واپس
شوقِ مطالعہ کی سمت: ہم نے فکری کتب چھوڑ کر ناولوں سے دل کیوں لگایا؟

شوقِ مطالعہ کی سمت: ہم نے فکری کتب چھوڑ کر ناولوں سے دل کیوں لگایا؟

الشيخ مقداد الربيعي

حالیہ کتابی نمائشوں کے دوران ایک قابلِ توجہ رجحان سامنے آیا کہ بالخصوص نوجوان قارئین ناولوں اور داستانوں میں غیر معمولی دلچسپی لے رہے ہیں، جب کہ فکری، تاریخی اور سائنسی کتب کی جانب نسبتاً کم توجہ دکھائی دیتی ہے۔ یہ صورتِ حال یقیناً ایک اہم سوال کو جنم دیتی ہے کہ آیا یہ رجحان مثبت ہے یا فکری و ثقافتی زوال کی علامت۔

میرے نزدیک اسے عجلت میں ملامت یا انحطاط سے تعبیر کرنے کے بجائے ایک مثبت امکان کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ ناول اور داستان کی طرف نوجوانوں کا رجحان کم از کم اس بات کی علامت ہے کہ ان کے اندر پڑھنے کی خواہش ابھی زندہ ہے۔ وہ کتاب سے جڑنا چاہتے ہیں، مگر اپنی پسند، ذوق اور فطری تجسس کے راستے سے۔ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ وہ پڑھنا نہیں چاہتے، بلکہ یہ ہے کہ وہ کیا پڑھنا چاہتے ہیں۔یہی شوق اگر زندہ رکھا جائے تو یہی ناول کل انہیں تاریخ، فلسفے، سائنس اور دیگر علمی شعبوں کی طرف بھی لے جا سکتے ہیں۔ اس لیے ضرورت نوجوانوں کو مطالعے پر مجبور کرنے کی نہیں، بلکہ ان کے شوقِ مطالعہ کو پروان چڑھانے کی ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں ممتاز مفکر ایلَن جیکبز  کا تصورِ مطالعہ خاص اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔ جیکبز کے نزدیک مطالعے کی روایت کو زندہ رکھنے کے لیے سب سے پہلے حبِ مطالعہ کو زندہ رکھنا ضروری ہے۔ خصوصاً نوآموز قاری کے معاملے میں بعض علمی و ثقافتی حلقوں کی ایک بڑی غلطی یہ ہے کہ وہ مطالعے کو شوق، مسرت اور دریافت کے آزادانہ تجربے کے بجائے ایک ایسے مدرسی فریضے میں تبدیل کر دیتے ہیں جسے ہر حال میں پورا کرنا ضروری سمجھا جائے۔

ہماری ثقافتی روایت میں اکثر ایسی فہرستیں مرتب کی جاتی رہی ہیں جن کا عنوان کچھ یوں ہوتا ہے: وہ سو کتابیں جو ایک صاحبِ علم انسان بننے کے لیے آپ کو ضرور پڑھنی چاہییں۔ بظاہر ایسی فہرستیں مفید اور معلومات افزا معلوم ہوتی ہیں، لیکن بعض اوقات ان کا غیر محتاط استعمال مطالعے کے فطری لطف کو متاثر کر دیتا ہے۔ قاری کتاب کو ایک خوش گوار تجربے کے بجائے ایک مشکل ذمہ داری سمجھنے لگتا ہے؛ اسے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اسے علم کی کسی لازمی منزل تک پہنچنے کے لیے ایک طویل اور تھکا دینے والا نصاب مکمل کرنا ہے۔جب مطالعہ شوق کے بجائے وجوب بن جائے تو علم کا فطری تجسس بھی رفتہ رفتہ ماند پڑنے لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جیکبز، معروف شاعر اور نقاد رینڈل جیرل کی اس مختصر مگر معنی خیز نصیحت کو اہمیت دیتے ہیں: "Read at whim" یعنی اپنی خواہش، اپنے ذوق اور اپنے میلان کے مطابق پڑھو۔

یہ اصول بظاہر سادہ ہے، مگر اس میں مطالعے کے ایک بنیادی فلسفے کی روح پوشیدہ ہے: مطالعے کا آغاز کسی بیرونی حکم، فہرست یا سماجی دباؤ کے بجائے ذاتی رغبت اور اندرونی تجسس سے ہونا چاہیے۔ قاری کو یہ آزادی حاصل ہونی چاہیے کہ وہ اپنی پسند کی کتاب پڑھے، اسے چھوڑے، دوبارہ لوٹے اور اپنے ذوق کے مطابق مطالعے کی راہ متعین کرے۔

جیکبز اسی موقف کی تائید میں ڈبلیو۔ ایچ۔ اوڈن کے خیالات پیش کرتے ہیں کہ قاری کو مطالعے میں ذاتی دلچسپی، مسرت اور اپنے ذوق کی پیروی کرنی چاہیے۔ جس کتاب میں اسے دلچسپی نہ ہو، اسے محض جبر کے تحت پڑھنا مطالعے کو بوجھ بنا سکتا ہے اور بالآخر قاری کو کتاب سے دور کر سکتا ہے۔

اس تناظر میں نوجوانوں کا ناولوں اور داستانوں کی طرف رجحان ایک اہم ثقافتی اشارہ ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ کہانی، کردار اور بیانیہ آج بھی انسانی ذہن و جذبات پر گہرا اثر رکھتے ہیں۔ انسان صرف معلومات نہیں چاہتا؛ وہ تجربہ، جذبات، معنی اور کہانی بھی چاہتا ہے۔ ایک اچھی داستان اسے نئی زندگیوں، مختلف عہدوں اور اجنبی دنیاؤں سے متعارف کراتی ہے۔

لہٰذا ہمیں اس رجحان کو محض قابلِ ملامت قرار دینے کے بجائے اس میں موجود امکانات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اگر نوجوان ناول پڑھ رہے ہیں تو یہ سوال زیادہ بامعنی ہے کہ ہم ان کے اس شوق کو وسیع تر مطالعے کی طرف کیسے ایک قدرتی راستہ بنا سکتے ہیں؟

یہاں علمی اور ثقافتی حلقوں کی ذمہ داری شروع ہوتی ہے۔ ہمیں عظیم فلسفیانہ، تاریخی اور حتیٰ کہ سائنسی تصورات کو بھی ایسے دلکش، رواں اور بیانیہ اسلوب میں پیش کرنے کے امکانات پر غور کرنا چاہیے جو قاری کے ذوق سے ہم آہنگ ہو۔ تاریخ کو محض تاریخِ اشخاص و تواریخ نہ رہنے دیا جائے بلکہ اسے انسانی تجربات اور واقعات کی کہانیوں کے ذریعے زندہ کیا جائے؛ سائنس کو محض اصطلاحات کا مجموعہ نہ بنایا جائے بلکہ اس کے پیچھے کارفرما حیرت، جستجو اور انسانی دریافت کے سفر کو بیان کیا جائے؛ فلسفے کو محض مشکل نظریات کی زبان میں نہیں بلکہ انسانی سوالات اور زندگی کے تجربات کے تناظر میں پیش کیا جائے۔

اس طرح ہم قاری کے ذوق کو کمتر سمجھے بغیر اسے آہستہ آہستہ وسیع تر علمی دنیا سے متعارف کرا سکتے ہیں۔ مقصد یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ناول پڑھنے والے نوجوان کو ناول سے نکال کر فوراً کسی فلسفیانہ یا سائنسی کتاب کے سامنے بٹھا دیا جائے؛ بلکہ مقصد یہ ہونا چاہیے کہ اس کے اندر موجود پڑھنے کی خواہش کو زندہ رکھا جائے اور پھر اسی خواہش کو مختلف سمتوں میں سفر کرنے کے لیے آزاد چھوڑ دیا جائے۔

حقیقی معنوں میں ایک صاحبِ مطالعہ معاشرے کی بنیاد اسی وقت رکھی جا سکتی ہے جب ہم نوآموز قاری کو سب سے پہلے کتاب کے محاسن اور مطالعے کی مسرت سے آشنا کریں۔ اسے یہ احساس دلائیں کہ کتاب محض امتحان، نصاب یا علمی مرتبے کی علامت نہیں، بلکہ ایک ایسی دنیا ہے جو اس کے لیے نئے آفاق کے دروازے کھول سکتی ہے۔اس کے بعد شاید سب سے اہم کام یہ ہے کہ ہم ایک قدم پیچھے ہٹ جائیں اور قاری کو آزادی دے دیں۔اسے اپنی پسند کی کتاب منتخب کرنے دیں، اپنی رفتار سے پڑھنے دیں، اپنی دلچسپی کے مطابق موضوع بدلنے دیں اور کبھی کسی کتاب کو ادھورا چھوڑ دینے کی گنجائش بھی دیں۔ ممکن ہے آج اسے صرف ایک ناول پسند آئے، کل وہ کسی تاریخی واقعے کی طرف متوجہ ہو، پرسوں کسی سائنسی سوال کے پیچھے چل پڑے اور کچھ عرصے بعد خود کسی فلسفیانہ کتاب کی تلاش میں ہو۔ مطالعے کا حسن یہی ہے کہ اس کے راستے ہمیشہ پہلے سے طے شدہ نہیں ہوتے۔

بالآخر، وہ ناول جسے ایک نوجوان آج اپنی مکمل رغبت اور شوق سے اٹھاتا ہے، بعید نہیں کہ کل وہی اس کے لیے علم و فکر کی وسیع تر دنیا میں داخل ہونے کا پہلا دروازہ ثابت ہو۔ آج کا داستانی قاری ضروری نہیں کہ کل بھی صرف داستان ہی تک محدود رہے۔ اگر اس کے اندر پڑھنے کی محبت پیدا ہو گئی تو کتاب خود اسے ایک دنیا سے دوسری دنیا تک لے جا سکتی ہے۔اس لیے شاید ہمیں نوجوان کے ہاتھ میں موجود کتاب سے پہلے اس کے دل میں موجود شوقِ مطالعہ کو دیکھنا چاہیے۔ کتاب کا انتخاب بعد کی بات ہے؛ سب سے اہم یہ ہے کہ انسان کتاب اٹھا رہا ہے۔اور جہاں کتاب ابھی ہاتھ میں ہے، وہاں امید بھی ابھی زندہ ہے۔

شیئر: