واپس
بدلتی دنیا اور مسلمانوں کے لیے مستقبل سنوارنے کا موقع

بدلتی دنیا اور مسلمانوں کے لیے مستقبل سنوارنے کا موقع

الشيخ معتصم السيد أحمد

گزشتہ چند دہائیوں کے دوران مسلمانوں کو جو سب سے بڑا مسئلہ درپیس رہا وہ محض یہ نہیں تھا کہ وہ اپنے گرد موجود طاقتوں کے مقابلے میں کمزور تھے، بلکہ اصل المیہ یہ تھا کہ وہ ایک طویل عرصے تک اس تصور کے اسیر رہے کہ دنیا ان کے بغیر ہی نافقط مکمل ہو چکی ہے، بلکہ اس کے اصول و ضوابط بھی حتمی طور پر طے کیے جا چکے ہیں، لہذا اب ان کا کردار صرف دوسروں کے تشکیل دیے ہوئے نظام کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کرنا، اس کے اداروں میں جگہ بنانا اور اس کے اندر اپنے لیے زیادہ سے زیادہ بہتر مقام تلاش کرنا ہے۔ایسے میں احساسِ بے بسی، حقیقی کمزوری سے بھی زیادہ گہرا ہوتا گیا،کیونکہ جو قوم کسی مختلف اور شاندار مستقبل کا تصور کرنے کی صلاحیت کھو دیتی ہے، وہ حال کی اسیر بن جاتی ہے، خواہ اس کے پاس قوت کے کتنے ہی وسائل کیوں نہ موجود ہوں۔

لیکن آج جو دنیا ہمارے سامنے ہے، وہ اس دنیا سے یکسر مختلف ہے جس کی صورتِ گری سرد جنگ کے خاتمے کے بعد ہوئی تھی۔ بہت سے ایسے تصورات اور مفروضات، جو کبھی ناقابلِ تغیر حقیقت سمجھے جاتے تھے، اب متزلزل ہونے لگے ہیں۔ طاقت کے مراکز پھیل  رہے ہیں، عالمی معیشت گہری اور بنیادی تبدیلیوں سے گزر رہی ہے، سلامتی کا تصور بھی نئی صورت اختیار کر رہا ہے، اور اب محض عسکری قوت ہی بڑی طاقتوں کے مطلوبہ نتائج کی ضمانت دینے کے لیے کافی نہیں رہی۔

دنیا پر حالیہ ایران۔امریکہ جنگ نے ان تبدیلیوں کے ایک اہم پہلو کو نمایاں کر دیا ہے۔ یہاں مقصود یہ فیصلہ کرنا نہیں کہ اس جنگ میں کون فاتح رہا اور کون شکست خوردہ، کیونکہ سیاسی اعتبار سے یہ جنگ ابھی اپنے اختتام کونہیں پہنچی، جبکہ اس کے مستقل خاتمے کے لیے ہونے والے مذاکرات بھی تاحال تعطل کا شکار ہیں۔ مزید یہ کہ اس جنگ کی انسانی اور معاشی قدر و قیمت نے خطے کے متعدد ممالک اور عوام کو متاثر کیا ہے۔

تاہم ایک حقیقت اب واضح ہو چکی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اب ایسا میدانِ کارزار نہیں رہا جہاں کوئی بیرونی طاقت بلاخوف و خطر اپنی مرضی سے کارروائی کر سکے اور اسے اس کی کوئی وسیع قیمت ادا نہ کرنا پڑے۔ بلکہ اب اس خطے میں پیدا ہونے والی بے چینی اور اضطراب بہت تیزی سے توانائی، عالمی تجارت، قیمتوں اور رسد کے بین الاقوامی سلسلوں کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہ تبدیلیاگر چہ شعور اور آگاہی کے اعتبار سے نہایت اہم ہے تاہم اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ مسلمان اچانک دنیا کی سب سے طاقتور قوت بن گئے ہیں، اور نہ ہی یہ کہ بڑی طاقتوں کا دور ختم ہو چکا ہے۔بلکہ اس کی اصل اہمیت یہ ہے کہ یہ اس سے بھی کہیں زیادہ خطرناک سوچ کو غلط ثابت کرتی ہے کہ تاریخ اور طاقت کے توازن ہمیشہ ایک جیسے رہتے ہیں، جو آج طاقتور ہے وہ ہمیشہ طاقتور ہی رہے گا، اور جو قومیں کسی دور میں تاریخ کے فعال کردار سے باہر ہو گئی ہیں، وہ دوبارہ اس کردار میں واپس نہیں آ سکتیں۔تاریخ کا سفر اس انداز میں نہیں ہوتا۔ طاقتیں عروج و زوال سے گزرتی ہیں، اتحاد بدلتے رہتے ہیں، معیشت سیاست کی نئی تشکیل کرتی ہے، ٹیکنالوجی طاقت کے مراکز اور ذرائع کو ایک میدان سے دوسرے میدان میں منتقل کر دیتی ہے، اور جو چیز ایک دور میں ناممکن دکھائی دیتی ہے، وہ دوسرے دور میں ممکن ہو سکتی ہے۔

لہٰذا اصل مسئلہ یہ نہیں کہ مستقبل کے دروازے مستقل بند رہتے ہیں، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ جو لوگ تبدیلی کے لمحے کے لیے خود کو تیار نہیں کرتے، وہ ایسے میں ایک دن یہ محسوس کر سکتے ہیں کہ دنیا ان کے گرد بدل چکی ہے، مگر وہ خود وہیں کھڑے ہیں جہاں پہلے تھے۔پس یہیں سے مسلمانوں کے لیے ایک نئے سوال کا آغاز ہونا چاہیے کہ کیا ہم ایک ایسے حقیقی موقع کے بلکل سامنے کھڑے ہیں کہ مسلمان مستقبل کی تشکیل میں اپنا کردار دوبارہ حاصل کریں، یا ہم صرف پرانے نظام کو متزلزل ہوتے دیکھتے رہیں گے اور پھر وہی غلطی دہرائیں گے کہ اس کے بعد قائم ہونے والے نئے نظام کی تعمیر کا کام دوسروں کے سپرد کر دیں؟

سب سے خطرناک بات یہ ہو سکتی ہے کہ ہم موجودہ عالمی تبدیلیوں کی تعبیر محض جذبات کی بنیاد پر کریں۔ کسی عسکری معرکے کے بعد احساسِ عزت و وقار بیدار ہو سکتا ہے، کسی بڑی طاقت کی ہیبت میں کمی سے حوصلے بلند ہو سکتے ہیں، لیکن تہذیبیں صرف بلند حوصلوں اور جذباتی کیفیت سے تشکیل نہیں پاتیں۔قوت کا احساس یقیناً اہم ہے، کیونکہ یہی احساس انسان کو مایوسی کی کیفیت سے باہر نکالتا ہے۔ لیکن اگر یہ احساس علم، معیشت، نظم و تنظیم اور پیداوار کے ایک مضبوط منصوبے میں تبدیل نہ ہو تو اس کا انجام بھی وہی ہو سکتا ہے جہاں سے اس کا آغاز ہوا تھا، جذبات اور ولولے کی ایک طاقتور لہر، اور اس کے بعد طویل عرصے تک پھر سے زوال و پس ماندگی۔

اسی لیے اس مرحلے سے ہمیں سب سے اہم سبق یہ سیکھنا چاہیے کہ امتِ مسلمہ وسائل اور امکانات سے اتنی محروم نہیں، جتنی ان امکانات کو ایک مشترکہ مقصد اور جامع منصوبے کے تحت یکجا کرنے کی صلاحیت سے محروم ہے۔ عالمِ اسلام کے پاس نہایت اہم جغرافیائی محلِ وقوع، بے پناہ قدرتی وسائل، وسیع منڈیاں، نوجوان آبادی، اور صنعت، مالیات، ٹیکنالوجی اور توانائی کے شعبوں میں متنوع تجربات موجود ہیں۔

معاشی اعتبار سے بھی اسلامی تعاون تنظیم کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ حالیہ برسوں میں بعض ادوار کے دوران اس کے رکن ممالک کی معیشتوں نے عالمی اوسط سے زیادہ شرحِ نمو حاصل کی ہے۔ تاہم دستیاب امکانات اور حقیقی معاشی انضمام و پیداواریت کی موجودہ سطح کے درمیان ایک واضح خلا اب بھی موجود ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک بہتر اسلامی مستقبل کی بات محض کوئی رومانوی خواب یا بے بنیاد خیال نہیں، لیکن یہ ایسا مقدر بھی نہیں جو خود بخود حقیقت کا روپ دھار لے گا۔

محض تیل کسی قوم میں ترقی و خوش حالی پیدا نہیں کر سکتا، کثرتِ آبادی خود بخود قوت میں تبدیل نہیں ہوتی، اور جغرافیائی محلِ وقوع بھی ازخود سیاسی و عالمی اثر و رسوخ کا ذریعہ نہیں بن جاتا۔ یہ تمام عناصر اسی وقت حقیقی قوت کا سرچشمہ بنتے ہیں جب انہیں علم، مؤثر انتظام، پیداوار اور آزادانہ فیصلہ سازی کے ایک منظم نظام میں شامل کیا جائے۔ بصورتِ دیگر، یہی دولت بیرونی مداخلت کا سبب بن سکتی ہے، اہم جغرافیائی محلِ وقوع میدانِ کشمکش بن سکتا ہے، اور بڑی آبادی دوسروں کی مصنوعات کے لیے محض ایک وسیع صارف منڈی بن کر رہ سکتی ہے۔اسی لیے عالمِ اسلام میں آنے والی اصل کشمکش محض ہتھیاروں کی جنگ نہیں ہوگی، بلکہ یہ وسائل رکھنے سے لے کر ان وسائل کو مؤثر انداز میں بروئے کار لانے کی صلاحیت حاصل کرنے تک کے سفر کی جنگ ہوگی۔

حالیہ جنگوں نے بھی یہ حقیقت واضح کر دی ہے کہ معیشت جنگ کے پس منظر میں موجود کوئی ثانوی معاملہ نہیں، بلکہ قومی سلامتی کا بنیادی حصہ ہے۔ خلیج میں توانائی کی ترسیل کے راستوں میں جب اضطراب پیدا ہوا تو دنیا کے دور دراز خطوں میں بھی قیمتیں، منڈیاں، نقل و حمل اور صنعتی سرگرمیاں متاثر ہوئیں، اور بہت سے ممالک کو توانائی کے تحفظ اور رسد کے عالمی سلسلوں کے بارے میں اپنی حکمتِ عملی پر ازسرِنو غور کرنا پڑا۔

اس تجربے کو صرف تیل کی اہمیت کے ثبوت کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے، بلکہ اسے اس بات کی تنبیہ بھی سمجھنا چاہیے کہ عالمِ اسلام کو ایک ایسے باہمی مربوط معاشی نظام کی تعمیر کی ضرورت ہے جو زیادہ مضبوط، خود کفیل اور بیرونی منڈیوں کے اتار چڑھاو کے مقابلے میں کم کمزور ہو۔

تو پھر سوال یہ ہے کہ اسلامی دنیا کے بہت سے ممالک کے درمیان باہمی تجارت اپنی حقیقی استعداد سے کہیں کم کیوں ہے؟ ایک مسلم ملک ایسی چیزیں دوسرے ملک سے کیوں درآمد کرتا ہے جنہیں کوئی دوسرا مسلم ملک خود پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے؟ ہماری جامعات، صنعتیں، بندرگاہیں، سرمایہ کاری اور مالی وسائل ایسی باہم مربوط معاشی شراکت داری میں کیوں تبدیل نہیں ہو پاتے کہ باہمی تعاون محض کانفرنسوں میں کی جانے والی سیاسی گفتگو نہ رہے، بلکہ ایک حقیقی معاشی ضرورت بن جائے؟

خود اسلامی تعاون تنظیم سے وابستہ ادارے بھی اس امر کی نشاندہی کرتے رہے ہیں کہ نقل و حمل اور لاجسٹک رابطوں میں موجود رکاوٹیں تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان تجارت اور معاشی انضمام کی راہ میں حائل ہیں۔ یہ صورتِ حال اس حقیقت کو آشکار کرتی ہے کہ مسلمانوں کے مستقبل کی تعمیر میں اہم کردار محض خطیبوں یا فوجوں کا نہیں ہوگا، بلکہ وہ انجینئر ادا کرے گا جو بندرگاہوں کو باہم مربوط کرے، وہ عالم و محقق جو علم و معرفت پیدا کرے، وہ صنعت کار جو نئی صنعتیں قائم کرے، وہ یونیورسٹی جو تحقیق کو ٹیکنالوجی میں ڈھالے، اور وہ ریاست جو اپنے ہمسایہ ممالک کو محض تنازع کے فریق نہیں بلکہ ترقی کے شراکت دار سمجھے۔

اسی طرح یہ نیا دور ہمیں قوت کے مفہوم پر بھی ازسرِنو غور کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔ ہماری سیاسی ثقافت میں عموماً طاقت کو ہتھیاروں تک محدود سمجھا جاتا رہا ہے، جبکہ عصرِ حاضر کے تجربات نے واضح کر دیا ہے کہ حقیقی قوت ایک وسیع اور مربوط نظام کا نام ہے؛ جس میں خوراک، توانائی، ٹیکنالوجی، معلومات، ابلاغ، کرنسی، صنعت، ادویات، مصنوعی ذہانت اور بحران کے وقت معاشرے کو انتشار و انہدام سے محفوظ رکھنے کی صلاحیت سب شامل ہیں۔

ایک ریاست کے پاس جدید ترین میزائل تو ہو سکتے ہیں، لیکن اگر اس کی خوراک، ادویات اور بنیادی ٹیکنالوجی دوسروں کے ہاتھ میں ہوں تو وہ حقیقی معنوں میں کمزور ہی رہے گی۔ اسی طرح کسی ملک کے پاس بے پناہ دولت اور وسائل موجود ہوں، لیکن اگر اس کی معیشت ان ایسے نظاموں سے باہر مؤثر انداز میں کام کرنے سے قاصر ہو جن پر اس کا اپنا اختیار نہیں، تو اس کی فیصلہ سازی اور خود اختیاری بھی محدود رہتی ہے۔

اکیسویں صدی میں خود مختاری کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی قوم دنیا سے اپنے تعلقات منقطع کر لے، کیونکہ ایسا نہ ممکن ہے اور نہ ہی مطلوب۔ حقیقی خود مختاری یہ ہے کہ کوئی ملک عالمی تعلقات میں اس حیثیت سے داخل ہو کہ اس کے پاس متبادل راستے اور متبادل ذرائع موجود ہوں۔

حقیقی انحصار اس وقت شروع ہوتا ہے جب کسی ریاست کے سامنے صرف ایک دروازہ، ایک ہی ذریعۂ رسد، ایک ہی اتحادی، ایک ہی منڈی اور ٹیکنالوجی کا صرف ایک ہی ماخذ باقی رہ جائے۔یہی وجہ ہے کہ دنیا میں طاقت کے مراکز کی بڑھتی ہوئی کثرت مسلمانوں کے لیے ایک اہم موقع فراہم کرتی ہے۔ جب عالمی طاقت کسی ایک مرکز تک محدود نہ رہے بلکہ مختلف مراکز میں تقسیم ہو جائے تو درمیانی درجے کی ریاستوں کے لیے بھی اپنے تعلقات کو دانش مندی سے منظم کرتے ہوئے اپنے لیے زیادہ وسیع گنجائش پیدا کرنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

مقصد یہ نہیں ہونا چاہیے کہ مغرب کی محتاجی ختم کرکے مشرق کی محتاجی اختیار کر لی جائے، یا ایک محور سے نکل کر دوسرے محور کا حصہ بناجائے، بلکہ ہمارا اصل مقصد ایسی خود مختاری کا حصول ہونا چاہیے جو ہر ملک کو اپنے مفادات، برابری اور باہمی احترام کی بنیاد پر سب کے ساتھ تعاون کرنے کے قابل بنائے۔لیکن جس سب سے بڑی تبدیلی کی ہمیں ضرورت ہے، وہ محض سیاسی یا معاشی نہیں، بلکہ نفسیاتی اور تہذیبی بھی ہے۔گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران مسلم معاشروں کے وسیع طبقات میں یہ تصور گہرا ہوتا چلا گیا ہے کہ ترقی ہمیشہ باہر سے آتی ہے، اور مسلمان تہذیب کے اچھے صارف تو بن سکتے ہیں، مگر اس کی تشکیل اور تعمیر میں حقیقی شریک نہیں بن سکتے۔یہ تصور غربت سے بھی زیادہ خطرناک ہے، کیونکہ غریب انسان دولت مند بن سکتا ہے، لیکن جو شخص اپنے آپ کو ہی بے بس اور عاجز سمجھ بیٹھے، ممکن ہے وہ کوشش کرنے کی زحمت ہی نہ کرے۔

اسی لیے بعض مسلم اقوام میں جس کیفیت کو ہم روح کی واپسی کہہ سکتے ہیں، اسے بہت احتیاط اور گہرائی سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ روح کی واپسی کا مطلب یہ نہیں کہ ہمیں یہ احساس ہونے لگے کہ ہم اپنے مخالفین کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، بلکہ اس کا اصل مفہوم یہ ہے کہ ہم اپنی ذات، اپنی قوم اور اپنی صلاحیتوں کو تعمیر کرنے کی قوت پر دوبارہ اعتماد حاصل کریں۔ عزت و سربلندی یہ نہیں کہ ہم دوسرے کی شکست پر خوش ہوں، بلکہ یہ ہے کہ ہم اپنے لیے ایسا مستقبل تعمیر کرنے کی صلاحیت پیدا کریں جو دوسروں کی مرضی کا محتاج نہ ہو۔

اس لیے نشاۃِ ثانیہ کا آغاز اس سوال سے نہیں ہوتا کہ ہم دوسروں کو کیسے شکست دیں؟ بلکہ اس سوال سے ہوتا ہے کہ ہم ایسی امت کیسے بنیں جسے دوسرے نظرانداز نہ کر سکیں؟

یہ فرق نہایت بنیادی اہمیت رکھتا ہے؛ کیونکہ جو قوم اپنے مخالف کو ہی اپنے منصوبے کا مرکز بنا لیتی ہے، وہ مزاحمت کرتے ہوئے بھی اسی سے وابستہ رہتی ہے۔ اس کے برعکس، جو قوم اپنی تعمیر و ترقی کو اپنے اجتماعی منصوبے کا محور بنا لیتی ہے، وہ طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے کی صلاحیت پیدا کر لیتی ہے، بغیر اس کے کہ جنگ کو اپنی دائمی منزل یا مقصد بنا لے۔

اسی لیے ایک روشن اسلامی مستقبل کا تصور ہمیں کسی ایسی نئی سلطنت یا عالمی سلطنت کے قیام کی صورت میں نہیں کرنا چاہیے جو دوسروں سے غلبے اور اقتدار کی کشمکش میں الجھ جائے، بلکہ اسے ایک ایسے تہذیبی و تمدنی میدان کے طور پر دیکھنا چاہیے جہاں مسلمان علم، معیشت، اقدار اور انسانی زندگی کے مؤثر نمونے تخلیق کرنے کی اپنی صلاحیت دوبارہ حاصل کریں۔

دنیا کو ایسی نئی طاقت کی ضرورت نہیں جو ماضی کی طاقتوں کی غلطیوں کو نئے انداز میں دہرائے، بلکہ اسے ایسے تہذیبی نمونے کی ضرورت ہے جو ترقی اور انصاف، ٹیکنالوجی اور اخلاق، طاقت اور ذمہ داری کے درمیان توازن قائم کر سکے۔یہاں اسلام کے پاس دنیا کو دینے کے لیے ایک اہم پیغام موجود ہے۔ آج دنیا جس بحران سے دوچار ہے، وہ محض پیداوار اور وسائل کا بحران نہیں بلکہ مقصد و معنی کا بحران بھی ہے۔ جدید تہذیب نے حیرت انگیز تکنیکی ترقی تو حاصل کر لی ہے، لیکن وہ نہ جنگوں کا سدباب کر سکی، نہ دولت کی منصفانہ تقسیم یقینی بنا سکی، اور نہ ہی انسان کو اس کی زندگی کے مقصد اور وجود کی غایت کے بارے میں کوئی حتمی جواب دے سکی۔

اگر مسلمان مستقبل کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں تو صرف یہ کافی نہیں ہوگا کہ وہ موجودہ عالمی نظام کی زیادہ بہتر انداز میں نقل کریں، بلکہ انہیں اس میں انسان، عدل اور ذمہ داری کے بارے میں اپنی فکری و اخلاقی بصیرت کا بھی اضافہ کرنا ہوگا۔

لیکن یہ سب کچھ اندر سے آغاز کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔ ایسی قوم کا کوئی روشن مستقبل نہیں ہو سکتا جو اپنی توانائیاں فرقہ وارانہ اور قومی تعصبات کی کشمکش میں صرف کر دے، نہ ان معاشروں کا جو سیاسی اختلاف کو ایک دوسرے کو مٹانے کا سبب بنا لیں، اور نہ ان ریاستوں کا جو اپنے باہمی تنازعات پر اپنے نوجوانوں کی تعلیم و تربیت اور ان کی فکری صلاحیتوں سے زیادہ وسائل صرف کریں۔

موجودہ عالمی تبدیلیاں مسلمانوں کو شاید سب سے اہم موقع یہ فراہم کر رہی ہیں کہ وہ دشمن، دوست اور ترجیحات کے اپنے تصورات کو ازسرِنو مرتب کریں۔ ہر داخلی اختلاف بقا کی جنگ نہیں ہوتا، ہر تنوع وحدت کے لیے خطرہ نہیں ہوتا، اور اتحاد کا مطلب یہ بھی نہیں کہ سب لوگ ایک ہی سانچے میں ڈھل جائیں۔ طاقتور امت وہ ہے جو اپنے بنیادی اور مشترکہ مفادات کے وسیع دائرے میں اپنے اختلافات کو حکمت کے ساتھ سنبھالنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔

لہٰذا ہم نہ تاریخ کےکسی اختتام کے روبرو کھڑے ہیں اور نہ ہی کسی ایسے اسلامی دور کےنقطہ آغاز پر جس کے نتائج پہلے ہی سے طے شدہ ہوں۔بلکہ ہم تاریخ کے ایک ایسے سیال اور تغیر پذیر مرحلے سے گزر رہے ہیں جس میں پرانے یقینی تصورات اپنی گرفت کھو رہے ہیں، جبکہ نئے تصورات ابھی پوری طرح مستحکم نہیں ہوئے۔ایران۔امریکہ جنگ، عالمی معیشت میں پیدا ہونے والا اضطراب، طاقت کے کئی مراکز کا ابھرنا، توانائی اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ہونے والی تبدیلیاں،یہ سب اس بات کی علامات ہیں کہ دنیا اپنے آپ کو ازسرِنو ترتیب دے رہی ہے، نہ کہ اس نے اپنی کوئی حتمی شکل اختیار کر لی ہے۔

تاہم اس وقت بھی جنگ کے معاشی اثرات بدستور بھاری ہیں اور خطے کی معاشی ترقی کو بڑے خطرات لاحق ہیں۔ اس لیے حقیقت پسندانہ امید کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ہم موجودہ بحرانوں اور مشکلات سے آنکھیں بند کر لیں؛ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم مشکلات کو حقیقت کے طور پر تسلیم کرتے ہوئے ان کے اندر موجود امکانات کو بھی پہچانیں۔البتہ تاریخ کے ایسے تغیر پذیر اور غیر یقینی ادوار میں ہمیشہ انہی اقوام کے لیے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں جو واضح وژن اور دور اندیشی رکھتی ہوں۔آج مسلمانوں کو کسی سیاسی معجزے کے انتظار کی ضرورت نہیں، بلکہ اس سوچ سے آزادی حاصل کرنے کی ضرورت ہے کہ دنیا کی تشکیل میں ان کا کردار ختم ہو چکا ہے۔ تاریخ کے اصول کسی قوم کو ہمیشہ کے لیے برتری کا حقدار قرار نہیں دیتے، اور نہ کسی قوم کو ہمیشہ کے لیے پسماندگی کی سزا دیتے ہیں۔ اقوام اسی وقت آگے بڑھتی ہیں جب وہ علم حاصل کرتی ہیں، پیداوار بڑھاتی ہیں، اپنی قوتوں کو منظم کرتی ہیں، اپنی غلطیوں کا جائزہ لیتی ہیں اور اپنے مقاصد کا واضح شعور رکھتی ہیں۔

اسی لیے ہم مستقبل کی طرف امید کے ساتھ دیکھ سکتے ہیں؛ اس لیے نہیں کہ راستہ آسان ہو گیا ہے، بلکہ اس لیے کہ راستہ ایک بار پھر کھل گیا ہے۔وہ روشن مستقبل جس کی ہم امید رکھتے ہیں، محض اس لیے نہیں آئے گا کہ کوئی بڑی طاقت کمزور پڑ گئی ہے، یا اس لیے کہ کوئی جنگ ہمارے حق میں ختم ہو گئی ہے؛ بلکہ اس وقت آئے گا جب ہم یہ سمجھیں گے کہ دنیا میں آنے والی تبدیلی نے ہمارے سامنے ایک موقع رکھا ہے، اور اب ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اسے ضائع نہ ہونے دیں۔

اس موقع سے کماحقہ استفادہ اس عملی جد و جہد کا مرہوں منت ہے کہ جب اعتماد علم میں ڈھل جائے، جذبات ایک عملی منصوبے کی صورت اختیار کر لیں، دولت پیداوار کا ذریعہ بن جائے، اختلاف تنوع میں تبدیل ہو جائے، اور مسلمانوں کے باہمی تعاون کا سفر محض نعروں سے نکل کر مشترکہ مفادات اور علم کے ایک مضبوط جال تک پہنچ جائے، تب ہی ہم یہ کہنے کے قابل ہوں گے کہ امت محض ایک نئی دنیا کو دیکھنے کے لیے بیدار نہیں ہوئی، بلکہ اس نئی دنیا کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالنے کے لیے بیدار ہوئی ہے۔

شیئر: