واپس
ثأر الحسين۔۔ذاتی انتقام سے تہذیبی جدوجہد تک

ثأر الحسين۔۔ذاتی انتقام سے تہذیبی جدوجہد تک

شیخ مصطفیٰ الہجری

زیارتِ امام حسینؑ میں جن اہم اوصاف کا بارہا ذکر ہوا ہے، ان میں ایک وصف  (ثارُ اللہ)بھی ہے۔ اس حوالے سے چند اہم سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ مثلاً امام حسینؑ کو ایسے افراد نے شہید کیا تھا جن کی شناخت بھی معلوم تھی۔ ان میں سے بعض سے مختار ثقفی نے قصاص لیا، جبکہ باقی اپنی طبعی موت مر گئے۔ پھر امام حسینؑ کو (ثارُ اللہ) کیوں کہا جاتا ہے؟ اور اس خون کے بدلے کو اللہ تعالیٰ کی طرف کیوں منسوب کیا گیا ہے؟ ابتدا میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ لفظ (ثأر)کی لغوی بنیاد یہ ہے کہ کسی شخص کے قتل سے اس کے اولیاء اور اہلِ خانہ کے دلوں میں قاتل سے قصاص اور انتقام لینے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ اسلام سے پہلے عرب قوم اپنے مقتولین کے خون کا بدلہ لینے اور مجرم کا تعاقب کرنے میں سب سے بڑھ کر اہتمام کرتی تھی۔ قاتل کو چھوڑ دینا عیب سمجھا جاتا تھا۔ چنانچہ ان کے شاعر سموأل نے کہا ہے:

وما مات منّا سيدٌ حتفَ أنفهِ

ولا طلّ منّا حيث كان قتيلُ

یعنی ہم میں سے کوئی مقتول ایسا نہیں جس کا خون رائیگاں چلا گیا ہو، بلکہ ہم اس کا بدلہ ضرور لیتے ہیں۔

عربوں کا یہ بھی عقیدہ تھا کہ جب کوئی شخص قتل ہو جاتا ہے تو اس کی روح ایک پرندے کی شکل اختیار کر لیتی ہے جسے "ہامہ" کہا جاتا تھا۔ وہ مقتول کی قبر پر کھڑا ہو کر پکارتا رہتا کہ "مجھے سیراب کرو!" یعنی میرے قاتل کے خون سے مجھے سیراب کرو۔ ان کے عقیدے کے مطابق یہ پکار اس وقت تک جاری رہتی تھی جب تک مقتول کے اہلِ خانہ اس کے قاتل سے بدلہ نہ لے لیتے۔

عرب جاہلیت کے دور میں خون کے بدلے میں حد سے بڑھ جاتے تھے۔ وہ صرف قاتل سے قصاص لینے پر اکتفا نہیں کرتے تھے۔ مثال کے طور پر مُہلہِل نے اپنے بھائی کُلیب کے قتل کے بدلے میں قبیلہ بکر بن وائل کے بے شمار افراد کو قتل کیا، یہاں تک کہ وہ اس قبیلے کو تقریباً صفحۂ ہستی سے مٹا دیتا۔پھر اسلام آیا اور اس نے قصاص کے معاملے میں عدل اور مساوات کا اصول قائم کیا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: (وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهِ سُلْطَانًا فَلَا يُسْرِفْ فِي الْقَتْلِ إِنَّهُ كَانَ مَنْصُورًا) (سورہ الأسراء: 33)

"اور جس جان کو اللہ نے محترم قرار دیا ہے اسے ناحق قتل نہ کرو۔ اور جو شخص مظلومانہ قتل کیا جائے، ہم نے اس کے وارث کو قصاص کا حق دیا ہے، لیکن وہ قتل میں حد سے تجاوز نہ کرے، بے شک وہ مدد یافتہ ہے۔"

اللہ تعالیٰ نے مقتول کے ولی کو صرف قاتل سے قصاص لینے کا حق دیا، نہ کہ اس کے قبیلے یا خاندان کے دوسرے افراد سے۔ اسی طرح مقتول کے قبیلے کے دیگر افراد کو بھی قصاص کا یہ حق نہیں دیا گیا۔البتہ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ خون کے بدلے کا معاملہ سماجی پہلو سے بالکل خالی ہو۔ جاہلیت کے دور میں عرب یہ سمجھتے تھے کہ قبیلے کے ایک فرد پر حملہ پورے قبیلے پر حملہ ہے، اسی لیے وہ قاتل کے بجائے اس کے پورے قبیلے سے انتقام لینے کو جائز سمجھتے تھے۔ اس زمانے میں قصاص صرف مقتول کے ولی کا حق نہیں تھا، بلکہ مقتول کے قبیلے کا ہر فرد قاتل کے قبیلے کے کسی بھی شخص کو قتل کرنے کا خود کو حق دار سمجھتا تھا۔

اسلام نے ان دونوں امور میں واضح فرق قائم کیا۔ اس نے یہ اصول مقرر کیا کہ ناحق قتل پورے معاشرے پر حملہ ہے، نہ کہ صرف مقتول کے خاندان پر، لیکن قصاص کا حق صرف مقتول کے اولیائے دم کے لیے مخصوص ہے۔اسی تصور سے موجودہ فوجداری قوانین میں حقِ عام کا نظریہ وجود میں آیا۔ چنانچہ اگر مقتول کے ورثاء اپنے ذاتی حق سے دست بردار بھی ہو جائیں، تب بھی معاشرے کا ایک مستقل حق باقی رہتا ہے، جس کی بنیاد پر قاتل کو بعض سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ آج کی قانونی اصطلاح میں اسے حقِ عام کہا جاتا ہے۔اس معاشرتی حق کی بنیاد قرآنِ کریم میں بھی موجود ہے، جہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:(مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ كَتَبْنَا عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنَّهُ مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا) المائدة: 32.

اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ حکم مقرر کیا کہ جس نے کسی جان کو، بغیر اس کے کہ اس نے کسی جان کا قصاص لیا ہو یا زمین میں فساد برپا کیا ہو، قتل کیا تو گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا۔

پس معاشرے کے کسی ایک فرد پر حملہ، درحقیقت پورے معاشرے پر حملہ ہے۔ یہاں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اگر معاشرۂ توحید کے کسی ایک فرد پر ظلم کیا جائے تو پورا معاشرہ اس کے خون کا مطالبہ کرنے کا ذمہ دار ہے۔ پھر اگر یہ مظلوم اس معاشرے کا قائد اور اپنے زمانے کا امام ہو، یعنی امام حسینؑ، تو اس کی اہمیت کہیں بڑھ جاتی ہے۔البتہ امام حسینؑ کے خون کا بدلہ صرف ان کے قاتلوں کو قتل کرنے تک محدود نہیں، کیونکہ یہ حکم تو ایک عام شرعی قانون ہے جو امام حسینؑ کے ساتھ مخصوص نہیں۔ اسی طرح اس سے مراد آخرت میں مجرموں کو سزا دینا بھی نہیں، کیونکہ یہ بھی ایک عمومی الٰہی قانون ہے، نہ کہ صرف امام حسینؑ سے متعلق۔

لہٰذا یہاں ثأر کا مفہوم کچھ اور ہے۔ اس لیے کہ امام حسینؑ کے خون کا ولی خود اللہ تعالیٰ ہے، اور وہی ان کے خون کا بدلہ لینے والا ہے۔ پس سوال یہ ہے کہ یہاں ثأر سے مراد کیا ہے؟حقیقت یہ ہے کہ یہ کشمکش کسی شخص سے ذاتی انتقام کی نہیں، بلکہ ایک تہذیبی اور تمدنی معرکے کی ہے۔ اس لیے یہاں انتقام بھی کسی فرد سے نہیں، بلکہ اس مقصد، اس پیغام اور اس الٰہی مشن کے لیے ہے جس کی نمائندگی امام حسینؑ نے کی۔ نیز اس تہذیبی فکر اور باطل راستے کے خلاف ہے جو دینِ الٰہی اور اس کے پیغام کو مٹانے کے درپے تھا۔ لہٰذا اس خون کا بدلہ بھی جرم کی نوعیت اور اس قضیے کی حقیقت کے مطابق ہوگا؛ یعنی اس تہذیبی و فکری دھارے کے مقابلے میں جو اس الٰہی مشن پر حملہ آور ہوا تھا۔

کربلا درحقیقت دو محاذوں اور دو تہذیبوں کے درمیان ایک عظیم معرکہ تھا، ایک طرف اسلام تھا اور دوسری طرف جاہلیت۔ کربلا جاہلیت کی اس یلغار کے خلاف ایک دلیرانہ مزاحمت تھی جو اسلامی معاشرے کے قلب تک پہنچنا چاہتی تھی۔ امام حسینؑ نے اس کا حقیقی اور بھیانک چہرہ بے نقاب کر کے اس پیش قدمی کو روکنے کی کوشش کی۔

سیدالشہداء امام حسینؑ کے خون کا حقیقی انتقام صرف ان کے قاتلوں کو جسمانی سزا دینا نہیں، بلکہ ان مقاصد کو عملی جامہ پہنانا ہے جن کے لیے امام حسینؑ، ان کے اہلِ بیتؑ اور ان کے باوفا اصحاب نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ یہ مقاصد زندگی کے ہر شعبے میں اسلام کو اپنا نظامِ حیات بنانا، اور اس معاصر جاہلیت کو مسترد کرنا ہیں جو اسلام کی جگہ لینے کی کوشش کر رہی ہے۔ نیز اسلام کو ایک زندہ اور شعوری ثقافت کے طور پر اپنانا، نہ کہ محض ایک ایسی اندھی روایت کے طور پر جس پر ہم نے آنکھ کھولی ہو۔اللہ تعالیٰ نے اس دعوت کی کامیابی کی ضمانت دی ہے، جس کے لیے امام حسینؑ نے جامِ شہادت نوش کیا، تاکہ اہلِ ایمان کے دلوں میں انجامِ خیر پر یقین اور اطمینان پیدا ہو، اور وہ حق کی دشوار راہ پر ثابت قدم رہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَنْصُرُوا اللَّهَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ) (سورہ محمد: 7) "اے ایمان والو! اگر تم اللہ کے دین کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم جما دے گا۔"

اور فرمایا:(إِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ) (سورہ غافر: 51) "یقیناً ہم اپنے رسولوں اور ایمان والوں کی دنیا کی زندگی میں بھی مدد کرتے ہیں اور اس دن بھی جب گواہ کھڑے ہوں گے۔"

لہذا، ہم پر لازم ہے کہ امام حسینؑ کے خون کا بدلہ ان کے راستے پر چل کر، باطل اور عصرِ حاضر کی جاہلیت کے مقابل ڈٹ کر، اور ہر اس تہذیبی فکر کی مزاحمت کر کے لیں جو ہمیں امام حسینؑ کے اصولوں اور اقدار سے دور کرنا چاہتی ہے۔امام حسینؑ حق کا وہ معیار ہیں جو ہمیشہ حق کے ساتھ رہتا ہے، جدھر حق ہو اُدھر ہی ان کا موقف ہوتا ہے۔ یہی حقیقت ہمیں سمجھاتی ہے کہ شیعہ باطل کے مقابلے میں کیوں کھڑے ہوتے ہیں اور مظلوم کی حمایت کو اپنا دینی فریضہ کیوں سمجھتے ہیں، کیونکہ ان کی تربیت ہی امام حسینؑ کے خون کا بدلہ لینے کے جذبے پر ہوئی ہے۔

آئیے، امام حسینؑ کے سرخ پرچم، جو خونِ ناحق کے انتقام کی علامت ہے، کو اپنے لیے ایک حقیقی شعار بنائیں، ایسا شعار جو اس بات کا اعلان ہو کہ ہم عصرِ حاضر کی جاہلیت کا مقابلہ کر کے امام حسینؑ کے خون کا حقیقی بدلہ لینے کے خواہاں ہیں۔

شیئر: