الشيخ مصطفى الهجري
امام حسینؑ، اہلِ بیتِ اطہارؑ اور آپؑ کے وفادار اصحاب نے میدانِ کربلا میں جو عظیم قربانی پیش کی، وہ محض ایک وقتی سانحہ نہ تھی کہ جسے وقت کے ساتھ فراموش کر دیا جاتا ، بلکہ یہ ایک ایسا عظیم فکری و روحانی انقلاب تھا جس نے امتِ مسلمہ کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیا، اسے غفلت کی گہری نیند سے بیدار کیا، اور اس فکری و نفسیاتی بیماری کا مؤثر علاج فراہم کیا جسے احساسِ کمتری، خود فراموشی اور اپنی دینی و تہذیبی شناخت پر اعتماد کے فقدان سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ یہی وہ بحران تھا جو امت کو اپنی حقیقی شناخت، عزتِ نفس اور رسالتی ذمہ داریوں سے دور لے جا کر اس کے وجود کو مٹانے کے قریب پہنچا چکا تھا۔
معرکۂ کربلا کے فوری نتائج سے آگے بڑھ کر جب تاریخ کے اوراق کا عمیق، بصیرت افروز اور تنقیدی مطالعہ کیا جاتا ہے تو یہ حقیقت نمایاں ہوتی ہے کہ امام حسینؑ کا مقدس خون محض ایک قربانی نہ تھا، بلکہ وہ ایک ایسی ابدی چنگاری ثابت ہوا جس نے شعور، آگہی، آزادی اور بیداری کے چراغ روشن کیے، ظلم و استبداد کے خلاف مزاحمت کی روح کو زندہ کیا، اور ایک ایسے انقلابی، اصلاحی اور تہذیبی مکتبِ فکر کی بنیاد رکھی جو صدیوں گزرنے کے باوجود آج بھی پوری قوت، تازگی اور اثر انگیزی کے ساتھ انسانیت کی رہنمائی کر رہا ہے۔
اول: باطل کا انکشاف امت کی شعوری اور وجدانی بیداری
امام حسینؑ کی نہایت دردناک اور انسانیت سوز شہادت کا سب سے پہلا اور نمایاں اثر یہ تھا کہ اس نے امتِ مسلمہ کو اس کی حقیقی صورتِ حال سے روشناس کر دیا اور اسے اپنے ہی ضمیر کے روبرو لا کھڑا کیا۔ اس عظیم قربانی نے اقتدار کے ایوانوں میں سرایت کر جانے والے ظلم، فریب، نفاق اور باطل کے تمام پردے چاک کر دیے، اور حق و باطل کے درمیان ایک ایسا واضح، روشن اور فیصلہ کن خطِ امتیاز قائم کر دیا جسے تاریخ کبھی مٹا نہ سکی۔
امام حسینؑ کا پاکیزہ خون ایک ایسے آئینے میں ڈھل گیا جس میں امت نے نہ صرف اپنی حقیقی حالت کا مشاہدہ کیا بلکہ اپنی دینی، اخلاقی اور تاریخی ذمہ داریوں کو بھی پوری وضاحت کے ساتھ پہچان لیا۔ اس بے مثال قربانی نے غفلت کی دبیز چادروں کو چاک کر دیا، سوئی ہوئی روحوں کو جھنجھوڑ کر بیدار کیا، اور امت کے اجتماعی ضمیر میں ایک ایسی فکری، روحانی اور اخلاقی بیداری پیدا کی جس کے اثرات زمان و مکان کی حدود سے آگے بڑھ کر ہمیشہ کے لیے تاریخ کے صفحات پر ثبت ہو گئے۔
رسولِ اکرم ﷺ کے محبوب نواسے، حضرت امام حسینؑ کو جس بے رحمانہ، سفاکانہ اور انسانیت سوز انداز میں شہید کیا گیا، اس نے امتِ مسلمہ کے اجتماعی شعور پر ایک ایسا عظیم وجدانی زلزلہ برپا کر دیا جس نے ہر صاحبِ ایمان کے قلب و ذہن کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ یہ سانحۂ عظیم محض ایک تاریخی المیہ نہ تھا، بلکہ ایک گہرا روحانی، فکری اور اخلاقی صدمہ تھا جس نے مسلمانوں کو حیرت، اضطراب، ندامت اور شدید احساسِ ذمہ داری میں مبتلا کر دیا۔ ان کے ضمیر ایسے درد انگیز سوالات سے دوچار ہوئے جنہوں نے ان کا سکون چھین لیا اور انہیں اپنے دینی، اخلاقی اور تاریخی کردار پر ازسرِ نو غور و فکر کرنے پر مجبور کر دیا۔
کیا یہی وہ مبارک ہستی نہیں تھیں جنہیں رسولِ اکرم ﷺ بے پناہ محبت و شفقت کے ساتھ اپنے دوشِ اقدس پر اٹھایا کرتے تھے، اور آج انہی کا مقدس سر نیزے کی نوک پر بلند کیا جا رہا ہے؟ کیا یہی وہ فرزندِ رسولؐ نہیں تھے جن کے سینۂ مبارک کو گھوڑوں کی ٹاپوں سے پامال کیا گیا، حالانکہ انہی کے بارے میں نبیِ اکرم ﷺ نے فرمایا تھا: حسن اور حسین جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں۔(مسند احمد، ج ۳، ص ۳؛ سنن ابن ماجہ، ج ۱، ص ۴۴؛ سنن ترمذی، ج ۵، ص ۳۲۱)
اور کیا یہی وہ محبوبِ رسولؐ نہیں تھے جن کے حق میں آپ ﷺ نے بارگاہِ الٰہی میں دعا فرمائی: اے اللہ! ان دونوں سے محبت فرما، کیونکہ میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں۔(صحیح بخاری، ج ۴، ص ۲۱۴)
یہ سوالات محض جذباتی ردِّعمل نہ تھے، بلکہ امتِ مسلمہ کے سوئے ہوئے اجتماعی ضمیر کو بیدار کرنے والی ایک طاقتور فکری، وجدانی اور اخلاقی پکار تھے۔ سانحۂ کربلا نے مسلمانوں کو اس حقیقت کا شدت سے احساس دلایا کہ جب رسولِ خدا ﷺ کے سب سے محبوب نواسے بھی ظلم، جبر اور استبداد کا نشانہ بن سکتے ہیں، تو ظلم کے سامنے خاموش رہنا درحقیقت ظلم کی تائید اور حق سے انحراف کے مترادف ہے۔ یہی احساسِ ذمہ داری آگے چل کر ایک ہمہ گیر فکری، روحانی اور انقلابی بیداری میں تبدیل ہوا، جس نے امت میں حق شناسی، ظلم کے خلاف مزاحمت، امر بالمعروف و نہی عن المنکر، اور دینی اقدار کی تجدید و احیا کے جذبے کو ازسرِ نو زندہ کر دیا۔
یہ دل سوز اور روح فرسا سوالات مسلمانوں کے قلوب میں احساسِ ندامت، احساسِ تقصیر اور اجتماعی احساسِ جرم کو مسلسل گہرا کرتے گئے، کیونکہ انہیں یہ ادراک ہونے لگا کہ انہوں نے رسولِ اکرم ﷺ کے نواسے کو ظلم کے مقابلے میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا تھا۔ یہی احساس رفتہ رفتہ ایک عارضی جذباتی کیفیت سے بلند ہو کر اجتماعی شعور، فکری پختگی اور عملی عزم میں ڈھل گیا۔ بعد ازاں یہی وجدانی بیداری ایک انقلابی جذبے میں تبدیل ہوئی، جس کے نتیجے میں ایسی اصلاحی اور انقلابی تحریکیں وجود میں آئیں جن کا بنیادی مقصد ظلم و استبداد کے خلاف قیام، حق و عدالت کی سربلندی، اور اس تاریخی کوتاہی کے ازالے کے لیے عملی جدوجہد کرنا تھا۔
ثانیاً: انقلابِ حسینی کے اثرات کے عارضی ہونے کے شبہے کا جواب اور استبدادی نظام کے تسلسل کی حقیقت
بعض اہلِ نظر یہ اشکال پیش کرتے ہیں کہ واقعۂ کربلا کے نتیجے میں امتِ مسلمہ میں جو وجدانی بیداری اور فکری تحریک پیدا ہوئی، وہ محض ایک عارضی جذباتی کیفیت تھی جو وقت گزرنے کے ساتھ ماند پڑ گئی اور اس کے اثرات زیادہ دیر تک باقی نہ رہ سکے۔ اس دعوے کی تائید میں یہ دلیل دی جاتی ہے کہ یزید بن معاویہ کی قیادت میں قائم اموی حکومت نہ صرف اپنے ظلم، گمراہی اور استبدادی طرزِ حکمرانی پر بدستور قائم رہی، بلکہ فوری طور پر اس کے اقتدار میں کوئی نمایاں کمزوری بھی پیدا نہ ہوئی۔ مزید برآں، امام حسینؑ کی شہادت کے بعد اس حکومت نے پہلے سے بڑھ کر جرأت اور بے باکی کے ساتھ دینی، اخلاقی اور انسانی اقدار کو پامال کیا۔
چنانچہ یزیدی حکومت نے اپنے پہلے ہی سال نواسۂ رسول ﷺ، حضرت امام حسینؑ اور ان کے باوفا اصحاب کو نہایت سفاکانہ انداز میں شہید کیا۔ دوسرے سال واقعۂ حرّہ کے موقع پر مدینۂ منورہ، جو رسولِ اکرم ﷺ کا شہر اور اسلامی تہذیب کا مرکز تھا، اپنی سرکش فوج کے لیے مباح قرار دے دیا۔ یزید نے اپنے سپہ سالار، مسلم بن عقبہ، کو حکم دیتے ہوئے کہا: "لوگوں کو تین دن تک دعوت دو، اگر وہ تمہاری بات قبول کر لیں تو بہتر، ورنہ ان سے جنگ کرو، اور جب تم ان پر غالب آ جاؤ تو تین دن تک مدینہ کو لشکر کے لیے مباح کر دو۔ وہاں جو مال، سواری، اسلحہ یا خوراک ہو، وہ سب فوج کا حق ہوگا۔" (تاریخ الطبری، ج ۴، ص ۳۷۲؛ انساب الأشراف، ج ۵، ص ۳۲۳)
اس ظلم و استبداد کا سلسلہ یہیں پر ختم نہ ہوا، بلکہ تیسرے سال یزید کی فوج، حصین بن نمیر کی قیادت میں، مکۂ مکرمہ پر حملہ آور ہوئی اور خانۂ کعبہ جیسے مقدس ترین مرکزِ اسلام کو منجنیقوں سے نشانہ بنایا، جس سے حرمتِ کعبہ بھی پامال ہوئی۔(تاریخ مدینۃ دمشق، ابن عساکر، ج ۱۴، ص ۳۸۷)
اگر ان واقعات کو محض ظاہری اور فوری نتائج کی بنیاد پر دیکھا جائے تو بظاہر یہ تاثر پیدا ہو سکتا ہے کہ سانحۂ کربلا کے بعد ظلم و استبداد میں مزید اضافہ ہوا اور امام حسینؑ کی قربانی اپنے مقاصد کے حصول میں کامیاب نہ ہو سکی۔ لیکن تاریخ کا گہرا اور غیر جانب دار مطالعہ اس تصور کی تائید نہیں کرتا۔ حقیقت یہ ہے کہ عظیم فکری اور انقلابی تحریکوں کی کامیابی کا معیار صرف ان کے فوری سیاسی نتائج نہیں ہوتے، بلکہ ان کے دیرپا، ہمہ گیر اور تہذیبی اثرات ہوتے ہیں، جو رفتہ رفتہ معاشروں کی فکری ساخت، اجتماعی شعور اور تاریخی سمت کا تعین کرتے ہیں۔
اسی تناظر میں دیکھا جائے تو اموی حکومت کے مظالم میں اضافہ انقلابِ حسینی کی ناکامی کی دلیل نہیں، بلکہ اس خوف، بوکھلاہٹ اور اضطراب کی علامت تھا جو امام حسینؑ کے خونِ مقدس سے بیدار ہونے والے عوامی شعور کے باعث حکمران طبقے پر طاری ہو چکا تھا۔ جب کوئی استبدادی نظام اپنے اقتدار کے تحفظ کے لیے ظلم، جبر اور تشدد کی شدت میں اضافہ کرنے لگے تو یہ درحقیقت اس کی طاقت نہیں، بلکہ اس کے اندرونی خوف اور عدمِ اطمینان کا اظہار ہوتا ہے۔ یہی وہ عوامی بیداری تھی جس نے بتدریج اموی اقتدار کی فکری، اخلاقی اور سیاسی بنیادوں کو متزلزل کیا اور بعد کے ادوار میں ایسے انقلابی نتائج کو جنم دیا جنہوں نے استبدادی نظام کی جڑوں کو ہلا کر رکھ دیا۔
ثالثاً: فوری ثمرات: ظالم حکمرانوں کے اقتدار کا انہدام
امام حسینؑ کا انقلاب تاریخِ اسلام کی ان عظیم تحریکوں میں سے ہے جس کے اثرات، برکات اور ثمرات نہایت وسیع، گہرے اور دیرپا ثابت ہوئے۔ اس عظیم تحریک کے اولین اور براہِ راست ثمرات میں یزیدی حکومت کے ناگزیر زوال اور بنو اُمیہ کے استبدادی اقتدار کی بنیادوں کا متزلزل ہونا نمایاں طور پر شامل تھا۔ بعد کے اموی حکمران بھی اس حقیقت سے بخوبی آگاہ تھے۔ چنانچہ روایت ہے کہ عبدالملک بن مروان نے اپنے گورنر حجاج بن یوسف کو متنبہ کرتے ہوئے لکھا: مجھے اہلِ بیتؑ کے خون سے دور رکھنا، کیونکہ میں نے دیکھا ہے کہ آلِ حرب سے ان کی حکومت اسی وقت چھین لی گئی جب انہوں نے حسینؑ کو قتل کیا۔(العقد الفرید، ج ۵، ص ۱۲۶)
یہ روایت اس امر کی غماز ہے کہ خود اموی حکمران بھی اس حقیقت کا ادراک رکھتے تھے کہ امام حسینؑ کی شہادت نے ان کے اقتدار کی بنیادوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا تھا۔واقعۂ کربلا نے مسلمانوں کے احساسات اور اجتماعی شعور کو اس شدت سے بیدار کیا کہ اس کے نتیجے میں یکے بعد دیگرے متعدد انقلابی تحریکیں اور عوامی قیام برپا ہوئے، جن میں نمایاں درج ذیل ہیں:
۱۔ اہلِ مدینہ کا قیام (واقعۂ حرّہ)
اس تحریک کی قیادت حضرت عبد اللہ بن حنظلہؓ نے کی۔ انہوں نے اپنے قیام کے دینی محرک کو بیان کرتے ہوئے کہا:
"خدا کی قسم! ہم نے یزید کے خلاف اس وقت تک خروج نہیں کیا جب تک ہمیں یہ خوف نہ ہو گیا کہ کہیں ہم پر آسمان سے پتھر نہ برسنے لگیں۔ وہ ایسا شخص ہے جو ماؤں، بیٹیوں اور بہنوں سے نکاح کرتا ہے، شراب پیتا ہے اور نماز ترک کر دیتا ہے!( الطبقات الکبریٰ، ابن سعد، ج ۵، ص ۶۶؛ تاریخ مدینۃ دمشق، ابن عساکر، ج ۳۷، ص ۴۲۹)
۲۔ قیامِ توّابین (۶۵ ہجری)
یہ تحریک جلیل القدر صحابی حضرت سلیمان بن صرد خزاعیؓ کی قیادت میں عین الوردہ کے مقام پر برپا ہوئی۔ اس تحریک کا مرکزی شعار "یا لثاراتِ الحسین" تھا، جو امام حسینؑ کے خونِ ناحق کا انتقام لینے اور اپنی سابقہ کوتاہی کے ازالے کے عزم کی علامت تھا۔(تاریخ الطبری، ج ۴، ص ۴۵۱)
۳۔ قیامِ مختار ثقفی (۶۶ ہجری)
مختار ثقفی نے کوفہ میں قیام کیا اور امام حسینؑ کے قاتلوں، بالخصوص عبید اللہ بن زیاد اور عمر بن سعد، سے قصاص لیا۔ قاتلانِ امام کو سزا دینے کے اس اقدام کو وسیع پیمانے پر پذیرائی حاصل ہوئی۔ یہاں تک کہ روایت ہے کہ جب امام علی بن الحسینؑ کی خدمت میں عبید اللہ بن زیاد اور عمر بن سعد کے سر پیش کیے گئے تو آپؑ سجدۂ شکر میں گر پڑے اور فرمایا: تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے میرے دشمنوں سے میرا انتقام لے لیا، اور اللہ مختار کو بہترین جزا عطا فرمائے۔(اختیار معرفۃ الرجال، کشی، ج ۱، ص ۳۴۱)
۴۔ بعد کی انقلابی تحریکیں
انقلابِ حسینی کی روح بعد کے ادوار میں بھی پوری قوت کے ساتھ زندہ رہی، اور اس کی حرارت و تاثیر بعد میں برپا ہونے والی متعدد انقلابی تحریکوں میں نمایاں طور پر جلوہ گر ہوئی۔ ان تحریکوں میں خصوصیت کے ساتھ زید بن علی کا قیام (121 ہجری) اور یحییٰ بن زید کا قیام (125 ہجری) قابلِ ذکر ہیں، جنہوں نے ظلم و استبداد کے خلاف مزاحمت کے حسینی پیغام کو آگے بڑھایا۔
رابعاً: مزاحمتی ثقافت کی شرعی بنیاد اور نظریۂ اطاعتِ مطلقہ کا ابطال
انقلابِ حسینی کی نمایاں ترین خدمات میں سے ایک یہ تھی کہ اس نے اس نظریاتی اساس کو باطل قرار دیا جسے استبدادی حکومتیں اپنے اقتدار کے جواز کے لیے فروغ دیتی تھیں۔ اس نظریے کے مطابق امت پر لازم تھا کہ وہ ظالم حکمران کے سامنے سرِ تسلیم خم کرے، اس کی اطاعت اختیار کرے، اور اس کے خلاف ہر قسم کے قیام کو ناجائز تصور کرے۔ اس تصور کی تائید میں بعض ایسی روایات پیش کی جاتی تھیں جو غیر مشروط اطاعت کی تلقین کرتی تھیں، جن میں نبی اکرم ﷺ کی طرف منسوب یہ روایت بھی بیان کی جاتی تھی:"امیر کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو، اگرچہ وہ تمہاری پیٹھ پر کوڑے برسائے اور تمہارا مال چھین لے، پھر بھی اس کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو۔" (صحیح البخاری، ج ۶، ص ۲۰)
امام حسینؑ کے قیام نے اس فکرِ استسلام کی نظری اور عملی، دونوں سطحوں پر مؤثر انداز میں تردید کی۔ اسی مقصد کے تحت امامؑ نے اپنے جدِّ امجد رسول اللہ ﷺ سے منقول اسلامی منہج کو واضح کرتے ہوئے اپنے اصحاب اور حُرّ بن یزید ریاحی کے ساتھیوں سے خطاب فرمایا: "اے لوگو! رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص کسی ایسے ظالم حکمران کو دیکھے جو اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال قرار دیتا ہو، اللہ کے عہد کو توڑتا ہو، رسول اللہ ﷺ کی سنت کی مخالفت کرتا ہو، اور اللہ کے بندوں کے ساتھ گناہ اور زیادتی کا برتاؤ کرتا ہو، پھر بھی وہ اپنے قول یا عمل کے ذریعے اس کی مخالفت نہ کرے، تو اللہ کے نزدیک وہ بھی اسی انجام کا مستحق ہے۔ (تاریخ الطبری، ج ۴، ص ۳۰۴)
خامساً: نسل در نسل منتقل ہونے والے نمونۂ عمل کی تشکیل
انقلابِ حسینی کے اثرات محض اس کے اپنے عہد تک محدود نہ رہے، بلکہ حضرت امام حسینؑ ہر دور میں آزادی، عزت، حق اور عدالت کی خاطر جدوجہد کرنے والوں کے لیے ایک دائمی نمونۂ عمل اور لازوال سرچشمۂ الہام بن گئے۔ ظلم، جبر اور استبداد کے خلاف برپا ہونے والی بعد کی بے شمار تحریکوں اور انقلابی قیاموں نے عزم، استقامت، ایثار اور حق پر ثابت قدمی کا درس کربلا ہی سے حاصل کیا۔ عصرِ حاضر میں بھی فلسطین میں غاصب صہیونی دشمن کے خلاف جاری مزاحمت، نیز تکفیری اور استیصالی قوتوں کے مقابلے میں استقامت کی مختلف صورتیں، اپنی فکری اور عملی جہتوں کے اعتبار سے انقلابِ حسینی کے پیغام اور اس کے اسباق سے گہرا تعلق رکھتی ہیں۔ اسی طرح چند دہائیاں قبل ایرانی عوام کی اپنے دور کے طاغوتی نظام کے خلاف کامیاب جدوجہد میں بھی اس عظیم نہضت کے اصولوں، اقدار اور انقلابی فکر نے بنیادی کردار ادا کیا۔
کربلا اختتامِ سفر نہیں تھی، بلکہ امتِ مسلمہ کے شعور کی تجدید، اس کی فکری بیداری اور اخلاقی احیا کا نقطۂ آغاز تھی۔ اسی لیے آج امت کی ذمہ داری ہے کہ وہ امام حسینؑ کو ان کے رسالتی، اخلاقی اور انقلابی منہج کے ساتھ اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں زندہ رکھے، تاکہ آنے والی نسلیں آپؑ کی تعلیمات کو اپنے کردار، اخلاق اور عملی رویّوں میں مجسم کریں، نہ کہ امام حسینؑ کی شخصیت محض ایک مقدس تاریخی علامت بن کر رہ جائے جس سے عملی وابستگی باقی نہ رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امت کے اندر خود اعتمادی کی بحالی اور اسے درپیش فکری، اخلاقی اور تہذیبی بحرانوں کا مؤثر تدارک اسی حسینی روح سے وابستگی میں مضمر ہے، جس نے کبھی باطل کے سامنے سرِ تسلیم خم نہیں کیا اور انسان کے شعور، آزادی اور کرامت کے تحفظ کے لیے اپنی سب سے قیمتی متاع اللہ کی راہ میں قربان کر دی۔