واپس
جب تعلق حقیقت پر غالب آجائے

جب تعلق حقیقت پر غالب آجائے

الشيخ معتصم السيد أحمد

تعلق یا وابستگی بذاتِ خود کوئی بری چیز نہیں ہے ۔ بلکہ انسان وابستگیوں کے بغیرتو زندگی گزار ہی نہیں سکتا۔ خاندان، وطن، مذہب، فکری جماعت، تہذیب اور تاریخ سے انسان کے رشتے ہوتے ہیں، اور یہی وابستگیاں اس کی شناخت کے اہم حصے کو تشکیل دیتی ہیں۔ اسی طرح اپنے لوگوں سے محبت کرنا، ان پر ظلم ہو تو ان کا دفاع کرنا اور جن اصولوں پر ایمان رکھتے ہیں ان پر فخر کرنا بھی ایک فطری بات ہے۔مگر خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ہماری سوچ میں وابستگی کا مقام ہی بدل جاتا ہے ۔ جب ہم اپنے تعلق اور وابستگی کو حقیقت کے سامنے پرکھنے کی بجائے حقیقت ہی کو اپنی وابستگی کے ترازو میں تولنے لگتے ہیں۔ پھر کسی بات کو صرف اس لیے درست مانتے ہیں کہ کہنے والا ہمارا اپنا ہے، اور کسی بات کو صرف اس لیے رد کر دیتے ہیں کہ وہ کسی غیر کی طرف سے آئی ہے۔ اپنے کسی عزیز یا ہم خیال سے غلطی ہو تو اس کے لیے جواز تراشتے ہیں، لیکن وہی غلطی اگر ہمارے مخالف سے سرزد ہو تو اسے ناقابلِ معافی جرم سمجھتے ہیں۔

یہاں وابستگی محض شناخت کا اظہار نہیں رہتی، بلکہ ایسا پردہ بن جاتی ہے جو چیزوں کی اصل حقیقت اور انسان کے درمیان حائل ہو جاتا ہے ۔قرآنِ کریم نے اس مسئلے کی مختلف صورتوں کی نشان دہی کی ہے، کیونکہ تعصب انسانی زندگی میں کوئی عارضی کیفیت نہیں، بلکہ عقل و ضمیر کو مفلوج کر دینے والےعوامل میں سب سے موثرعامل ہے۔ اسی لئے قرآن ایسے لوگوں کا ذکر کرتا ہے جو عقیدےکےمعاملے میں واضح دلیل نہیں پوچھتے،بلکہ ان کے لیے بس یہی کافی ہے کہ انہوں نے اپنے آباء و اجداد کو جس راستے پر پایا، پس وہی راستہ انہیں بھی اختیار کرنا ہے:﴿وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّبِعُوا مَا أَنْزَلَ اللَّهُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا أَلْفَيْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا﴾اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس چیز کی پیروی کرو جو اللہ نے نازل کی ہے تو کہتے ہیں: نہیں، ہم تو اسی کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے آباء و اجداد کو پایا ہے۔

پھر قرآن اس سوچ کی بنیاد ہی کو یہ سوال اٹھا کر منہدم کر دیتا ہے: ﴿أَوَلَوْ كَانَ آبَاؤُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ شَيْئًا وَلَا يَهْتَدُونَ﴾ کیا اس صورت میں بھی، اگرچہ ان کے آباء نہ کچھ سمجھتے ہوں اور نہ ہدایت یافتہ ہوں؟

مسئلہ والدین اور بزرگوں کے احترام میں نہیں، بلکہ جب کسی سے ہمارا نسبی یا خاندانی تعلق اس کے ہر قول کی صحت کی دلیل بن جائے تو یہ بڑا مسئلہ بن جاتا ہے ۔

مترَفین یعنی مراعات یافتہ گروہ کے بارے میں بھی قرآنِ کریم نے اسی طرزِ فکر کی نشان دہی کی ہے، جب وہ انبیائے کرام کی دعوت کے مقابلے میں یہ کہتے تھے:﴿إِنَّا وَجَدْنَا آبَاءَنَا عَلَى أُمَّةٍ وَإِنَّا عَلَى آثَارِهِمْ مُقْتَدُونَ﴾ہم نے اپنے آباء و اجداد کو ایک طریقے پر پایا ہے اور ہم بھی انہی کے نقشِ قدم پر چل رہے ہیں۔

گویا قرآن ہمیں متنبہ کرتا ہے کہ انسان کی فکری زندگی میں سب سے خطرناک مرحلہ وہ ہے جب وہ یہ سوال کرنا چھوڑ دے کہ کیا یہ حق ہے؟  اور اس کی جگہ یہ سوال لے آئے کہ ’’کیا یہی ہماری جماعت یا گروہ کا مؤقف ہے؟

یہ خطرہ صرف قدیم قبائلی تعصب تک محدود نہیں، بلکہ مذہب، جماعت، قومیت، فکری رجحان کا تعصب حتیٰ کہ ان گروہوں میں بھی پیدا ہوسکتا ہے جو خود تعصب کے خلاف جدوجہد کا دعویٰ کرتے ہیں۔ انسان ایک تعصب سے نکل کر دوسرے تعصب میں مبتلا ہوسکتا ہے،  وہ اپنے آباؤ اجداد کی اندھی تقلید کو مسترد کرکے اپنی نئی جماعت کی اسی انداز سے پیروی کرنے لگتا ہے۔ جیسے وہ پہلے آباء و اجداد کی کرتا تھا ، بس نام بدل جاتے ہیں، لیکن نفسیاتی ساخت وہی رہتی ہے ۔  ہمیشہ ہم حق کے زیادہ قریب ہیں، اور دوسرا ہمیشہ شک و شبہے کے مستحق ہے ۔ اسی لیے قرآنِ کریم نے عدل کے لیے ایک نہایت کڑا معیار مقرر کیا ہے، ارشاد ہوتا ہے:﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَى أَنْفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ﴾

اے ایمان والو! انصاف پر مضبوطی سے قائم رہو اور اللہ کے لیے گواہی دو، خواہ وہ گواہی خود تمہارے خلاف ، یا تمہارے والدین اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔

ایمان کا امتحان صرف اس وقت نہیں ہوتا جب ہم اپنے مخالفین کے خلاف حق کی گواہی دیں،  کیونکہ اکثر اوقات یہ نسبتاً آسان ہوتا ہے۔ اصل امتحان تو اس وقت ہوتا ہے جب حق خود ہمارے خلاف ہو، یا ہمارے سب سے قریبی لوگوں کے خلاف ہو ۔پھر قرآن اس سے بھی آگے بڑھ کر یہ واضح کرتا ہے کہ انصاف صرف ان لوگوں کے ساتھ نہیں ہونا چاہیے جن سے ہمیں محبت ہے، بلکہ ان لوگوں کے ساتھ بھی ہونا چاہیے جن سے ہمیں نفرت ہے:

﴿وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَى أَلَّا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى﴾یعنی کسی قوم سے تمہاری نفرت تمہیں انصاف سے نہ ہٹائے۔کسی سے دشمنی اس کے حق کو باطل میں تبدیل نہیں کرسکتی، جس طرح کسی سے محبت اس کی غلطی کو درست نہیں بنا سکتی۔

اسی حقیقت کو امام زین العابدین عليه السلام نے تعصب کے بارے میں پوچھے جانے پر نہایت واضح انداز میں بیان فرمایا:(العصبية التي يأثم عليها صاحبها أن يرى الرجل شرار قومه خيراً من خيار قوم آخرين، وليس من العصبية أن يحب الرجل قومه، ولكن من العصبية أن يعين قومه على الظلم) وہ تعصب جس پر انسان گناہ گار ہوتا ہے ، یہ ہے کہ وہ اپنی قوم کے برے لوگوں کو دوسری قوم کے اچھے لوگوں سے بہتر سمجھے۔ کسی شخص کا اپنی قوم سے محبت کرنا تعصب نہیں، بلکہ تعصب یہ ہے کہ وہ ظلم میں اپنی قوم کی مدد کرے۔(الکافی، ج ۲، ص ۳۰۸)

یہ روایت اس تعصب کی حدود کو نہایت واضح طور پر متعین کرتی ہے۔ اسلام انسان سے یہ مطالبہ نہیں کرتا کہ وہ اپنی قوم سے تعلق ختم کر دے یا اپنی جماعت سے بیزار ہوجائے، اور نہ ہی فطری محبت کو جرم قرار دیتا ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب وابستگی کے سامنے اچھائی اور برائی کے معیار ہی معطل ہوجائیں،  ہمیں معلوم ہو کہ ہمارا اپنا آدمی برا ہے، لیکن صرف اس لیے کہ وہ ’’ہم میں سے‘‘ ہے، ہم اصرار کرتے رہیں کہ وہ دوسرے سے بہتر ہے۔ یا ہمیں معلوم ہو کہ وہ ظالم ہے، پھر بھی ہم اس کی مدد کریں، کیونکہ اس کا گرنا ہماری جماعت کے لیے نقصان سمجھا جائے گا۔

یہاں تعصب اجتماعی جھوٹ کی ایک صورت اختیار کرلیتی ہے،  کیونکہ ہو سکتا ہے کہ سب لوگ حقیقت سے واقف ہوں، مگر اپنے گروہ کی اچھی شہرت برقرار رکھنے کے لیے ایک دوسری اور جھوٹی کہانی پر باہم متفق جائیں۔ اسی لیے امام صادق عليه السلام کی طرف سے اس بارے میں سخت تنبیہ وارد ہوئی ہے: (من تعصب أو تعصب له فقد خلع ربقة الإيمان من عنقه) جو شخص تعصب اختیار کرے یا کسی کے لیے تعصب کا مظاہرہ کیا جائے، تو گویا اس نے اپنی گردن سے ایمان کا طوق اتار دیا۔(الکافی، ج ۲، ص ۲۳۲)

یہاں امام صادق علیہ السلام کی مراد یہ نہیں ہے کہ محض محبت اور وابستگی انسان کو ایمان سے خارج کردیتی ہے،  امام سجاد عليه السلام پہلے ہی اس کی وضاحت فرما چکے ہیں۔ خطرہ تو اس تعصب میں ہے جو خاندانی خواہش اور گروہی مفاد کو حق پر مقدم کردے۔

تعجب کی بات یہ ہے کہ متعصب انسان بہت کم اپنے آپ کو متعصب سمجھتا ہے۔ اسے یقین ہوتا ہے کہ وہ حق کا دفاع کر رہا ہے، حالانکہ اس کے نزدیک حق اور پارٹی اس حد تک باہم مل چکے ہوتے ہیں کہ وہ دونوں میں فرق کرنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے۔ اس کی پارٹی پر تنقید ہو تو اسے محسوس ہوتا ہے کہ اس کے دین پر حملہ کیا گیا ہے،  کسی محبوب شخصیت کی کوئی خاص غلطی سامنے لائی جائے تو وہ اسے پورے پروگرام کو نشانہ بنانے کے مترادف سمجھتا ہے،  اور اگر اس کا مخالف کوئی مفید اور درست بات کرلے تو وہ اسے بھی اس خوف سے قبول نہیں کرتا کہ کہیں ایسا نہ لگے کہ اس نے اپنے مخالف کو فتح دے دی ہے۔ یوں حق ایک دوسرے سے برتر ثابت کرنے کی کشمکش میں کہیں گم ہو جاتا ہے۔

بسا اوقات انسان ایک ہی دلیل کو، جب وہ اس کے حق میں ہو، بڑے جوش و خروش سے پیش کرتا ہے، لیکن جب وہی دلیل اس کے خلاف استعمال کی جائے تو اسے مسترد کر دیتا ہے۔ وہ اپنے مخالفین سے انصاف کا مطالبہ کرتا ہے، لیکن جب وہ اس کے ساتھ انصاف کریں تو اسی انصاف کو اپنی خلاف سازش قرار دیتا ہے۔ وہ دوسروں سے اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنے کا مطالبہ کرتا ہے، جبکہ اپنی پارٹی یا گروہ کے لیے ہر وقت عذر تلاش کرتا رہتا ہے۔ یہ محض علمی یا فکری مسئلہ نہیں بلکہ اخلاقی مسئلہ بھی ہے،  کیونکہ یہاں عقل حقیقت کی تلاش کا ذریعہ نہیں رہتی بلکہ وابستگی کی خدمت پر مامور کنیز بن جاتی ہے۔

اس صورتِ حال کی اصلاح کے سلسلے میں امیر المومنین علیہ السلام سے وارد ہونے والی نہایت خوب صورت تعلیمات میں سے ایک یہ ہے کہ امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے لوگوں سے وابستگی کے ہر احساس کو ختم کرنے کا مطالبہ نہیں کیا، بلکہ اس کا رخ اقدار و فضائل کی طرف موڑنے کی تعلیم دی۔ چنانچہ خطبۂ قاصعہ میں فرماتے ہیں:

’’اگر تعصب ناگزیر ہے تو تمہارا تعصب اعلیٰ اوصاف، قابلِ تعریف اعمال اور ان خوبیوں کے لیے ہونا چاہیے جن میں عرب کے معزز اور بہادر خاندان اور قبائل کے سردار ایک دوسرے پر فضیلت رکھتے تھے،  یعنی پسندیدہ اخلاق، بلند حوصلگی، عظیم کردار اور قابلِ ستائش کارناموں میں۔ پس تم ان قابلِ تعریف خصلتوں کے لیے تعصب اختیار کرو،  ہمسائیگی کا حق ادا کرنا، عہد و پیمان کی پاسداری، نیکی کی اطاعت، تکبر کے سامنے انکار، فضل و احسان کو اختیار کرنا، ظلم و زیادتی سے باز رہنا، قتل کی سنگینی کو ملحوظ رکھنا، لوگوں کے ساتھ انصاف کرنا، غصے کو پی جانا اور زمین میں فساد سے اجتناب کرنا‘‘۔

یہ دراصل وابستگی کو افراد سے اصولوں کی طرف منتقل کرنے کی نہایت اہم تعلیم ہے۔ چنانچہ سوال یہ نہیں رہتا کہ تم کس جماعت سے تعلق رکھتے ہو؟ بلکہ یہ بن جاتا ہے کہ تم کس قدر یا اصول کا دفاع کر رہے ہو؟ اسی طرح وابستگی شخصیات اور ناموں سے نہیں بلکہ عدل، وفاداری، انصاف اور احسان جیسی اقدار سے ہونی چاہیے۔

بلکہ امام صادق علیہ السلام سے منقول ایک روایت میں اس خطرے کی نہایت معنی خیز تصویر پیش کی گئی ہے کہ انسان اپنی رائے کو ہی حق کا معیار بنا لے۔ برید عجلی کہتے ہیں کہ میں نے امام ابو عبداللہ علیہ السلام سے عرض کیا: بندہ کس کم ترین چیز کے ذریعے کفر کی حد تک پہنچ جاتا ہے؟ امام علیہ السلام نے زمین سے ایک کنکری اٹھائی اور فرمایا:’’یہ کہ وہ اس کنکری کے بارے میں کہے کہ یہ گٹھلی ہے، پھر جو شخص اس بات میں اس کی مخالفت کرے، اس سے بیزاری اختیار کرے، اور جو شخص اس کی بات کے برخلاف کہے، اس سے بیزاری کو دین قرار دے۔‘‘ (بحار الأنوار، ج 2، ص 302)

لہٰذا مسئلہ کنکری اور گٹھلی کا نہیں، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ انسان اپنی رائے کو حق کا معیار اور بنیاد بنا لے، پھر لوگوں سے اپنی وفاداری اور بیزاری کو بھی اسی بات سے وابستہ کر دے کہ وہ اس کی رائے سے اتفاق کرتے ہیں یا نہیں۔

یہ صورتِ حال ہمارے تصور سے کہیں زیادہ بار دہرائی جاتی ہے۔ اختلاف کا آغاز کسی ایسے سیاسی، فکری یا معاشرتی مسئلے سے ہو سکتا ہے جس میں گفتگو اور اختلافِ رائے کی گنجائش ہو، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ وہی اختلاف وفاداری کا امتحان بن جاتا ہے: جو ہماری رائے سے متفق ہے، وہ ہمارا ساتھی ہے، اور جو ہم سے اختلاف کرے، اس کی وفاداری ہی مشکوک سمجھی جانے لگتی ہے۔ اس ذہنیت کے مسلسل جاری رہنے سے خود جماعت کے اندر سوچنے کی گنجائش بھی سکڑتی چلی جاتی ہے،  کیونکہ ہر تنقید کو غداری، ہر نظرِ ثانی کو پسپائی، اور مخالف کی کسی غلطی کا اعتراف اس کی فتح سمجھا جانے لگتا ہے۔

اس طرح جماعتیں اپنی اصلاح کی صلاحیت کھو دیتی ہیں۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ مخالف آپ کے اندر وہ عیب دیکھ لیتا ہے جو آپ کا دوست نہیں دیکھ پاتا، اور اختلاف رکھنے والا آپ کو کسی ایسی مشکل کی طرف متوجہ کر دیتا ہے جس پر آپ کی اپنی جماعت کے لوگوں کی نظر نہیں پڑی ہوتی۔ لہٰذا اگر انسان صرف اس بنیاد پر کسی کی بات سننے سے انکار کر دے کہ بات کرنے والا کس جماعت یا گروہ سے تعلق رکھتا ہے، تو وہ خود کو علم و معرفت کے ایک موقع سے محروم کر لیتا ہے۔

اسی لیے حق کی حمایت کے لیے ایسی جرأت درکار ہے جو محض مخالفت اور خصومت کی جرأت سے مختلف ہوتی ہے۔ اپنے مخالف کی غلطی تلاش کرنا آسان ہے، لیکن اپنی جماعت کی غلطی دریافت کرکے اسے تسلیم کرنا زیادہ مشکل ہے۔ اپنے حق میں کسی نص یا دلیل کو پیش کرنا آسان ہے، لیکن اصل امتحان اس وقت شروع ہوتا ہے جب وہی نص آپ کے مفاد کے خلاف کھڑی ہو جائے۔ دوسروں سے انصاف کا مطالبہ کرنا آسان ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَلَوْ عَلَى أَنْفُسِكُمْ﴾ کا حقیقی مفہوم اس وقت سامنے آتا ہے جب انصاف کرنے کی قیمت خود آپ کو ادا کرنا پڑے۔

اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ انسان اپنی شناخت یا کسی سے اپنی وابستگی ہی سے دست بردار ہو جائے۔ اسلام خود واضح وابستگیاں قائم کرتا ہے، لیکن ان وابستگیوں کو حق سے وابستہ کرتا ہے، حق کا متبادل نہیں بناتا۔ حتیٰ کہ اہلِ بیت علیہم السلام سے نسبت بھی محض دعوائے محبت کی بنیاد پر انسان کو اخلاقی جواب دہی سے مستثنیٰ نہیں کر دیتی۔ ائمہ علیہم السلام چاہتے تھے کہ ان کے شیعہ اپنے کردار و عمل کے ذریعے ان کے لیے باعثِ زینت بنیں، نہ یہ کہ اہلِ بیت علیہم السلام کے نام کو اپنی غلطیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے استعمال کریں۔

اسی لیے جو معاشرہ تعصب سے نجات حاصل کرنا چاہتا ہے، اسے اپنے اختلافات ختم کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ ان اختلافات سے بالاتر ایک اعلیٰ معیار قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم مذہب، سیاست اور فکر کے میدان میں ایک دوسرے سے مختلف رہ سکتے ہیں، لیکن اس بات پر متفق ہو سکتے ہیں کہ جھوٹ، جھوٹ ہی ہے، خواہ ہماری اپنی جماعت کی طرف سے بولا جائے،  ظلم، ظلم ہی ہے، خواہ وہ ہمارے مفاد میں ہو،  اور حق، حق ہی ہے، خواہ اسے وہ شخص بیان کرے جس سے ہم اختلاف رکھتے ہیں۔

تعصب کا سب سے خطرناک اثر یہ ہے کہ وہ انسان کو ایک جھوٹی ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے۔ وہ اسے غور و فکر کی زحمت سے بے نیاز کر دیتا ہے، کیونکہ اس کی جماعت اس کی طرف سے سوچتی ہے،  اسے محاسبے سے بھی بچا لیتی ہے، کیونکہ اس کی غلطیوں کو بھی قابلِ تاویل بنا دی جاتی ہیں،  اور اسے عدالت سے بھی محفوظ کر دیتی ہے، کیونکہ مخالف اس کی بات سنے جانے سے پہلے ہی مجرم قرار پا جاتا ہے۔

اس کے برعکس قرآن جس ایمان کا مطالبہ کرتا ہے، وہ کہیں زیادہ کٹھن ہے: تم ان لوگوں سے محبت کرو جن سے تمہاری وابستگی ہے، لیکن ظلم میں ان کا ساتھ نہ دو،  دوسروں سے اختلاف رکھو، لیکن ان کا حق نہ چھینو،  اور اپنے عقیدے پر مضبوطی سے قائم رہو، لیکن اس کی صحت ثابت کرنے کے لیے اپنے ہی ضمیر سے جھوٹ بولنے کی ضرورت محسوس نہ کرو۔

خلاصہ ِ کلام یہ ہے کہ وابستگی اس وقت خطرناک نہیں ہوتی جب وہ انسان کو شناخت، اپنی تاریخ و یادداشت اور ذمہ داری کا احساس عطا کرے،  خطرہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب وہ اس سے اس کی عقل اور ضمیر کو خاموش کر دینے کا مطالبہ کرے۔ حقیقت اس لیے زیادہ حقیقت نہیں بن جاتی کہ اسے بیان کرنے والا ہماری جماعت سے تعلق رکھتا ہے، اور نہ اس کی قدر اس لیے کم ہو جاتی ہے کہ اسے بیان کرنے والا ہمارا مخالف ہے۔اور جب انسان انصاف کے اس بلند مرتبے تک پہنچ جاتا ہے تو اس کی وابستگی کمزور نہیں بلکہ مزید مضبوط ہو جاتی ہے،  کیونکہ اب اسے اپنی جماعت کی حمایت باطل کے ذریعے کرنے کی ضرورت نہیں رہتی، نہ اپنے آپ کو ثابت کرنے کے لیے دوسروں کو بدنام کرنے کی حاجت ہوتی ہے۔ اس مقام پر اس کی وفاداری حق کی قیمت پر افراد کے ساتھ نہیں رہتی، بلکہ حق ہی وہ معیار بن جاتا ہے جو افراد، موقف اور وابستگیوں کی قدر و قیمت متعین کرتا ہے۔ اور شاید دینداری کا سب سے مشکل امتحان یہی ہے کہ انسان حقیقت کا ساتھ اس وقت بھی نہ چھوڑے جب حقیقت خود اس کے ساتھ نہ ہو۔

شیئر: