واپس
جب خواہش معبود بن جائے کہ اللہ کی مرکزیت اور انسان کی خودی سے آزادی

جب خواہش معبود بن جائے کہ اللہ کی مرکزیت اور انسان کی خودی سے آزادی

شیخ معتصم السید احمد

انسان کے لیے اس سے زیادہ خطرناک صورتِ حال شاید یہ نہیں کہ وہ اپنی زبان سے اللہ کے وجود کا انکار کر دے، بلکہ اس سے کہیں زیادہ خطرناک یہ ہے کہ وہ نظری طور پر اللہ پر ایمان رکھتا ہو، لیکن عملی زندگی میں اس طرح بسر کرے گویا اس کی اپنی ذات ہی آخری مرجع اور فیصلہ کن معیار ہے، وہی حق و باطل، خیر و شر، اور قابلِ قبول و ناقابلِ قبول امور کا تعین کرتی ہے۔ ممکن ہے انسان کی زندگی میں اللہ کا نام موجود رہے، نماز، دعا اور دینی شعائر بھی برقرار رہیں، لیکن اس کے فیصلوں اور رویّوں کے گرد گردش کرنے والا حقیقی محور کوئی اور ہو کہ اس کا ذاتی مفاد، اس کا مقام و مرتبہ، اس کی خواہشات یا لوگوں کی اس سے خوشنودی۔

اسی حقیقت کو قرآن کریم نے نہایت بلیغ اور دقیق تعبیر میں یوں بیان کیا ہے: ﴿أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَوَاهُ﴾ مجھے بتاؤ جس نے اپنی خواہشات کو اپنا معبود بنا رکھا ہے؟

یہ آیت ایسے شخص کے بارے میں نہیں جو کوئی بت تراش کر اس کے سامنے سجدہ کرنے لگے، بلکہ اس سے زیادہ خطرناک نوعیت کی بت پرستی کی ایک صورت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ یعنی انسان کی خواہشِ نفس ایک ایسی باطنی قوت اور حاکمیت اختیار کر لے جو اس کی سمت متعین کرنے لگے۔ پھر جو کچھ وہ چاہتا ہے، وہی اس کے نزدیک معیار بن جاتا ہے، اور عقل اس کے بعد محض ان دلائل کی تلاش میں لگ جاتی ہے جو اس کی پہلے سے طے شدہ خواہش کو درست ثابت کر سکیں۔ خواہشِ نفس عموماً انسان سے یہ نہیں کہتی کہ میری عبادت کرو۔ بلکہ وہ اس سے کہتی ہے کہ وہی کرو جو تمہیں پسند ہے، پھر اس کے لیے کوئی خوب صورت اور قابلِ قبول نام تلاش کر لو۔

چنانچہ جب کوئی شرعی یا اخلاقی حکم اس کے مفاد کے مطابق ہو تو وہ کہتا ہے کہ یہی حق ہے۔ اور جب وہ حکم اس کی خواہش یا مصلحت کے خلاف ہو تو وہ کسی دوسرے تاویل و توجیہ کی تلاش شروع کر دیتا ہے۔ اگر لوگ اس کی تعریف کریں تو وہ ان سے محبت کرنے لگتا ہے، اور اگر وہ اس پر تنقید کریں تو اسے ان کی تنقید میں ظلم، ناواقفیت یا جہالت نظر آنے لگتی ہے۔اس طرح انسان رفتہ رفتہ خود کو اس مرکز میں لا کھڑا کرتا ہے جس کے گرد حقیقت کو گردش کرنا چاہیے، حالاں کہ صحیح صورتِ حال اس کے برعکس ہے کہ حقیقت مرکز ہو اور انسان اس کے گرد گردش کرے۔

یہیں سے اسلامی تصورِ حیات میں اللہ کی مرکزیت کا مفہوم واضح ہوتا ہے۔ اس کا مطلب محض یہ نہیں کہ انسان اپنی گفتگو میں اللہ کا نام کثرت سے لیتا رہے، بلکہ اصل مفہوم یہ ہے کہ جب مختلف خواہشات اور ترجیحات باہم متعارض ہوں تو انسان اپنی ارادی قوت کو اللہ ہی کی طرف لوٹائے،  اس کی رضا کو اپنی خواہش اور لوگوں کی خوشنودی پر مقدم رکھے،  اور جس حق کا اللہ نے حکم دیا ہے، جب وہ ذاتی مصلحت سے متصادم ہو تو مصلحت کے بجائے حق کو ترجیح دے۔

اسی لیے انسان کی حقیقی فکری و روحانی مرکزیت ہمیشہ ہم آہنگی اور موافقت کے مواقع پر ظاہر نہیں ہوتی، بلکہ تعارض اور کشمکش کے مواقع پر ظاہر ہوتی ہے۔جب انسان کی خواہش وہی ہو جو اللہ چاہتا ہے تو یہ جاننا مشکل ہوتا ہے کہ اس کی زندگی کا حقیقی محور کون ہے۔ لیکن جب ذاتی مفاد اور فرض ایک دوسرے کے مقابل آ کھڑے ہوں، شہرت اور اخلاص میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے، وابستگی اور عدل کے درمیان ترجیح دینی ہو، یا لوگوں کی رضا اور اللہ کی رضا میں سے کسی ایک کو مقدم کرنا ہو، تو اس وقت دل کا حقیقی رخ نمایاں ہو جاتا ہے۔

اسی حقیقت کی طرف قرآن کریم ان الفاظ میں متوجہ کرتا ہے کہ: ﴿وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَى * فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَى﴾ اور جو شخص اپنے رب کی بارگاہ میں پیش ہونے کا خوف رکھتا ہے اور نفس کو خواہشات سے روکتا ہے،اس کا ٹھکانا یقینا جنت ہے۔

قرآن نفس کو مٹانے یا خواہشات کو تباہ کرنے کا مطالبہ نہیں کرتا، بلکہ اس بات کو مسترد کرتا ہے کہ خواہشِ نفس ایسی حاکم قوت بن جائے جس سے کوئی بازپرس نہ ہو۔ مسئلہ یہ نہیں کہ انسان خواہش رکھتا ہے،  اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس کی ذاتی خواہش حق سے بلند اور اس کی اپنی مرضی حق کی حاکم بن جائے۔

یہاں سے اسلامی تصورِ حیات اور ان بعض رجحانات کے درمیان ایک اہم فرق بھی سامنے آتا ہے جو انسانی ’’انا‘‘ کو اس حد تک بڑھا دیتے ہیں کہ انسان اپنے شعور میں خود ہی قدر و قیمت کا آخری سرچشمہ بن جاتا ہے۔ انسان جتنا زیادہ اپنی ذات کو وجود کا مرکز بناتا جاتا ہے، اتنا ہی وہ یہ گمان کرنے لگتا ہے کہ وہ آزاد ہو رہا ہے،  حالاں کہ حقیقت میں ممکن ہے کہ وہ ایک ایسی غلامی میں داخل ہو رہا ہو جو کہیں زیادہ پوشیدہ اور لطیف ہے۔ کیونکہ پھر اسے ہر وقت اپنی قائم کردہ شخصیت اور اپنی خود ساختہ تصویر کی حفاظت کرنا پڑتی ہے، اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے کوشاں رہنا پڑتا ہے، اپنی ذات کو منوانا پڑتا ہے اور اپنے موقف اور رائے کی فتح کے لیے جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔ اس کے برعکس، جب اللہ انسان کی زندگی کا حقیقی محور بن جاتا ہے تو انسان اپنی قدر و منزلت سے محروم نہیں ہوتا، بلکہ اسے اس کا صحیح مقام معلوم ہوتا ہے۔وہ نہ تو کوئی ایسا ’’چھوٹا خدا‘‘ ہے جو اپنی خواہش کے مطابق حقیقت تخلیق کرتا پھرے، اور نہ ہی ایسا بے قدر و بے اختیار وجود ہے جو دوسروں میں اپنی شناخت کھو دے۔ بلکہ وہ اللہ کا بندہ ہے،  ایسا بندہ جسے اللہ نے عقل، ارادہ اور کرامت عطا کی ہے اور جسے اپنی ذات کی تربیت، تزکیہ اور بلندی کے لیے ذمہ دار بنایا ہے۔

یوں اللہ کی مرکزیت انسان کی آزادی کو ختم نہیں کرتی،  بلکہ اسے اس پوشیدہ غلامی سے نجات دیتی ہے جس میں انسان اپنی ہی خواہش، اپنی انا، اپنے مفاد اور اپنی خود ساختہ خواہشات کا اسیر بن جاتا ہے۔ حقیقی آزادی یہ نہیں کہ انسان اپنی خواہش کو اپنا حاکم بنا لے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی خواہش کا غلام بننے کے بجائے حق کا تابع اور اللہ کا بندہ بن جائے۔

دونوں راستوں کے درمیان فرق کمال کے حصول کی جستجو میں نہایت واضح ہو جاتا ہے۔ جو انسان اپنی ذات کو زندگی کا محور بنا لیتا ہے، وہ علم، کامیابی یا عبادت کی کسی حد تک پہنچ کر اپنے احساسِ ذات کو اس قدر بڑھا سکتا ہے کہ اسے یوں محسوس ہونے لگتا ہے گویا وہ اپنی منزلِ مقصود تک پہنچ چکا ہے۔ اس کے برعکس جس انسان کا محور اللہ ہو، وہ جوں جوں بلندی کی طرف بڑھتا ہے، اس کے سامنے افق مزید وسیع ہوتا چلا جاتا ہے،  کیونکہ جس کمال کی طرف وہ متوجہ ہے، اس کی کوئی انتہا نہیں۔

اسی لیے عالمِ ربانی جتنا زیادہ علم حاصل کرتا ہے، اتنا ہی اس میں تواضع اور فروتنی بڑھتی جاتی ہے،  کیونکہ وہ جتنا کچھ جانتا ہے، اتنا ہی اسے اپنے لاعلم ہونے کی وسعت کا ادراک ہوتا جاتا ہے۔ اس کے برعکس جو شخص اپنے علم کو اپنی ذات کی بڑائی کا ذریعہ بنا لیتا ہے، وہ چند محدود مسائل سیکھ کر یہ گمان کرنے لگتا ہے کہ اب وہ لوگوں کے لیے معیار بن گیا ہے۔ چنانچہ نہ وہ کسی کی نصیحت سن سکتا ہے، نہ تنقید قبول کر سکتا ہےاور نہ یہ کہنے کی استطاعت رکھتا ہے کہ میں نہیں جانتا۔

یہی معاملہ عبادت کا بھی ہے۔ انسان کثرت سے نماز، روزہ اور ذکر کر سکتا ہے، لیکن محض عبادت کی کثرت اس بات کی ضمانت نہیں کہ اللہ اس کی زندگی کا محور بن چکا ہے۔ ممکن ہے وہ اپنی عبادت کو لوگوں کے سامنے اپنی ایک مخصوص نیک شخصیت کا تاثر قائم کرنے کے لیے استعمال کرے، یا عبادت کی وجہ سے خود کو دوسروں سے برتر سمجھنے لگے، یا یہ خیال کرنے لگے کہ چونکہ وہ زیادہ عبادت کرتا ہے، اس لیے وہ دوسروں سے زیادہ احترام کا مستحق ہے۔

اس مقام پر وہ عبادت، جس کا مقصد اللہ کے سامنے انسان کی انا کو جھکانا اور چھوٹا کرنا تھا، اسی انا کو بڑھانے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔

اسی لیے امام زین العابدین علیہ السلام کی دعائے مکارم الاخلاق میں وارد ہونے والی نہایت عمیق دعا میں یہ الفاظ ملتے ہیں: (وَلَا تَرْفَعْنِي فِي النَّاسِ دَرَجَةً إِلَّا حَطَطْتَنِي عِنْدَ نَفْسِي مِثْلَهَا، وَلَا تُحْدِثْ لِي عِزًّا ظَاهِرًا إِلَّا أَحْدَثْتَ لِي ذِلَّةً بَاطِنَةً عِنْدَ نَفْسِي بِقَدَرِهَا)

اور لوگوں کے درمیان میرے مرتبے میں جب بھی اضافہ ہو، میرے نزدیک میری اپنی نظر میں اسی قدر مجھے پست کر دے، اور جب بھی میرے لیے کوئی ظاہری عزت پیدا ہو تو میرے باطن میں اپنی نظر میں اسی تناسب سے عاجزی و فروتنی پیدا فرما۔

خطرہ اس بات میں نہیں کہ لوگ انسان کا احترام کریں،  اصل خطرہ یہ ہے کہ یہ احترام باہر سے انسان کے اندر منتقل ہو جائے اور رفتہ رفتہ احساسِ برتری کی صورت اختیار کر لے۔ پھر انسان اس تصور پر یقین کرنے لگتا ہے جو دوسرے لوگوں نے اس کے بارے میں قائم کیا ہوتا ہے۔یہ مسئلہ عالم، داعی اور صاحبِ منبر کے لیے اور بھی زیادہ حساس ہو جاتا ہے،  کیونکہ ممکن ہے انسان زبان سے اللہ کی بات کر رہا ہو، لیکن اس کی گفتگو کا پوشیدہ محور اس کی اپنی ذات ہو کہ وہ دین کی دعوت دے، لیکن درحقیقت یہ چاہتا ہو کہ لوگوں کا تعلق اس کے اپنے شخصی وجود سے قائم رہے۔ وہ مکتبِ اہل بیت علیہم السلام کی خدمت کرے، لیکن جب کوئی کامیابی کسی دوسرے کے ہاتھوں حاصل ہو تو اسے ناگوار گزرے۔ وہ حق کا دفاع کرے، لیکن اپنی غلطی تسلیم کرنے پر آمادہ نہ ہو،  کیونکہ اس کی نظر میں اپنی غلطی تسلیم کرنا اس کے مقام و مرتبے کے لیے خطرہ بن چکا ہو۔یہیں داعی کو اپنے آپ سے نہایت صداقت اور بے لاگ انداز میں چند سوالات کرنے چاہییں کہ کیا میں حق کے پھیلنے پر اس وقت بھی خوش ہوتا ہوں جب اس کے ساتھ میرا نام نہ لیا جائے؟

کیا میں اپنے مخالف سے یہ کہہ سکتا ہوں تم درست تھے اور میں غلط تھا؟

کیا اللہ کی حدود کی پامالی سے مجھے اپنی ذاتی عزت مجروح ہونے کی نسبت زیادہ تکلیف ہوتی ہے؟

کیا میں لوگوں کو اللہ تک پہنچانا چاہتا ہوں، یا یہ چاہتا ہوں کہ لوگوں کی میرے محتاج ہونے کی کیفیت ہمیشہ برقرار رہے؟

یہ سوالات انسان کی حقیقی مرکزیت کو خطبوں، نعروں اور دعوؤں سے کہیں زیادہ واضح کر دیتے ہیں۔

امیرالمؤمنین علیہ السلام نے فرمایا: (مَنْ نَصَبَ نَفْسَهُ لِلنَّاسِ إِمَامًا فَلْيَبْدَأْ بِتَعْلِيمِ نَفْسِهِ قَبْلَ تَعْلِيمِ غَيْرِهِ، وَلْيَكُنْ تَأْدِيبُهُ بِسِيرَتِهِ قَبْلَ تَأْدِيبِهِ بِلِسَانِهِ، وَمُعَلِّمُ نَفْسِهِ وَمُؤَدِّبُهَا أَحَقُّ بِالْإِجْلَالِ مِنْ مُعَلِّمِ النَّاسِ وَمُؤَدِّبِهِمْ)

جو شخص اپنے آپ کو لوگوں کا پیشوا اور رہنما بنائے، اسے چاہیے کہ دوسروں کو تعلیم دینے سے پہلے اپنی ذات کو تعلیم دے، اور اپنی زبان سے دوسروں کی تربیت کرنے سے پہلے اپنے کردار و عمل کے ذریعے اپنی تربیت کرے۔ اپنی ذات کو تعلیم دینے اور اسے ادب سکھانے والا شخص اس شخص کی نسبت زیادہ تعظیم کا مستحق ہے جو لوگوں کو تعلیم و تربیت دیتا ہے۔پس عالم کی پہلی معرکہ آرائی ہمیشہ دوسروں کے افکار کے ساتھ نہیں ہوتی، بلکہ اپنی اس ذات کے ساتھ ہوتی ہے جو علم، دین اور منصب کو بھی اپنے وجود کے اثبات اور اپنی اہمیت منوانے کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔

اسی لیے امیرالمؤمنین علیہ السلام نے اپنی ذات کے بارے میں فرمایا: (إِنَّمَا هِيَ نَفْسِي أُرَوِّضُهَا بِالتَّقْوَى) یہ تو میری اپنی نفس ہے، جسے میں تقویٰ کے ذریعے تربیت دے رہا ہوں۔

چنانچہ نفس کو اس حال پر نہیں چھوڑا جا سکتا کہ وہ انسان کی رہنمائی اور قیادت کرنے لگے،  بلکہ اسے تربیت دینا ضروری ہے، یہاں تک کہ اس کی خواہش، اس کی ارادت اور اس کا اختیار حق کی سمت گامزن ہو جائے۔اللہ کی مرکزیت صرف اہلِ علم کی زندگی میں ظاہر نہیں ہوتی، بلکہ ہر انسان کی روزمرہ زندگی کی جزئیات میں بھی اس کا اظہار ہوتا ہے۔ یہ اس وقت نمایاں ہوتی ہے جب انسان حرام طریقے سے مال کمانے کا موقع پائے، مگر اسے چھوڑ دے،  جب اسے انتقام لینے کا پورا موقع حاصل ہو، مگر وہ عدل کا دامن تھامے،  جب وہ اپنی عزت و وقار کی مصنوعی تصویر بچانے کے لیے جھوٹ بول سکتا ہو، لیکن پھر بھی سچ بولنے کو ترجیح دے،  اور جب اسے معلوم ہو جائے کہ اس کا گروہ یا جماعت غلطی پر ہے، تو وہ اپنی جماعت سے وابستگی کو حق سے اپنی وابستگی پر مقدم نہ کرے۔

اسی لیے اللہ کی بندگی آزادی کی نفی نہیں، بلکہ حقیقی آزادی کا ذریعہ ہے۔اگرچہ بعض لوگ اسے آزادی کے منافی سمجھ سکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان بہرحال کسی نہ کسی چیز کے سامنے جھکے گا کہ اگر وہ حق کے سامنے سرِ تسلیم خم نہیں کرے گا تو خواہشِ نفس کے سامنے جھک جائے گا،  اگر وہ لوگوں کی رائے کے اثر سے آزاد نہیں ہوگا تو ان کی تالیوں کا اسیر بن کر زندگی گزارے گا،  اگر وہ مال کو اپنے قبضے میں نہیں رکھے گا تو مال اسے اپنا غلام بنا لے گا،  اور اگر وہ اپنی شہوت و خواہش پر قابو نہیں رکھے گا تو پھر اس کی خواہش ہی اس کے فیصلوں کا تعین کرے گی۔

اسی لیے اللہ کی بندگی دراصل ہر دوسری غلامی کے انکار کا اعلان ہے۔ جو انسان یہ جانتا ہے کہ اس کی اصل قدر و منزلت اللہ کی طرف سے ہے، اسے لوگوں کی طرف سے اپنے اعتراف اور توثیق کا محتاج بن کر زندگی گزارنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ لوگ اس کی تعریف کریں تو وہ ان کی تعریف سے ہوا میں نہیں اڑتا، اور اگر لوگ اسے برا کہیں تو ان کی مذمت سے ٹوٹ کر بکھر نہیں جاتا،  کیونکہ وہ اپنی آخری اور حقیقی قدر و قیمت لوگوں کی نگاہوں سے حاصل نہیں کرتا۔

ممکن ہے وہ معاشرے میں گمنام ہو، لیکن اسے یہ احساس نہیں ہوتا کہ وہ بے قدر ہے۔

ممکن ہے وہ اپنا منصب کھو دے، لیکن اپنی ذات نہیں کھوتا۔

ممکن ہے وہ اپنا مال کھو بیٹھے، لیکن اسے یہ محسوس نہیں ہوتا کہ اس کی زندگی ختم ہو گئی ہے۔

کیونکہ جس قدر و قیمت کو انسان کسی تغیر پذیر چیز کے ساتھ وابستہ کر دے گا، وہ چیز بدلتے ہی اس کی قدر بھی بدل جائے گی۔ لیکن جب انسان اپنی قدر و منزلت کا تعلق اللہ کے ساتھ قائم کر لیتا ہے تو اسے ایسی پائیداری نصیب ہوتی ہے جسے نہ لوگ عطا کر سکتے ہیں اور نہ ہی اس سے چھین سکتے ہیں۔

تاہم اللہ کی مرکزیت کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کو نظر انداز کیا جائے یا اس کی ضروریات و حاجات کو حقیر سمجھا جائے۔ اس نکتے پر خصوصی توجہ ضروری ہے،  کیونکہ بعض طرزِ فکر میں یوں محسوس ہوتا ہے کہ انسان کی فلاح و بہبود پر توجہ دینا گویا اللہ کی طرف توجہ کے مقابل ایک الگ راستہ ہے۔ حالاں کہ اسلامی تصور میں اللہ اور انسان کو ایک دوسرے کے مقابل دو متضاد قطبوں کے طور پر پیش نہیں کیا گیا،  کیونکہ خود اللہ ہی نے انسان کی تکریم کا حکم دیا ہے۔بھوکے کو کھانا کھلانے، مظلوم کی مدد کرنے، کمزور کی نگہداشت کرنے اور لوگوں کے درمیان عدل قائم کرنے کی تاکید فرمائی ہے۔

لہٰذا جو شخص اللہ کے لیے نماز تو پڑھتا ہے، لیکن اس کے بندوں پر ظلم بھی کرتا ہے، اس نے حقیقت میں اللہ کو اپنی زندگی کا محور نہیں بنایا۔جو شخص عقیدے کا دفاع تو کرتا ہے، لیکن جھوٹ بولتا اور بدعہدی کرتا ہے، وہ دراصل اللہ کے دفاع کا مفہوم نہیں سمجھ سکا کیونکہ جس اللہ کے دین اور عقیدے کے دفاع کا وہ دعویٰ کرتا ہے، اسی اللہ نے اس کے لیے جھوٹ اور بدعہدی کو حرام قرار دیا ہے۔اور جو شخص کثرت سے اللہ کا ذکر تو کرتا ہے، لیکن فقیر و محتاج کو حقیر سمجھتا ہے، وہ ابھی اس حقیقت کو نہیں سمجھ سکا کہ انسان کی عزت و کرامت بھی اسی الٰہی ذمہ داری کا حصہ ہے جس کا اللہ نے اسے مکلف بنایا ہے۔

یہیں سے اسلامی تصورِ حیات کو ایک نہایت جامع اور دقیق فارمولے میں بیان کیا جا سکتا ہے۔کائنات انسان کے لیے مسخر ہے، انسان اللہ کے لیے ہے، اور جب انسان کی خدمت حق کی راہ میں ہو تو وہ اللہ کی عبادت ہے۔اس مفہوم کے ساتھ اللہ کی مرکزیت انسان کو چھوٹا نہیں کرتی، بلکہ اسے ان چھوٹے چھوٹے خداؤں کے درمیان گم ہونے سے بچاتی ہے جنہیں انسان خود اپنے ہاتھوں سے بنا لیتا ہے کہ مال، شہرت، قبیلہ، جماعت، منصب، خواہش اور انا۔ اللہ کی مرکزیت ہر چیز کو اس کا صحیح مقام عطا کرتی ہے اور انسان کو ایسا معیار فراہم کرتی ہے جس کے ذریعے وہ مسلسل اپنا محاسبہ کر سکتا ہے۔ اسی لیے انسان کو اپنے آپ سے سب سے اہم اور خطرناک سوال صرف یہ نہیں کرنا چاہیے کہ کیا میں اللہ پر ایمان رکھتا ہوں؟

بلکہ اسے یہ بھی پوچھنا چاہیے، کہ حقیقت میں میرے دل کے گرد کیا گردش کر رہا ہے؟

وہ کون سی چیز ہے جو اللہ کی رضا کے ساتھ متعارض ہو جائے تو میں اللہ کی رضا پر اسے ترجیح دے دیتا ہوں؟

وہ کیا چیز ہے جسے کھو دینے کا مجھے اس قدر خوف ہے کہ میں اس کے لیے حق سے دست بردار ہونے پر آمادہ ہو جاؤں؟

وہ کون سی چیز ہے جس کے سامنے میں ’نہیں‘ کہنے سے عاجز ہو جاتا ہوں؟

کیونکہ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ زبان پر اللہ کا نام موجود ہو، لیکن فیصلے خواہشِ نفس کے زیرِ اثر ہو رہے ہوں۔

یہ بھی ممکن ہے کہ تمام نعرے دینی ہوں، لیکن ان کا سب سے بڑا فائدہ خود انسان کی اپنی ذات کو پہنچ رہا ہو۔

حقیقی بندگی کا آغاز اس وقت ہوتا ہے جب حق کی موجودگی کے سامنے ’’انا‘‘ کی موجودگی پیچھے ہٹنے لگے،  اور انسان اس بات کے لیے آمادہ ہو جائے کہ وہ اپنی رائے، اپنا مفاد یا اپنا مقام کھو سکتا ہے، لیکن اللہ کی طرف جانے والی اپنی سمت نہیں کھوئے گا۔ کیونکہ سب سے خطرناک بت وہ نہیں جو پتھر سے تراش کر کھڑے کیے جاتے ہیں، بلکہ وہ ہے جو انسان کے اندر ایک پھولی ہوئی اور سرکش خواہشِ نفس کی صورت میں قائم ہو جائے، اور پھر انسان سے مطالبہ کرے کہ وہ خود کو حقیقت کا مرکز سمجھنے لگے۔ اسی لیے انسان جو سب سے بڑی آزادی حاصل کر سکتا ہے، وہ یہ ہے کہ وہ اپنی ذات کی بندگی سے نکل کر اللہ کی بندگی میں داخل ہو جائے۔ کیونکہ جو شخص اپنی ذات کے حصار اور اپنی انا کی غلامی سے آزاد ہو جاتا ہے، وہ لوگوں کے ساتھ زیادہ عدل و انصاف کرنے، حقیقت کے ساتھ زیادہ صدق و دیانت برتنے اور کمال کے اس راستے کے لیے ہمیشہ کھلے رہنے کے قابل ہو جاتا ہے جس کی کوئی انتہا نہیں۔

حاصلِ کلام یہ ہے کہ اللہ کی مرکزیت محض ایک نظری تصور نہیں جسے عقیدے کے نظام میں ایک اضافی فکر کے طور پر شامل کر دیا جائے، بلکہ یہ وہ میزان اور معیار ہے جو انسان کی پوری زندگی کو ازسرِنو ترتیب دیتا ہے۔جب اللہ انسان کی زندگی کا حقیقی محور بن جاتا ہے تو خواہشِ نفس فیصلہ کن مرجع نہیں رہتی، ذاتی مفاد معیارِ حق نہیں بنتا، لوگوں کی خوشنودی حق کا متبادل نہیں بنتی، اور علم، عبادت یا مقام و مرتبہ اپنی ذات کی بڑائی کا ذریعہ نہیں بن پاتے۔ تب ہی انسان عبودیت کے حقیقی مفہوم کو سمجھتا ہے،  یعنی ایسی بندگی جو اسے ہر اس چیز کی غلامی سے آزاد کر دیتی ہے جو اندر سے یا باہر سے اسے اپنا غلام بنا لیتی ہے کہ خواہش، خوف، غرور، وابستگی اور لوگوں کی تالیوں اور داد کا محتاج ہونا۔ اور انسان کے شعور و احساس میں جوں جوں اللہ کی موجودگی گہری ہوتی جاتی ہے، اسی نسبت سے اس کی انا کا غلبہ کم ہوتا جاتا ہے،  اس کے اندر انصاف، اپنے محاسبے، اپنی اصلاح، تواضع اور لوگوں کی خدمت کی صلاحیت وسیع ہوتی چلی جاتی ہے۔

اسی لیے ایک مؤمن کے سامنے وہ سوال ہمیشہ زندہ اور کھلا رہنا چاہیے کہ، میں اللہ کے بارے میں کتنی باتیں کرتا ہوں؟ یہ نہیں، بلکہ جب میری اپنی خواہش اللہ کی مرضی سے ٹکراتی ہے تو میرے فیصلوں پر حقیقتاً کس کی حکمرانی ہوتی ہے؟ کیونکہ اسی لمحۂ تعارض میں حقیقی معبود بے نقاب ہو جاتا ہے۔ اور وہیں یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ آیا انسان نے واقعی اللہ کو اپنی زندگی کا محور بنایا ہے، یا اپنی خواہشِ نفس کو اپنا معبود بنا لیا ہے۔ ﴿أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَوَاهُ﴾ مجھے بتاؤ جس نے اپنی خواہشات کو اپنا معبود بنا رکھا ہے؟

شیئر: