا، اور جہاں خاموشی باطل کی تائید بن جائے گی، وہاں میری زبان حق کے لیے بولے گی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں امام حسینؑ صرف کربلا کے ایک عظیم شہید نہیں رہتے، بلکہ ہر دور، ہر نسل اور ہر انسان کے لیے ایک زندہ مدرسہ، ایک دائمی معیار، اور ایک ایسا عملی نمونہ بن جاتے ہیں جو ہمیں ہر دن یہ سکھاتا ہے کہ انسان کی اصل فتح دوسروں پر نہیں، بلکہ اپنے نفس، اپنے خوف اور اپنے باطل میلانات پر ہوتی ہے۔
عاشورا کے بارے میں سب سے بڑی غلط فہمیوں میں سے ایک یہ ہے کہ بعض لوگ اسے صرف غم و اندوہ کی ایک داستان سمجھتے ہیں، حالانکہ اس کی باطنی حقیقت غم کے قالب میں جلوہ گر ہونے والی ابدی فتح ہے۔ بے شک، عاشورا ایسا عظیم سانحہ ہے جس کے غم کی کوئی مثال نہیں، اور ایسی مصیبت ہے جس کے اشک کبھی خشک نہیں ہو سکتے؛ لیکن یہ وہ غم نہیں جو انسان کو کمزور، مایوس یا شکست خوردہ بنائے، بلکہ یہ وہ غم ہے جو اسے عزت، غیرت، استقامت اور حق پر ڈٹ جانے کا حوصلہ عطا کرتا ہے۔
امام حسینؑ پر بہایا جانے والا آنسو کسی مغلوب قوم کا آنسو نہیں، بلکہ اس شعور مند انسان کا اشک ہے جس نے اس عظیم حقیقت کو پہچان لیا ہے کہ کبھی خون بھی تلوار پر فتح حاصل کر لیتا ہے۔ ہم اس لیے گریہ نہیں کرتے کہ امام حسینؑ شکست کھا گئے تھے، بلکہ اس لیے گریہ کرتے ہیں کہ امت اپنے امامؑ کی معرفت، وفاداری اور ذمہ داری کا حق ادا نہ کر سکی؛ اس لیے کہ باطل اس انتہا تک پہنچ گیا تھا کہ اس نے رسولِ اکرمؐ کے جگر گوشے کو بھی شہید کر دیا؛ اور اس لیے کہ جب انسان اپنے ضمیر سے محروم ہو جائے تو وہ اطاعت، مصلحت اور دین کے نام پر بھی ظلم کی بدترین صورتوں کا ارتکاب کر سکتا ہے۔
لہٰذا، یہ اشک شکست کا اعلان نہیں، بلکہ فتح کی گواہی ہیں۔ یہ آنسو اس بات کی شہادت ہیں کہ امام حسینؑ کا پیغام آج بھی زندہ ہے، ان کی قربانی آج بھی دلوں کو بیدار کرتی ہے، اور ان کا خون آج بھی حق کے متلاشیوں کو حیاتِ نو عطا کرتا ہے۔ اسی لیے امام حسینؑ پر گریہ، مظلومیت پر صرف ماتم نہیں، بلکہ حق کی ابدی کامیابی، باطل کی دائمی ناکامی، اور انسانی ضمیر کی بیداری کا ایک زندہ اعلان ہے۔
یہی حقیقت ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ شعائرِ حسینی صدیوں سے کیوں زندہ ہیں اور کیوں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ مجالس، جلوس اور زیارات صرف ایک دردناک ماضی کی جذباتی یاد نہیں، بلکہ یہ اس ابدی حقیقت کا مسلسل اعلان ہیں کہ تاریخ کا آخری فیصلہ نہ تلوار کرتی ہے، نہ اقتدار، اور نہ ہی ظاہری قوت۔ ہر بیدار مجلسِ حسینی دنیا کو یہ پیغام دیتی ہے کہ جسے کربلا میں شہید کیا گیا، وہ ختم نہیں ہوا؛ اور جنہوں نے اس کا سرِ اقدس نیزے پر بلند کیا، وہ اس کی آواز کو امت کے ضمیر سے کبھی جدا نہ کر سکے۔ امام حسینؑ پر بہایا جانے والا ہر مخلص آنسو بھی یہی اعلان کرتا ہے کہ ہم اس تاریخ کو قبول نہیں کرتے جو تلوار نے لکھی، بلکہ اس حقیقت پر ایمان رکھتے ہیں جو مظلوم کے خون نے رقم کی۔
اسی لیے جو امت عاشورا کے حقیقی پیغام کو سمجھ لیتی ہے، وہ باطل کی ظاہری طاقت دیکھ کر کبھی مایوس نہیں ہوتی۔ وہ غمگین ہو سکتی ہے، آزمائشوں سے گزر سکتی ہے، کمزوری کے لمحات بھی دیکھ سکتی ہے، مگر وہ کبھی طاقت کے فریب میں مبتلا نہیں ہوتی۔ وہ جانتی ہے کہ حق کی فتح میں تاخیر ہو سکتی ہے، مگر حق کبھی فنا نہیں ہوتا؛ اور باطل دنیا بھر میں شور برپا کر سکتا ہے، مگر ایک سچی زبان، ایک پاکیزہ ضمیر اور ایک مخلص موقف کے سامنے ہمیشہ بے چین رہتا ہے۔ وہ یہ بھی جانتی ہے کہ کامیابی صرف یہ نہیں کہ انسان اپنی زندگی میں اپنے عمل کا پھل دیکھ لے، بلکہ کبھی سب سے بڑی فتح یہ ہوتی ہے کہ وہ ایک ایسا حق، ایک ایسا فکر، اور ایک ایسا کردار آنے والی نسلوں کے لیے چھوڑ جائے جو اس کے بعد بھی انسانوں کے دلوں کو روشن کرتا رہے۔ انسان کی اصل کامیابی یہ ہے کہ وہ سلسلۂ حق کی ایک مضبوط کڑی بن جائے اور خوف، مصلحت یا دنیاوی نقصان کو کبھی اپنے دین، اپنے اصول اور اپنے ضمیر سے جدا نہ ہونے دے۔ یہی عاشورا کا لازوال اور ابدی پیغام ہے۔