واپس
وحی ہدایت سے بے نیاز دنیا کی اخلاقی اقدار کی تشکیل میں ناکامی کے علل و اسباب

وحی ہدایت سے بے نیاز دنیا کی اخلاقی اقدار کی تشکیل میں ناکامی کے علل و اسباب

تحریر: شیخ مقداد الربیعی

عہدِ حاضر ایک ایسے گہرے اخلاقی بحران سے دوچار ہے جسے محض ’’اخلاقیات کے فقدان‘‘ تک محدود نہیں کیا جا سکتا، بلکہ مسئلہ اس سے کہیں زیادہ بنیادی اور گھبیر صورت اختیار کر چکا ہے، وہ یہ ہے کہ  اخلاقیات کو اس کے حقیقی مفہوم، روح اور مقصد سے ہی جدا کر دیا ہے۔ بنابریں تعلیمی اداروں اور دیگر سماجی و تربیتی مراکز میں انسانی ارتقا  کے متعدد پروگراموں اور ’’اقدار کی تربیت‘‘ کے مختلف نصابہائ تعلیم  کی فراوانی کے باوجود معاشرہ ایک گہری اخلاقی زبوں حالی، کردار کی کمزوری اور داخلی کھوکھلے پن کا شکار ہے۔ یہی وہ واضح تضاد ہے جس نے امریکی ماہرِ عمرانیات جیمز ڈیویسن ہنٹر کو اپنے ایک دقیق عمرانیاتی مطالعے میں خطرے کی گھنٹی بجانے پر مجبور کیا۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اصل مسئلہ اخلاقی بیانیے یا اخلاقی تلقین کی کمی میں پوشیدہ نہیں، بلکہ اصل مسئلہ ان بنیادی شرائط اور بنیادوں کے زوال میں مضمر ہے جو اس بیانیے کو فعال، مؤثر اور اثر انگیز بناتی ہیں۔

شجرکے بغیر ثمر: ایک سعی لاحاصل

ہنٹر اس بحران کی نہایت باریک اور گہری تشخیص کرتے ہوئے اس بنیادی تضاد کی نشان دہی کرتے ہیں  کہ جدید انسان ایک ایسی زمین میں فضیلت کی آبیاری کا خواہاں ہے جس کی مٹی بنجر اور پیدارواری صلاحیت کے اعےبار سے کمزور ہوچکی ہے اور یا پھر اس میں مٹی سرے موجود ہی نہیں ہے۔ جدید معاشروں نے خود کو کسی واضح اخلاقی مرجعیت اور متعالی سند سے وابستہ رکھنے سے گریز کیا ہے۔ انہوں نے فرد سے ماورا کسی حتمی اور قطعی منبعِ التزام کی ضرورت کو بڑی حد تک مسترد کر دیا ہے، یہاں تک کہ ’’قطعی اور ناقابلِ بحث محرمات‘‘ کے تصور کو بھی محلِ نظر بنا دیا ہے؛ لیکن اس کے باوجود وہ یہ توقع رکھتے ہیں کہ فرد میں مضبوط کردار، اخلاقی استقامت، محاسبہ نفس اور فضیلت و کمالات شخصیہ  جیسی صفات پوری قوت کے ساتھ پروان چڑھتی رہیں۔

چنانچہ سوال یہ ہے کہ جب اخلاقی شخصیت کی تشکیل کے لیے کوئی مضبوط اور متعالی بنیاد باقی نہ رہے تو پھر اس کے زوال اور انتشار پر حیرت کیوں؟’’جدید معاشرہ درخت کے بغیر پھل کا خواہاں ہے۔ وہ ایک ایسی مستقیم شخصیت چاہتا ہے جس کے پسِ پشت اسے پروان چڑھانے والا کوئی عقیدہ نہ ہو؛ ایسی پابند کرنے والی فضیلت چاہتا ہے جس کے پیچھے کوئی قوتِ نافذہ نہ ہو؛ اور ایسے عمومی و مشترکہ اخلاق کا متلاشی ہے جو اس تخصیص سے عاری ہو جو اخلاقیات کو اس کا حقیقی مفہوم اور جوہر عطا کرتی ہے۔‘‘ (موت الشخصية: التربية الأخلاقية في عصر بلا خير أو شر"، جيمس ديفيسون هنتر، نيويورك، 2000)

ہنٹر کا یہ تجزیہ انسان سازی کے قرآنی تصور کے ساتھ ایک نہایت معنی خیز مماثلت رکھتا ہے۔ اسلام اخلاقیات کو محض غیر جانب دارانہ رویوں، سماجی مہارتوں یا اچھے اوصاف کی ایک بے روح فہرست کے طور پر نہیں دیکھتا، بلکہ اسے عقیدے، ایمان اور انسان کے اللہ تعالیٰ اور یومِ آخرت کے ساتھ تعلق سے گہرائی کے ساتھ وابستہ کرتا ہے۔ اسلامی تصور میں اخلاق، عقیدے سے الگ کوئی خود مختار اور بے بنیاد عمارت نہیں، بلکہ ایمان ہی وہ داخلی اساس ہے جس سے اخلاقی شعور، ارادے کی قوت اور عمل کی سمت متعین ہوتی ہے۔

قرآن مجید نے اسی تعلق کو درخت کی تمثیل میں بیان کیا ہے، جہاں عقیدے کو جڑ اور اخلاق و عملِ صالح کو اس کے ثمر سے تعبیر کیا گیا ہے۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ﴿أَلَمْ تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ * تُؤْتِي أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍ بِإِذْنِ رَبِّهَا وَيَضْرِبُ اللَّهُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ﴾ (سورة إبراهيم، الآيتان 24-25)

کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے کیسی مثال پیش کی ہے کہ کلمہ طیبہ شجرہ طیبہ کی مانند ہے جس کی جڑ مضبوط گڑی ہوئی ہے اور اس کی شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہیں؟ وہ اپنے رب کے حکم سے ہر وقت پھل دے رہا ہے اور اللہ لوگوں کے لیے مثالیں اس لیے دیتا ہے تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں ۔

اخلاقی التزام اور اس کا ماورائی سرچشمہ

جدید اخلاقی تربیت کی تمام حکمتِ عملیاں خواہ وہ نفسیاتی بنیادوں پر قائم ہوں اور  خواہ اجتماعی نوعیت رکھتی ہوں، یا کلاسیکی اخلاقی ورثے کی بازیافت کی کوشش کرتی ہوں ایک ہی بنیادی علت کے باعث ناکام ہوجاتی ہیں۔ وہ اخلاقی التزام کو اس کے حقیقی سرچشمے کے بغیر پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔جب درست اور نادرست کا معیار خود فرد یا تغیر پذیر معاشرتی رواج بن جائے تو اخلاق اپنی الزامی قوت کھو دیتا ہے، خصوصاً ان مواقع پر جب انسان کمزوری، خواہش یا کسی پوشیدہ ترغیب کے سامنے ہو۔(جیمز ڈیوسن ہنٹر، موتِ شخصیت: خیر و شر سے عاری عہد میں اخلاقی تربیت، نیویارک، 2000ء)

جب یہ نتیجہ ایک امریکی جامعہ سے وابستہ محقق کی میدانی تحقیق کے تناظر میں سامنے آتا ہے تو ’’اخلاق کے لیے دین کی ضرورت‘‘ کا تصور محض مذہبی اداروں کے داخلی یا کلامی دفاع کے دائرے سے نکل کر ایک وسیع تر علمی اور واقعاتی بحث کا موضوع بن جاتا ہے۔ اس زاویۂ نظر کے مطابق اخلاق محض انسانی اتفاقِ رائے، سماجی مفاد یا بدلتے ہوئے نسبی معیارات کی بنیاد پر قائم رہے تو اسے شدید نفسانی، معاشرتی اور ثقافتی دباؤ کے مقابل پائیدار بنانا مشکل ہو جاتا ہے؛ اسے ایک ایسی بالاتر اخلاقی اتھارٹی کی ضرورت پیش آتی ہے جو انسانی ترجیحات اور نسبی اقدار سے ماورا ہو۔

اسی اصول کو اہلِ بیتؑ کی اخلاقی تعلیمات میں نہایت واضح صورت میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ان تعلیمات میں حُسنِ اخلاق کو محض ظاہری طرزِ عمل نہیں، بلکہ ایمان کی باطنی کیفیت کا مظہر سمجھا گیا ہے۔ چنانچہ کردار کی پائیداری کا تعلق صرف اس بات سے نہیں کہ انسان کیا کرتا ہے، بلکہ اس بات سے بھی ہے کہ اس کے عمل کے پیچھے کون سا اعتقادی اور روحانی سرچشمہ کارفرما ہے۔

امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں: (إِنَّ أَكْمَلَ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَاناً أَحْسَنُهُمْ خُلُقاً) ’’مومنوں میں کامل ترین ایمان والا وہ ہے جس کا اخلاق سب سے بہتر ہو۔‘‘( الکافی، شیخ کلینی، ج 2، ص 99) ایک اور روایت میں امام جعفر صادق علیہ السلام اخلاقی فضائل کو ان کے الٰہی سرچشمے سے مربوط کرتے ہوئے فرماتے ہیں:(إنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى خَصَّ رَسُولَ اللَّهِ (صلى الله عليه وآله) بِمَكَارِمِ الْأَخْلَاقِ، فَامْتَحِنُوا أَنْفُسَكُمْ، فَإِنْ كَانَتْ فِيكُمْ فَاحْمَدُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَارْغَبُوا إِلَيْهِ فِي الزِّيَادَةِ مِنْهَا)

بے شک اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مکارمِ اخلاق کے ساتھ خاص کیا ہے ۔ پس اپنے آپ کو جانچو، اگر یہ اوصاف تم میں موجود ہیں تو اللہ عزوجل کی حمد کرو اور اللہ سے ان میں اضافہ کی دعا طلب  کرو ۔ ( الکافی، شیخ کلینی، ج 2، ص 56)

لہٰذا اخلاقی تربیت کے بحران اور اقدار کے زوال کا حل محض ایسے نئے، کھوکھلے سانچوں کی ایجاد نہیں جو نئی نسلوں کو اقدار کے بارے میں گفتگو کرنا تو سکھائیں، مگر ان پر عمل کے لیے کوئی حقیقی باطنی محرک پیدا نہ کریں۔کیونکہ انسانی شخصیت کی حقیقی تعمیر اسی وقت ممکن ہے جب ’’اسکی بار آوری کو اس کی جڑ سے دوبارہ جوڑا جائے‘‘یعنی صالح انسان کی تشکیل کے لیے ایک پختہ اور راسخ عقیدے کی بنیاد فراہم کی جائے، ایک ایسی بنیاد جو انسان کے اندر ایک خودکار نگران، ایک نہ ختم ہونے  والی اخلاقی حرارت اور احساسِ التزام پیدا کرے، ایک ایسا التزام جووہ اپنی قوت اور ثبات زمینی تغیرات سے نہیں، بلکہ آسمان، یعنی وحیِ الٰہی، سے اخذ کرتا ہو۔

شیئر: