شیخ معتصم السید احمد
ہمارے موجودہ حالات کا ایک بڑا تضاد یہ ہے کہ ہم نشاۃِ ثانیہ اور معاشرتی بیداری کی بات تو بہت کرتے ہیں، مگر اس کی بنیادی ضرورت، یعنی وقت دینے کے لیے تیار نہیں۔ہم باشعور معاشرہ، بہتر تعلیم، مضبوط معیشت، احساس ذمہ داری سے سرشار نوجوان نسل اور پختہ دینی فکر تو چاہتے ہیں، اور یہ توقع بھی رکھتے ہیں کہ ان تبدیلیوں کے نتائج جلد ظاہر ہو جائیں۔ حتی کہ چند برس میں مطلوبہ نتائج نہ ملیں تو ہم مایوس ہو کر منصوبے کو ناکام سمجھ لیتے ہیں اور کسی نئے خیال یا منصوبے کی طرف اس امید سے بڑھتے ہیں کہ شاید وہاں سے نتائج فوراً حاصل ہو جائیں۔ گویا مسئلہ صرف یہ نہیں کہ ہم نے نشاۃِ ثانیہ کی تعمیر میں دیر کر دی ہے، بلکہ مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم اس تاخیر کا ازالہ تعمیر کے فطری قوانین کو پھلانگ کر کرنا چاہتے ہیں۔ قرآن مجید بار بار انسان کی اسی عجلت پسندی کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے:﴿خُلِقَ الْإِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ﴾ انسان جلد بازی سے پیدا کیا گیا ہے۔ اور ایک دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿وَكَانَ الْإِنْسَانُ عَجُولًا﴾اور انسان بہت جلد باز واقع ہوا ہے۔
ان آیات کا مفہوم محض تیز رفتاری یا جلد حرکت کرنے تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ انسان کی اس فطرت کی طرف اشارہ ہے جو اسے ابتدائی لوازمات کے مکمل ہونے سے پہلے ہی نتائج حاصل کرنے پر آمادہ کرتی ہے۔ انسان جانتا ہے کہ اسے کیا چاہیے، لیکن وہ ہمیشہ اس طویل سفر کو اختیارکرنے پر آمادہ نہیں ہوتا جو ارادے اور اس کے عملی تحقق کے درمیان حائل ہوتا ہے۔ اسی لیے قرآن کریم، جو تبدیلی اور تعمیر کی کتاب ہے، انسان کی تربیت صبر و استقامت پر بھی کرتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: ﴿وَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ أُولُو الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَلَا تَسْتَعْجِلْ لَهُمْ﴾ اور صبر کرو، جس طرح اولوالعزم رسولوں نے صبر کیا، اور ان کے بارے میں جلدی نہ کرو۔
قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ یہ خطاب خود رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہے، حالاں کہ آپ ایک الٰہی پیغام لے کر آئے تھے۔ گویا اس میں ایک نہایت واضح حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ حق بھی وقت کے فطری قوانین کو معطل نہیں کرتا۔ حتیٰ کہ وہ عظیم مشن بھی جس کی قیادت ایک نبی کر رہا ہو، تربیت، جدوجہد اور مسلسل محنت کے ایک طویل سفر پر صبر کا تقاضا کرتا ہے۔ حضرت نوح علیہ السلام نے ایک طویل عرصے تک اپنی قوم کو دعوت دی، لیکن یہ طوالت ان کی دعوت کی کمزوری کی دلیل نہیں تھی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعوت بھی ایک ہی لمحے میں مستحکم نہیں ہوئی۔ اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم محض فرعون کے اقتدار سے نکل آنے کے بعد فوراً ایک پیغامبرانہ معاشرے میں تبدیل نہیں ہو گئی تھی، بلکہ وہ اپنے ساتھ ماضی کی بہت سی فکری اور اخلاقی بیماریاں بھی صحراء میں لے آئی تھی۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی مکہ مکرمہ میں کئی برس صرف اس مقصد کے لیے گزارے کہ پہلے انسان کی تعمیر اور تربیت ہو، اس کے بعد مسلمانوں کی ریاست وجود میں آئے۔
یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کاہمیں بغور جائزہ لینا چاہیے:
پرانے نظام اور حالات سے نکلنا شاید ایک دن میں ممکن ہو، لیکن پرانے حالات کا انسان کے اندر سے نکل جانا ایک پوری نسل کا وقت لے سکتا ہے۔کسی اقتدار یا حاکمیت کا خاتمہ بہت تیزی سے ہو سکتا ہے، لیکن استبداد کی ثقافت کے گہرے اثرات معاشرے میں بدستور باقی رہ سکتے ہیں۔ قوانین تبدیل کیے جا سکتے ہیں، لیکن لوگ پھر بھی ان سے بچنے اور انہیں اپنے مفاد کے مطابق توڑنے کے راستے تلاش کرتے نظر آسکتے ہیں۔ جامعات اور تعلیمی اداروں کی تعداد میں وسعت پیدا کی جا سکتی ہے، لیکن سائنسی طرزِ فکر کی تشکیل کے لیے کئی دہائیاں درکار ہوتی ہیں۔ معاشرہ اخلاقی نعروں سے بھر سکتا ہے، لیکن سچائی، امانت داری اور کام میں مہارت کو اجتماعی عادات میں تبدیل کرنے کے لیے مسلسل اور نسل در نسل تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔
اسی لیے نشاۃِ ثانیہ کسی ایک لمحے میں رونما ہونے والے کسی دھماکے سے زیادہ ایک کھیتی کی مانند ہے۔ قرآن مجید بھی انسان کی تعمیر و تربیت کے لیے اسی تمثیل کو بیان کرتا ہے: ﴿كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِهِ﴾ جیسے ایک کھیتی جس نے اپنی کونپل نکالی، پھر اسے مضبوط کیا، پھر وہ موٹی ہوئی اور اپنی ڈنڈی پر سیدھی کھڑی ہو گئی۔
بیج سے لے کر فصل کے مضبوط اور پختہ ہونے تک کئی مراحل آتے ہیں، اور ہر مرحلے کا اپنا ایک فطری تقاضااور اپنا وقت ہوتا ہے۔ جو شخص بیج بونے کے اگلے ہی دن اس سے پھل کا مطالبہ کرے، وہ حقیقت پسندانہ بلند حوصلگی کا مظاہرہ نہیں کر رہا، بلکہ زراعت کی فطرت سے ناواقف ہے۔
یہی غلطی ہم کبھی کبھی اپنے فکری اور تربیتی منصوبوں کے ساتھ بھی کرتے ہیں۔ کوئی ثقافتی منصوبہ شروع کرتے ہی ہم چاہتے ہیں کہ ایک سال بعد ہی معلوم ہو جائے کہ اس نے کیا تبدیلی پیدا کی۔ کوئی تعلیمی ادارہ قائم ہوتا ہے تو ہم اس کے اثرات کو فوراً جانچنے لگتے ہیں۔ ایک والد اپنے بچے کی تربیت شروع کرتا ہے اور اگر اسے فوری نتائج دکھائی نہ دیں تو وہ پریشان ہو جاتا ہے۔ گویا ہم کسی کام کی قدر و قیمت اسی وقت تسلیم کرتے ہیں جب وہ ہمیں فوری ثمر فراہم کر دے۔
حالاں کہ بہت سی عظیم تبدیلیاں اس انداز سے رونما نہیں ہوتیں۔ ممکن ہے آپ آج کوئی کتاب پڑھیں اور محسوس نہ کریں کہ اس نے آپ کے اندر کوئی تبدیلی پیدا کی ہے، لیکن کئی سال بعد اچانک آپ کو معلوم ہو کہ اس کتاب کا ایک خیال آپ کے کسی رویے یا فیصلے میں موجود ہے۔ ممکن ہے کوئی نوجوان آج کوئی بات سنے اور اس وقت اس پر کوئی خاص ردِعمل ظاہر نہ کرے، لیکن جب زندگی کے تجربات اسے پختہ کریں تو وہی بات اس کے اندر دوبارہ بیدار ہو جائے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ ایک نسل اداروں کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرے، لیکن خود ان کی تمام ثمرات سے بہرہ مند نہ ہو سکے؛ پھر اس کے بعد آنے والی نسل انہی اداروں کے سائے میں زندگی گزارے جو اس کے پیش رو تعمیر کر گئے تھے۔اسی لیے امام باقر علیہ السلام سے منقول ہے: (أحب الأعمال إلى الله عز وجل ما داوم عليه العبد وإن قل) اللہ عزوجل کے نزدیک سب سے محبوب عمل وہ ہے جس پر بندہ پابندی سے قائم رہے، خواہ وہ کم ہی کیوں نہ ہو۔
پس اصل قدر و قیمت ہمیشہ آغاز کی وسعت اور جوش جذبہ کی نہیں ہوتی، بلکہ اس بات کی ہوتی ہے کہ انسان کسی کام کو مسلسل جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں۔ ایک چھوٹا سا عمل جو بار بار دہرایا جائے اور رفتہ رفتہ زندگی کا مستقل حصہ بن جائے، وہ بعض اوقات ایسے بڑے جوش و جذبے سے کہیں زیادہ اثر انگیز ثابت ہوتا ہے جو چند ہفتوں بعد ہی ماند پڑ جائے۔
یہاں ہماری ثقافتی زندگی کا ایک بنیادی مسئلہ سامنے آتا ہے کہ ہم آغاز کو جتنا پسند کرتے ہیں، اس کے بعد کے مراحل کو اتنی ہی اہمیت نہیں دیتے۔ ہم نئے منصوبوں، کانفرنسوں، مہمات اور تعلیمی نصاب کے آغاز کا جشن تو خوب مناتے ہیں، لیکن ان خاموش اور تدریجی کاموں کے لیے ہمارے اندر اتنا صبر نہیں ہوتا جنہیں برسوں تک مسلسل نگرانی، اصلاح اور ترقی کی ضرورت ہوتی ہے۔
آج یہ مسئلہ ہمارے لیے اس لیے بھی زیادہ سنگین ہو گیا ہے کہ موجودہ دور کی ساخت ہی تیز رفتاری پر قائم ہے۔ سوشل میڈیا نے ہمیں فوری ردِعمل کا عادی بنا دیا ہے۔ کوئی خبر اسی لمحے ہم تک پہنچ جاتی ہے، کوئی تصویر چند منٹوں میں ہزاروں لوگوں تک پھیل جاتی ہے، کوئی شخص چند دنوں میں شہرت حاصل کر لیتا ہے، اور کوئی رائے صرف ایک کلک سے لاکھوں افراد تک پہنچ سکتی ہے۔ رفتہ رفتہ ہم نے اس تیز رفتاری کی منطق کو ان شعبوں میں بھی منتقل کرنا شروع کر دیا ہے جہاں اس کے اصول کارگر نہیں ہوتے۔
مثلاً کوئی ثقافتی ویڈیو چند گھنٹوں میں مقبول ہو سکتی ہے، لیکن ثقافت چند گھنٹوں میں تشکیل نہیں پاتی۔ کوئی دینی خطاب لاکھوں لوگوں تک پہنچ سکتا ہے، لیکن بات کا کانوں تک پہنچ جانا ایک الگ چیز ہے اور اس کا شعور اور کردار کا حصہ بن جانا بالکل دوسری چیز۔ اسی طرح ایک میڈیا مہم کسی مسئلے کو چند لمحوں میں توجہ کا مرکز بنا سکتی ہے، لیکن وہ محض اپنے بل پر ایک نئے انسان کی تعمیر نہیں کر سکتی۔
تیز رفتار پر اثرپذیری کا گمان۔۔۔ ایک فریب
ایک داعی اپنے ہزاروں پیروکاروں کو دیکھ کر یہ سمجھ سکتا ہے کہ معاشرہ تبدیل ہو گیا ہے۔ ایک مصلح کسی خیال پر وسیع عوامی ردِعمل دیکھ کر یہ تصور کر سکتا ہے کہ عمومی شعور بدل چکا ہے۔ لیکن پھر پہلے ہی امتحان کے موقع پر اسے معلوم ہوتا ہے کہ جو کچھ بظاہر ایک بڑی تبدیلی دکھائی دے رہا تھا، اس کا ایک بڑا حصہ دراصل عارضی جذباتی ردِعمل تھا، کوئی گہری اور پائیدار تبدیلی نہیں۔جو شعور بہت تیزی سے تشکیل پاتا ہے، وہ اتنی ہی تیزی سے ماند بھی پڑ سکتا ہے۔ اس کے برعکس وہ افکار جو معاشرے کی فکری اور تہذیبی ساخت کا حصہ بن جاتے ہیں، ان کے لیے تعلیم، تربیت، ادارہ سازی، عملی تجربے اور مسلسل مشق کی ضرورت ہوتی ہے۔
واضح رہے کہ صبر کی بات کرنے کا مطلب سستی یا کاہلی کو جواز فراہم کرنا ہرگز نہیں۔ یہ ایک بنیادی نکتہ ہے، کیونکہ بعض لوگ تدریج اور مرحلہ وار پیش رفت کی دعوت کو کام مؤخر کرنے کا بہانہ بنا لیتے ہیں۔ اسلام جس نے عجلت سے منع کیا ہے، وہی اسلام نیک کاموں میں سبقت اور سرعت کی دعوت بھی دیتا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے:﴿وَسَارِعُوا إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ﴾ اپنے پروردگار کی مغفرت کی طرف دوڑو۔اور فرمایا: ﴿فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ﴾ پس نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو۔
چنانچہ ان دوباتوں میں بہت بڑا فرق ہے کہ کسی ایسے فرض کی ادائیگی میں جلدی کی جائے جس کے اسباب پوری طرح تیار ہو چکے ہوں، اور کسی ایسے نتیجے کے حصول میں عجلت کی جائے جس کے اسباب ابھی پختہ ہی نہ ہوئے ہوں۔
اقدام کرنا ایک خوبی ہے، جبکہ نتیجے کے لیے بے صبری کرنا ایک خامی۔
آج ہی تعلیم کے میدان میں کوئی نیا پروگرام شروع کرنا ایک احسن اقدام ہے، لیکن یہ توقع رکھنا کہ صرف ایک سال میں پورا معاشرہ علمی اور معرفتی معاشرہ بن جائے گا، یہ عجلت ہے۔اپنے بچے کو بچپن ہی سے سچائی کی تربیت دینا اقدام ہے، لیکن یہ سمجھنا کہ صرف ایک سبق اسے ہر قسم کی گمراہی سے محفوظ کر دے گا، عجلت ہے۔ آج ہی ایک مضبوط ادارہ قائم کرنا اچھا اقدام ہے، لیکن چند ہی برسوں میں اس سے پچاس سال پرانے اداروں جیسے نتائج کا مطالبہ کرنا عجلت ہے۔ پس یہی ناکامی کو دیکھنے کا انداز بدل دیتا ہے۔کیونکہ جن چیزوں کو ہم ناکامی کا نام دیتے ہیں، ان میں سے بہت سی دراصل سیکھنے کے سفر کا ایک مرحلہ ہوتی ہیں۔ ایک سنجیدہ اور پائیدار منصوبہ ہمیشہ ایک سیدھی اوپر جاتی لکیر کی طرح آگے نہیں بڑھتا؛ کبھی آگے بڑھتا ہے، کبھی پیچھے ہٹتا ہے، اپنی غلطیوں کو دریافت کرتا ہے، اپنے طریقۂ کار کی اصلاح کرتا ہے اور بعض اوقات اپنے ابتدائی تصورات کو بھی تبدیل کرڈالتاہے۔ پس معاشرہ بھی اسی طرح سیکھتا اور آگے بڑھتا ہے۔
اسی لیے ترقی کی راہ پر گامزن قوموں کو صرف بڑے خیالات رکھنے والے افراد ہی نہیں، بلکہ ایسے لوگوں کی بھی ضرورت ہوتی ہے جو طویل سفر کے لیے مضبوط حوصلہ اور مستقل مزاجی رکھتے ہوں۔ انہیں ایسے استاد کی ضرورت ہوتی ہے جو برسوں تک اپنی ذمہ داری نبھاتا رہے، بغیر اس انتظار کے کہ لوگ اس کی پذیرائی کریں۔ ایسے محقق کی ضرورت ہوتی ہے جو اپنے کام کو اس وقت بھی جاری رکھے جب اس کے اثرات ابھی سامنے نہ آئے ہوں۔ ایسے والدین کی ضرورت ہوتی ہے جو یہ سمجھتے ہوں کہ شخصیت کی تعمیر ایک طویل عمل ہے۔ ایسے صاحبِ منصوبہ کی ضرورت ہوتی ہے جو پہلی ناکامی پر اپنے منصوبے سے دست بردار نہ ہو جائے۔ اور ایسے مصلح کی ضرورت ہوتی ہے جو یہ جانتا ہو کہ کسی ثقافت کو تبدیل کرنا، اس کے خلاف محض ایک نعرہ بلند کرنے سے کہیں زیادہ دشوار کام ہے۔
یہیں سے دور اندیشی کی اہمیت سامنے آتی ہے۔ ہمارے بہت سے فیصلے نہایت قریبی سوالات کے گرد گھومتے ہیں کہ ’’اس مہینے کیا ہوگا؟‘‘ اس سال کون کامیاب ہوگا؟‘‘ جبکہ مستقبل کے بارے میں سوچنے والے معاشرے یہ سوال کرتے ہیں کہ ہم بیس سال بعد کیسی شخصیت اور کیسا انسان تشکیل دینا چاہتے ہیں؟ ہمارے بچوں کو کس نوعیت کی تعلیم کی ضرورت ہوگی؟ ہم چاہتے ہیں کہ آنے والی نسل کون سی ثقافت اپنے ساتھ لے کر آگے بڑھے؟ اور آج ہمیں کون سے ادارے قائم کرنے چاہییں تاکہ اس وقت ان کے ثمرات سامنے آئیں جب شاید ہم خود موجود بھی نہ ہوں؟
انسانی فکر کی پختگی کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ وہ ایسے فا ئدےکے لیے کام کرے جس سے لطف اندوز ہونے کا موقع شاید اسے خود نہ ملے۔یہ مفہوم دین کے پورے تصور میں نمایاں ہے۔ انسان دنیا میں ایسے اعمال انجام دیتا ہے جن کا مکمل فائدہ اسے آخرت میں ملے گا، اور وہ ایسے نیک کاموں کے بیج بوتا ہے جن کے تمام نتائج شاید اس کی زندگی میں اس کے سامنے نہ آئیں۔ بلکہ خود انبیاء کرام علیہم السلام نے بھی ایسے افکار اور اقدار کی بنیاد رکھی جن کے اثرات ان کے دنیا سے رخصت ہونے کے ہزاروں سال بعد بھی جاری رہے۔
اسی لیے ہمیں امید کی تعریف بھی ازسرِنو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ امید یہ نہیں کہ ہم توقع کریں کہ حالات بہت تیزی سے بدل جائیں گے، بلکہ امید یہ ہے کہ ہمیں یقین ہو کہ صحیح اور درست عمل کبھی ضائع نہیں ہوتا، خواہ اس کے تمام نتائج ہمیں آج دکھائی نہ دیں۔ مایوسی صرف یہ سمجھنا نہیں کہ تبدیلی ناممکن ہے، مایوسی اس وقت بھی جنم لے سکتی ہے جب ہم تبدیلی کے لیے ایک بہت مختصر مدت مقرر کر دیں اور پھر اس بات پر ناراض ہو جائیں کہ تبدیلی ہماری مقرر کردہ مدت کے مطابق کیوں نہیں آئی۔
حقیقت تو یہ ہے کہ نتائج کے حصول میں جلد بازی نے ہمارے بہت سے منصوبوں کو نقصان پہنچایا ہے، کیونکہ ہم نے درخت کے وجود میں آنے سے پہلے ہی اس کا پھل چاہا، انسان کی تعمیر کیے بغیر امت کی تعمیر چاہی، ادارے کی قدر و احترام کرنے والی ثقافت پیدا کیے بغیر مضبوط ادارے چاہے، اور ان بنیادی شرائط پر صبر کیے بغیر نشاۃِ ثانیہ کی آرزو کی جن کے بغیر وہ ممکن ہی نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ نشاۃِ ثانیہ کوئی ایسا واقعہ نہیں جس کا ہم انتظار کریں، بلکہ یہ ایک ایسا سفر ہے جسے ہمیں خود جینا ہوتا ہے۔ یہ اس دن شروع نہیں ہوتی جب ہم کسی بڑے منصوبے کا اعلان کرتے ہیں، بلکہ اس وقت شروع ہوتی ہے جب ہم یہ سیکھ لیتے ہیں کہ آج ایسے نتیجے کے لیے کام کرنا ہے جس میں وقت لگ سکتا ہے؛ ایسی بنیادیں قائم کرنی ہیں جنہیں بعد میں آنے والے لوگ مکمل کریں گے؛ اور کسی خیال کی قدر و اہمیت کو اس کی مقبولیت کی رفتار سے، یا کسی کام کی کامیابی کو اس کے ثمرات ظاہر ہونے کی رفتار سے نہیں ناپنا۔
وقت نشاۃِ ثانیہ کا دشمن نہیں، بلکہ یہ اس کی تعمیر کے بنیادی وسائل میں سے ایک ہے۔
شاید ہمارا اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ہمیں صرف کسی نئے منصوبے کی ضرورت ہے، بلکہ ہمیں ایک نئی طرزِ فکر اور نئے حوصلے کی ضرورت ہے؛ ایسا حوصلہ جو یہ جانتا ہو کہ جہاں آغاز ضروری ہو وہاں فوراً آغاز کیسے کرنا ہے، اور جہاں تعمیر صبر کا تقاضا کرے وہاں طویل عرصے تک ثابت قدم کیسے رہنا ہے۔کیونکہ قومیں وقت کو پھلانگ کر ترقی نہیں کرتیں، بلکہ اس فن کو سیکھ کر ترقی کرتی ہیں کہ وقت کو کس طرح اپنے حق میں استعمال کرنا ہے۔