شیخ مصطفیٰ الہجری
امت کو لاحق فکری اور تہذیبی بیماریوں، خصوصاً خود اعتمادی کے فقدان اور تہذیبی مرعوبیت کا جائزہ لینے کا مقصد ہرگز مایوسی پیدا کرنا یا خود کو موردِ الزام ٹھہرانا نہیں، بلکہ یہ اصلاح و بحالی کے سفر کی پہلی، بنیادی اور ناگزیر تشخیصی منزل ہے۔کسی بھی امت کی نشاۃِ ثانیہ نہ تو اتفاقاً برپا ہوتی ہے اور نہ ہی محض خواہشوں، وعظ و نصیحت، خطابات یا پُرجوش نعروں کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہے۔ یہ ایک منظم اور دقیق عمل ہے، جس کے اپنے تقاضے، بنیادیں، اصول اور تہذیبی شرائط ہوتی ہیں۔ ان شرائط کو پورا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ امت کی تمام صلاحیتیں، وسائل اور انسانی قوتیں بروئے کار لائی جائیں، خصوصاً وہ افراد جو علم، شعور اور امت کے ساتھ اخلاص کا سرمایہ رکھتے ہوں، تاکہ وہ ان ضروری اسباب کو فراہم کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکیں جن پر امت کی تعمیرِ نو کا انحصار ہے۔اگر ہم محض گفتگو سے آگے بڑھ کر عملی میدان میں قدم رکھنا چاہتے ہیں، تو ہمیں ایک ایسے عملی اصلاحی راستے کو اختیار کرنا ہوگا جو واضح، تدریجی اور منظم مراحل پر مشتمل ہو، اور جو وقتی، جذباتی یا سطحی حلوں کے بجائے پائیدار اور مؤثر اصلاح کی بنیاد فراہم کرے۔
اوّل: خود شناسی اور مرض کا جرأت مندانہ اعتراف
امت کی نشاۃِ ثانیہ کا پہلا اور بنیادی زینہ اپنی ذات کی طرف رجوع ہے۔ جس طرح کسی بیماری کے علاج کی ابتدا اس کی درست تشخیص سے ہوتی ہے، اسی طرح امت کی اصلاح بھی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک وہ اپنے مرض کو پہچان کر اس کا بے باکانہ اعتراف نہ کرے۔ حقیقت یہ ہے کہ امت کی سب سے خطرناک بیماریاں وہ ہیں جن کا اسے شعور ہی نہ ہو، یا جن کا احساس اس وقت ہو جب بہت دیر ہو چکی ہو۔قرآنِ کریم نے اسی گہری غفلت اور خود فریبی کی کیفیت سے خبردار کرتے ہوئے فرمایا ہے: ﴿قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْأَخْسَرِينَ أَعْمَالًا الَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعًا﴾کہہ دیجیے! کیا ہم تمہیں بتائیں کہ اعمال کے اعتبار سے سب سے زیادہ خسارے میں کون لوگ ہیں؟ وہ جن کی دنیاوی زندگی کی ساری جدوجہد رائیگاں چلی گئی، مگر وہ یہی سمجھتے رہے کہ وہ بہترین کام انجام دے رہے ہیں۔ (سورۂ کہف: 103-104)
ہماری امت بھی اس طویل زوال اور پستی سے، جس میں وہ صدیوں سے مبتلا ہے، اسی وقت نکل سکتی ہے جب وہ اپنی ذات کی طرف رجوع کرے۔ اپنے حالات کا دیانت داری سے جائزہ لے، اپنی کمزوریوں کو جرأت کے ساتھ تسلیم کرے اور اصلاح کی راہ اختیار کرے۔ واپسیِ ذات ہی امت کی بیداری، خود اعتمادی کی بحالی اور نشاۃِ ثانیہ کی پہلی اور ناگزیر منزل ہے۔
دوم: اجتماعی احتساب اور تنقیدی جائزہ (ہم کون ہیں؟ اور کہاں جا رہے ہیں؟)
اپنی ذات کی طرف واپسی کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنے ساتھ سنجیدگی سے بیٹھیں، اپنے حالات کا بے لاگ جائزہ لیں اور خود اپنا احتساب کریں۔ مگر یہ احتساب صرف ایک فرد کی ذمہ داری نہیں، بلکہ پوری امت کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ اس میں امت کے فکری و تعلیمی ادارے، اہلِ علم، دانش ور، علماء، ڈاکٹر، انجینئر، صحافی اور ہر وہ شخص شامل ہے جو شعور، بصیرت اور ذمہ داری کا احساس رکھتا ہے۔یہ جائزہ شور و غوغا، جذباتی نعروں اور ہجوم کی نفسیات سے ہٹ کر، سکون، تدبر اور دیانت داری کے ساتھ ہونا چاہیے۔ قرآنِ کریم بھی اسی طرزِ فکر کی دعوت دیتے ہوئے فرماتا ہے:﴿قُلْ إِنَّمَا أَعِظُكُمْ بِوَاحِدَةٍ أَنْ تَقُومُوا لِلَّهِ مَثْنَى وَفُرَادَى ثُمَّ تَتَفَكَّرُوا مَا بِصَاحِبِكُمْ مِنْ جِنَّةٍ﴾ "کہہ دیجیے! میں تمہیں صرف ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں کہ تم اللہ کے لیے، دو دو یا ایک ایک ہو کر کھڑے ہو، پھر غور و فکر کرو۔" (سورۂ سبأ: 46)
آج ہمیں جرأت کے ساتھ اپنے آپ سے چند بنیادی سوالات پوچھنے ہوں گے کہ آخر ہمارے ساتھ کیا ہوا؟ ہم کس سمت جانا چاہتے ہیں؟ ہماری کمزوریوں کی اصل وجہ کیا ہے؟ کیا خرابی ہمارے دین اور افکار میں ہے، یا ان کی غلط تعبیر، ناقص فہم اور غلط طرزِ عمل میں؟ آخر وہ کون سے عوامل ہیں جنہوں نے ہمیں فرقوں اور گروہوں میں تقسیم کر دیا اور ہماری وحدت کو پارہ پارہ کر دیا؟
تاریخ کا غیر متبدل اصول ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ کوئی بھی قوم خود احتسابی، اصلاحِ احوال اور فکری تجدید کے بغیر عروج حاصل نہیں کر سکتی۔ اس لیے یہ مرحلہ ناگزیر ہے۔ البتہ یہ آسان نہیں؛ اس کے لیے صبر، استقامت، مسلسل جدوجہد، اپنے نفس سے مقابلہ اور بڑی قربانیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہی وہ قیمت ہے جو ہر زندہ قوم اپنی نئی زندگی اور روشن مستقبل کے لیے ادا کرتی ہے۔
سوم: سبق حاصل کرنا اور درست سمت کا تعین
جب امت سنجیدگی، دیانت داری اور جرأت کے ساتھ اپنا اجتماعی احتساب کرے گی، تو وہ لازماً چند ایسی بنیادی حقیقتوں تک پہنچے گی جو اس کے مستقبل کی سمت متعین کریں گی۔
دین کو زوال کا ذمہ دار ٹھہرانا درست نہیں۔
اسلام اپنی اصل تعلیمات، اقدار اور پیغام کے اعتبار سے نہ ہماری پسماندگی کا سبب ہے، نہ ہمارے انتشار اور نہ ہی ہمارے مسائل کی جڑ۔ اصل مسئلہ دین میں نہیں، بلکہ ہمارے اس فہم میں ہے جو ہم نے دین کے بارے میں اختیار کیا، اور اس طرزِ عمل میں ہے جس کے ذریعے ہم نے اس کی تعلیمات کو عملی زندگی میں نافذ کیا۔جس دین کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ﴾ اور (اے نبیؐ!) ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔(سورۂ انبیاء: 107)
وہ دین انسانیت کے لیے زحمت اور تباہی کا باعث نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح جو دین ہر انسان کے احترام اور عزت کو بنیادی اصول قرار دیتے ہوئے اعلان کرتا ہے:﴿وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ﴾ اور یقیناً ہم نے بنی آدم کو عزت و تکریم عطا کی ہے۔ (سورۂ اسراء: 70)
وہ کسی بھی مذہب یا مسلک سے تعلق رکھنے والے انسان کی تحقیر، نفرت یا تذلیل کی تعلیم نہیں دے سکتا۔اسی طرح تاریخ کے بارے میں بھی ہمارا رویہ متوازن ہونا چاہیے۔ تاریخ ہماری بنیاد ہے، ہماری قیدی نہیں۔ ہمیں اپنے ماضی سے رشتہ تو قائم رکھنا ہے، لیکن اس میں اسیر نہیں ہو جانا۔ ہمیں اپنی تاریخ سے سبق حاصل کرنا ہے، اس کی نئی بصیرت کے ساتھ تعبیر کرنی ہے، اور اس کے روشن ابواب کو مستقبل کی تعمیر کا سرمایہ بنانا ہے، نہ کہ اسے جامد تقدس کا لباس پہنا کر فکر و عمل کا دروازہ بند کر دینا ہے۔
اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم تاریخ میں موجود دائمی اور ابدی اصولوں کو وقتی اور حالات سے وابستہ پہلوؤں سے الگ کریں، اس کی خوبیوں کو اپنائیں اور اس کی کمزوریوں سے سبق سیکھیں۔ ہمیں نہ اپنے عہد کے تقاضوں سے بے خبر ہونا چاہیے اور نہ اپنی تاریخی شناخت سے کٹ جانا چاہیے، کیونکہ جو قوم اپنی تاریخ سے بے تعلق ہو جائے، وہ اپنی شناخت کھو دیتی ہے، اور جس قوم کی شناخت مٹ جائے، اس کے لیے حال اور مستقبل دونوں دھندلا جاتے ہیں۔
چہارم: خود اعتمادی کی بحالی اور احساسِ کمتری سے نجات
کسی بھی قوم کے زوال کا آغاز اس وقت ہوتا ہے جب وہ اپنی ذات پر اعتماد کھو بیٹھتی ہے۔ جو قومیں تاریخ میں زندہ رہتی ہیں اور قیادت کا مقام حاصل کرتی ہیں، وہ اپنی شناخت پر فخر کرتی ہیں، اپنے ماضی سے شرمندہ نہیں ہوتیں اور اپنی درخشاں کامیابیوں کو کبھی فراموش نہیں کرتیں۔اس لیے جب ہم اپنا تنقیدی جائزہ لیں تو ہمیں اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہیے کہ یہ عمل ہمیں احساسِ کمتری، نفسیاتی شکست یا مایوسی کی طرف نہ لے جائے۔ خود احتسابی کا مقصد خود کو ملامت کرنا نہیں، بلکہ اپنی کمزوریوں کو پہچان کر اپنی قوتوں کو دوبارہ زندہ کرنا ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی دینی، روحانی اور تہذیبی شناخت سے اپنا تعلق مزید مضبوط کریں۔ یہی شناخت ہماری خود اعتمادی کی اصل بنیاد اور ہمارے مستقبل کی تعمیر کا سب سے مضبوط سہارا ہے۔
امام حسینؑ کی معروف زیارت کے یہ دل نشین الفاظ اسی حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں: (السلام عليك يا وارث آدم صفوة الله، السلام عليك يا وارث نوح نبي الله، السلام عليك يا وارث إبراهيم خليل الله، السلام عليك يا وارث موسى كليم الله، السلام عليك يا وارث عيسى روح الله، السلام عليك يا وارث محمد حبيب الله..) "سلام ہو آپ پر، اے آدمؑ، نوحؑ، ابراہیمؑ، موسیٰؑ، عیسیٰؑ اور حضرت محمد ﷺ کے حقیقی وارث!"
یہ کلمات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ہماری وابستگی کسی عارضی یا نوظهور روایت سے نہیں، بلکہ ایک ایسے عظیم سلسلۂ ہدایت سے ہے جو حضرت آدمؑ سے شروع ہو کر تمام انبیائے الٰہی سے گزرتا ہوا رسولِ اکرم ﷺ اور اہلِ بیتؑ تک پہنچتا ہے۔ اس لیے ہم تاریخ کے حاشیے پر کھڑی کوئی بے جڑ قوم نہیں، بلکہ ایک ایسی تہذیب اور فکر کے وارث ہیں جس کی جڑیں انسانی تاریخ کی گہرائیوں میں پیوست ہیں۔جب کوئی امت اپنے اس عظیم ورثے کو پہچان لیتی ہے تو اس کے دل سے احساسِ کمتری ختم ہو جاتا ہے، خود اعتمادی لوٹ آتی ہے، اور وہ نئے عزم، واضح شعور اور بلند حوصلے کے ساتھ اپنے مستقبل کی تعمیر کے لیے آگے بڑھتی ہے۔
پنجم: انقلابی قائد اور مصلح مفکر کے کردار کا باہمی امتزاج
اگر امت کو فکری، روحانی، اخلاقی اور نفسیاتی سطح پر حقیقی تبدیلی سے ہم کنار کرنا ہے، تو اسے دو ایسے کرداروں کی ضرورت ہے جو ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہوں؛ ایک انقلابی قائد کا کردار، اور دوسرا مفکر و مصلح کا۔ یا پھر ایسی ہمہ گیر شخصیت کی، جس میں یہ دونوں اوصاف یکجا ہوں۔ امت کو انقلابی قائد اس لیے درکار ہوتا ہے کہ وہ اس کے سوئے ہوئے احساسات کو جھنجھوڑے، اس کے ضمیر کو بیدار کرے اور اس کے اندر ایسی فکری و جذباتی بیداری پیدا کرے جو اسے جمود کی کیفیت سے باہر نکال دے۔ بسا اوقات انسان حق کو پہچانتا تو ہے، مگر کمزور ارادے، دنیاوی مفادات اور مصلحتوں کی زنجیریں اسے اس پر عمل کرنے سے روک دیتی ہیں۔ ایسے موقع پر ایک عظیم قربانی اور ایک غیر معمولی انقلابی اقدام ہی مردہ ضمیروں میں نئی زندگی پھونک سکتا ہے۔
امام حسینؑ کی عظیم قربانی اسی حقیقت کا روشن ترین مظہر ہے۔ آپؑ نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے امتِ مسلمہ کے ضمیر کو ایسی زبردست للکار دی جس کی بازگشت آج بھی دلوں کو بیدار کرتی ہے اور انسان کو حق و باطل کے درمیان فیصلہ کرنے کا حوصلہ عطا کرتی ہے۔تاہم صرف انقلاب برپا کر دینا کافی نہیں۔ اگر انقلابی تحریک کے ساتھ اصلاح، فکر اور شعور کی مسلسل جدوجہد شامل نہ ہو تو انقلاب اپنے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر پاتا۔
یہی وجہ ہے کہ مصلح مفکر اور انقلابی قائد ایک دوسرے کے معاون اور مکمل کرنے والے کردار ہیں۔ مصلح، دینی نصوص کو زمانے کے تقاضوں کے مطابق سمجھنے اور ان سے صحیح رہنمائی اخذ کرنے کی کوشش کرتا ہے، جبکہ انقلابی قائد لوگوں کے دلوں میں حرارت، عزم اور عمل کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ مصلح دین کی فکر کو جمود سے نکالتا ہے، اور انقلابی امت کی رگوں میں نئی زندگی دوڑا دیتا ہے۔ ایک دین کی فکری حرکت کو بحال کرتا ہے، تو دوسرا امت کی اجتماعی حرکت کو بیدار کرتا ہے۔چنانچہ امت کی حقیقی نشاۃِ ثانیہ اسی وقت ممکن ہے جب فکر کی روشنی اور انقلاب کی حرارت ایک دوسرے کا ساتھ دیں، کیونکہ یہی امتزاج ایک بیدار، باوقار اور زندہ امت کی تشکیل کی ضمانت ہے۔
ششم: تبدیلی کی جدوجہد کے اصول ۔پُرامن جدوجہد اور تربیت کو بنیاد بنانا
حقیقی اور دیرپا تبدیلی محض جذبات یا وقتی ردِّعمل سے نہیں آتی، بلکہ اس کے لیے ایک واضح، منظم اور اصولی لائحۂ عمل درکار ہوتا ہے۔ اگر یہ جدوجہد مضبوط فکری بنیادوں اور اخلاقی اصولوں سے محروم ہو، تو اپنے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکتی۔ اس تناظر میں چند بنیادی اصول نہایت اہم ہیں۔
1۔ آزادی اور تربیت کا ساتھ ساتھ چلنا
انقلابی تحریک اس وقت تک اپنے حقیقی مقاصد حاصل نہیں کر سکتی جب تک اس کے ساتھ ایک ہمہ گیر فکری، ثقافتی اور تربیتی عمل نہ ہو۔ ایک طرف معاشرے کے فکری انحرافات کی اصلاح ضروری ہے، تو دوسری طرف انسان کے کردار، اخلاق اور شعور کی تعمیر بھی اتنی ہی اہم ہے۔افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض اسلامی تحریکیں میدانِ مزاحمت میں نمایاں کامیابیاں حاصل کرنے اور سرزمین کو آزاد کرانے میں تو کامیاب رہیں، لیکن انسان کے ذہن کو آزاد کرنے، اس کی فکر کی تعمیر اور اس کی اخلاقی تربیت کے میدان میں وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکیں۔ حالانکہ حقیقی آزادی صرف زمین کی آزادی نہیں، بلکہ انسان کی فکر، ارادے اور شخصیت کی آزادی بھی ہے۔
2۔ پُرامن جدوجہد کو بنیادی اصول بنانا
اسلامی تعلیمات سے یہی رہنمائی ملتی ہے کہ معاشرے میں تبدیلی کا اصل راستہ امن، مکالمہ، شعور اور عوامی جدوجہد ہے۔ اسلام طاقت یا تشدد کے استعمال میں جلد بازی کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا، جب تک کہ پُرامن ذرائع سے اصلاح اور تبدیلی کا امکان موجود ہو۔
قرآنِ کریم نے اس اصول کو متعدد مقامات پر واضح کیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ﴾ اور اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے جنگ کرو جو تم سے جنگ کرتے ہیں، مگر زیادتی نہ کرو، بے شک اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (البقرہ: 190)
اسی طرح انسانی جان کی حرمت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا﴾ جس نے کسی بے گناہ انسان کو قتل کیا، گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کر دیا، اور جس نے ایک جان کو بچایا، گویا اس نے پوری انسانیت کو زندگی عطا کر دی۔" (المائدہ: 32)
اخلاقی رویے کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا:﴿وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ﴾ نیکی اور بدی برابر نہیں ہو سکتیں، برائی کا جواب بہترین اخلاق کے ساتھ دو۔" (فصلت: 34)
اور غیر محارب لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک اور انصاف کی تلقین کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:﴿لَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ﴾ اللہ تمہیں ان لوگوں کے ساتھ نیکی اور انصاف کرنے سے نہیں روکتا جنہوں نے دین کے معاملے میں تم سے جنگ نہیں کی اور نہ تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا۔ بے شک اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔" (الممتحنہ: 8)
ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام میں انسانی تعلقات کی بنیاد امن، انصاف، مکالمے اور حسنِ اخلاق پر قائم ہے۔ اس لیے طاقت کے استعمال یا دیگر سخت اقدامات، جیسے سول نافرمانی، کی طرف اسی وقت رجوع کیا جا سکتا ہے جب تمام پُرامن اور قانونی ذرائع پوری طرح آزما لیے گئے ہوں، اور یہ فیصلہ بھی کسی جذباتی ردِّعمل کے تحت نہیں بلکہ حکمت، دوراندیشی، منظم منصوبہ بندی اور ایسی صالح و باخبر قیادت کی رہنمائی میں کیا جائے جو حالاتِ زمانہ کا صحیح ادراک رکھتی ہو۔
امت کی خود اعتمادی کی بحالی محض ایک نظری یا فکری بحث نہیں، بلکہ وقت کا اہم ترین فریضہ ہے۔ اس کے لیے ایک منظم اور تدریجی جدوجہد درکار ہے، جس کا آغاز دیانت دارانہ خود احتسابی سے ہوتا ہے، جو تاریخ کے شعوری اور بصیرت افروز مطالعے سے آگے بڑھتی ہے، اور مصلحین و انقلابی قائدین کی مشترکہ کاوشوں کے ذریعے فرد کی تربیت اور معاشرے کی اجتماعی قوتِ ارادی کی بیداری پر منتج ہوتی ہے۔ یہی راستہ امت کو مایوسی، انتشار اور فکری بھٹکاؤ سے نکال کر ان ابدی الٰہی و انسانی اقدار کی رہنمائی میں عزم، اعتماد اور سربلندی کی منزل تک پہنچاتا ہے، جو کبھی انسان کو راہِ حق سے بھٹکنے نہیں دیتیں۔