الشيخ مقداد الربيعي
کیا آپ نے کبھی اپنے شہر میں گھومتے ہوئے یہ محسوس کیا ہے کہ نئے کھلنے والے کیفے بالکل ان کیفوں جیسے دکھائی دینے لگے ہیں جن کی تصاویر آپ نے برلن، سیول یا نیویارک میں دیکھی ہوں؟ وہی سیمنٹ کی دیواریں، مدھم روشنی اور چھتوں سے لٹکتے ہوئے پودے۔کیا آپ نے یہ بھی محسوس کیا ہے کہ نوجوانوں کے گفتگو کرنے کے انداز، ان کے درمیان رائج ہونے والی اصطلاحات، حتیٰ کہ لباس کے انداز اور ان کے ڈیزائن بھی اس حد تک ایک دوسرے کی نقل بنتے جا رہے ہیں کہ ان میں مقامی تہذیبی جڑوں کی کوئی نمایاں جھلک باقی ہی نہیں ہے؟ یا پھر یہ کہ ثقافتی اور دینی مباحث بھی اب بڑی حد تک نہایت مختصر ویڈیوز میں سمیٹ دیے گئے ہیں، جہاں دیکھنے والوں کو پہلے ہی چند سیکنڈز میں بصری اور لفظی سنسنی کے ذریعے اپنی طرف اس قدر متوجہ کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے، تاکہ وہ اس ویڈیو چھوڑ کر کو آگے بڑھ ہی نہ سکے ؟ یہ حیرت انگیز یکسانیت محض اتفاق نہیں، بلکہ اس رجحان کا براہِ راست نتیجہ ہے جسے ڈیجیٹل ثقافت کے مصنف اور ماہر کائل چائیکا نے ’’فلٹر ورلڈ‘‘کا نام دیا ہے۔
یہاں بنیادی اور گہرا نکتہ ایک چونکا دینے والی حقیقت کے گرد گھومتا ہے کہ الگورتھم پر مبنی خود کار نظام ، یعنی وہ پوشیدہ نظام جو یہ طے کرتے ہیں کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر آپ کے سامنے کیا پیش کیا جائے، اس نظام نے صرف علم اور ثقافت تک ہماری رسائی کے طریقے کو تبدیل نہیں کیا، بلکہ خود ثقافت کو ہی تبدیل کر دیا ہے۔
کانٹینٹ کریٹرز نے یہ حقیقت سمجھ لی کہ ’’الگورتھم ہی اصل دروازہ ہے‘‘۔ چونکہ یہ الگورتھم اپنی ساخت کے اعتبار سے مانوس، تیز اور فوری طور پر قابلِ توجہ مواد کی حوصلہ افزائی کرتا ہے ، انہیں سامنے لاتا ہے، جبکہ اجنبی، گہرے اور غور و فکر کا تقاضا کرنے والے مواد کو پیچھے دھکیل دیتا یے، اس لیے ہر شخص نے اپنے خیالات اور اپنی تخلیقات کو اس انداز میں ڈھالنا شروع کر دیا جو اس ’’مشین‘‘ کو پسند آئے۔نتیجتاً پوری دنیا میں ایک ایسی صورتِ حال پیدا ہو گئی ہے جسے ’’عالمی یکسانیت‘‘ کہا جا سکتا ہے، یعنی مختلف معاشروں، ثقافتوں اور لوگوں کے درمیان فکری و ثقافتی فرق بتدریج مٹتا جا رہا ہے اور سب کچھ ایک ہی سانچے میں ڈھلنے لگا ہے۔
خالقِ کائنات کی حکمت کا تقاضا تھا کہ اس نے ہمیں مختلف قوموں اور قبیلوں میں پیدا کیا، تاکہ ہم ایک دوسرے کو پہچانیں۔ یہی ثقافتی تنوع اور اقوام کی ان منفرد خصوصیات اور شناختوں کی حفاظت، جو انہیں دوسروں سے ممتاز کرتی ہیں، درحقیقت عالمی ثقافت کو مالا مال کرنے اور انسانی فکر و شعور کے دائرے کو وسیع کرنے کا ذریعہ ہے۔ ہر ثقافت اپنے اندر اپنی بنیادی اقدار اور ایک گہری تاریخی میراث رکھتی ہے، لیکن آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ سوشل میڈیا کے الگورتھم ہمیں بڑی تیزی اور شدت کے ساتھ ایک ایسی یکساں سطحیت پسند ثقافت کی طرف لے جا رہے ہیں، جس میں سب کچھ ایک ہی سانچے میں ڈھلتا جا رہا ہے۔
ہم ان ثقافتی خصوصیات کے تیزی سے مٹنے اور مختلف شناختوں کے ایک ایسی پھیکی اور بے رنگ شناخت میں ضم ہونے کا مشاہدہ کر رہے ہیں، جس کی بنیاد ایک خالصتاً مشینی معیار پر ہے، جو چیز ’’مقبول، سنسنی خیز اور سطحی‘‘ ہو، اسے انعام دینا، اور جو چیز ’’گہری، مفید اور اصیل‘‘ ہو، اسے نظرانداز کر دینا۔
اس دور کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہ خوف ناک ثقافتی یکسانیت ’’شخصی تخصیص‘‘ کے نام پر رونما ہو رہی ہے۔ پلیٹ فارم ہر صارف کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ اس کے سامنے پیش کیا جانے والا مواد خاص طور پر اسی کے لیے اور اس کے منفرد ذوق کے مطابق تیار کیا گیا ہے، جبکہ مجموعی نتیجہ انسانی معاشرے میں ایسی بے مثال یکسانیت کی صورت میں سامنے آ رہا ہے جو پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔
اس نظام نے ایک ایسا یکساں ماحول پیدا کر دیا ہے جہاں لوگوں کے ذوق ایک دوسرے کے قریب آتے جا رہے ہیں، اس لیے نہیں کہ لوگوں نے باہمی میل جول اور ثقافتی تبادلے کے ذریعے ایک دوسرے کو سمجھا ہے، بلکہ اس لیے کہ انہیں مواد فراہم کرنے اور ان کی ذہنی تشکیل کرنے والی مشین ایک ہی ہے۔اسی تناظر میں ’’ذوق‘‘ اور ’’شعور‘‘ کو ایک بڑی پسپائی کا سامنا ہے۔ کبھی ذوق ایک ایسی صلاحیت تھا جو محنت، تلاش، مطالعے اور شعوری انتخاب کے ذریعے پروان چڑھتا تھا، لیکن اب وہ بتدریج کمزور ہو رہا ہے اور اس کی جگہ اس غیر فعال طرزِ قبولیت نے لے لی ہے جس میں انسان وہی کچھ قبول کرتا ہے جو مشین اس کے سامنے پیش کرتی ہے۔
ہم اپنے عرب اور اسلامی معاشروں میں اس منظر کے محض تماشائی نہیں ہیں، بلکہ ہم خود اس طوفان کے عین مرکز میں کھڑے ہیں۔ ہم بھی انہی پلیٹ فارمز کو استعمال کرتے ہیں اور اپنی بولیوں، رسوم و رواج اور ذوق پر اس کے وہی تباہ کن اثرات دیکھ رہے ہیں۔ اور جب یہ تنقیدی تشخیص خود مغربی مرکز کے اندر سے سامنے آتی ہے تو ہماری بات کو مزید تقویت ملتی ہے، چنانچہ اپنی تہذیبی خصوصیات اور اسلامی و قومی شناخت کا دفاع کرنا نہ تو تنگ نظری ہے اور نہ گوشہ نشینی، بلکہ اس خودکار سطحیت کے خلاف ایک جائز اور ناگزیر مزاحمت ہے جو پوری انسانیت کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہے۔
الگورتھم کی یہ منطق کو گہری سمجھ بوجھ فکری اور دینی اداروں کے سامنے ایک وجودی چیلنج کھڑی کر چکی ہے۔ کیونکہ یہ ادارے ایسا سنجیدہ علمی و فکری پیغام پیش کرتے ہیں جس کے لیے غور و فکر اور سمجھ بوجھ ضروری ہے، جبکہ ڈیجیٹل ذریعہ مختصر اور سنسنی خیز مواد کو زیادہ پذیرائی دیتا ہے۔ دانش مندانہ ابلاغی منصوبہ بندی کا تقاضا یہ ہے کہ ہم گہرائی سے دست بردار ہوئے بغیر، ذہانت کے ساتھ اس ڈیجیٹل ذریعے میں اپنی جگہ بنائیں اور اس کے حصار کو توڑیں۔
حل کا آغاز اس عمل سے ہوتا ہے جسے ’’الگورتھمی تطہیر‘‘ کہا جا سکتا ہے، اور اس کے ساتھ شعوری انسانی انتخاب کو دوبارہ اس کی اہمیت دینا ضروری ہے۔ یہ دعوت اپنی روح کے اعتبار سے ہماری اسلامی علمی روایت میں ’’سند و اجازت‘‘ کے منطق کو دوبارہ زندہ کرنے سے مشابہ ہے، جہاں کسی متن اور علم کو آگے منتقل کرنے کا معیار ایک ایسے قابلِ اعتماد اور صاحبِ حکمت انسان کی گواہی اور اعتماد ہو، نہ کہ ’’ویوز کی تعداد‘‘ یا اندھی ’’ٹرینڈنگ‘‘۔یوں ہم اپنے شعور کو اس یکساں مشین کے غلبے سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔