واپس
تفریح اوقات دو مختلف مصارف: امیر پڑھتے ہیں اور غریب تفریح کرتے ہیں، اسکرینیں معاشرے میں طبقاتی فرق کیسے پیدا کرتی ہیں؟

تفریح اوقات دو مختلف مصارف: امیر پڑھتے ہیں اور غریب تفریح کرتے ہیں، اسکرینیں معاشرے میں طبقاتی فرق کیسے پیدا کرتی ہیں؟

شیخ مقداد الربیعی

انسانی تاریخ کے بیشتر حصے میں انسان اپنی زندگی کا بڑا حصہ سخت محنت میں گزارتا رہا ہے۔ وہ سورج طلوع ہونے سے اس کے غروب ہونے تک اپنے اور اپنے خاندان کے لیے روزی کمانے میں مصروف رہتا تھا۔ لہذا اس کے پاس اس طرح کا فارغ وقت نہیں ہوتا تھا جسے آج ہم اپنی زندگی کا ایک عام حصہ سمجھتے ہیں۔لیکن صنعتی انقلاب اور پھر ٹیکنالوجی کی ترقی نے انسانی زندگی میں ایک بڑی تبدیلی پیدا کی۔جس کے سبب کام کے اوقات کم ہوئے اور لوگوں کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ فارغ وقت ملنے لگا۔ اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ انیسویں صدی میں ایک شخص سالانہ تقریباً 3000 گھنٹے کام کرتا تھا، جبکہ آج یہ مدت کم ہو کر تقریباً 1500 گھنٹے یا اس سے بھی کم رہ گئی ہے۔

اس بڑی تبدیلی کے نتیجے میں آج کے انسان کے پاس ہر ہفتے 40 گھنٹے سے بھی زیادہ فارغ وقت موجود ہے۔ یہ توقع کی جا رہی تھی کہ انسان اس اضافی وقت کو اپنی ذاتی صلاحیتوں کو بہتر بنانے، تخلیقی کام، غور و فکر، اور خاندان و معاشرے کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے میں استعمال کرے گا۔ لیکن اعداد و شمار نے ایک مختلف حقیقت سامنے رکھی۔ غیر فعال تفریح نے اس فارغ وقت کا بڑا حصہ اپنے قبضے میں لے لیا۔ یوں انسانیت کو ملنے والی وقت کی یہ بڑی نعمت، ترقی اور تعمیر کے بجائے ذہنی سطحیت اور فکری کمزوری کا ذریعہ بنتی گئی۔

یہی حیرت انگیز تضاد فرانسیسی ماہرِ اقتصادیات اولیویے بابو کی معروف کتاب ’’تفریح کا تسلط ‘‘کی بنیادی بحث ہے۔بابو اس کتاب میں اس نظام کا جائزہ لیتے ہیں جسے آج توجہ کی معیشت کہا جاتا ہے۔ اس کے مطابق مختلف ذرائعِ تفریح اور میڈیا مسلسل انسان کی توجہ حاصل کرنے اور اسے اپنے ساتھ مصروف رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

بابو اس موضوع کو فرانسیسی فلسفی بلیز پاسکل،کے تفریح کے بارے میں نظریات سے بھی جوڑتے ہیں۔ پاسکل کے نزدیک انسان کی ایک بڑی مشکل یہ ہے کہ وہ تنہائی میں خاموش بیٹھ کر اپنے آپ کا سامنا نہیں کر پاتا۔ اسی لیے وہ مسلسل کسی نہ کسی مشغلے اور تفریح کی طرف متوجہ رہتا ہے، تاکہ اسے اپنے آپ کے ساتھ تنہائی میں رہنے اور اپنے اندر جھانکنے کا موقع نہ ملے۔

نیا طبقاتی فرق:  اسکرینیں غربت کو کیسے بڑھاتی ہیں؟

اس مسئلے کی سنگینی کو سمجھنے کے لیے بابو نے وقت گزارنے کے دو مختلف طریقے بیان کیے ہیں۔

پہلا طریقہ ’’فائدہ مند مشغولیت‘‘ ہے۔ اس میں کتاب پڑھنا، خاندان کے ساتھ وقت گزارنا، عبادت کرنا، اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانا اور ورزش کرنا شامل ہیں۔ اس طرح گزارا ہوا وقت انسان کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے اور وقت کے ساتھ اس کے مثبت نتائج سامنے آتے ہیں۔

دوسرا طریقہ ’’نقصان دہ تفریح‘‘ ہے۔ اس سے مراد مسلسل اور عادت کے طور پر ایسا سطحی مواد دیکھتے رہنا ہے جس سے انسان کو کوئی خاص فائدہ نہیں ہوتا۔ اس طرح کی تفریح انسان کو دوسروں سے دور کرتی ہے، اس کی توانائی کم کرتی ہے اور اس کا قیمتی وقت بھی ضائع کرتی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق آج ایک عام شخص روزانہ تقریباً 4 سے 5 گھنٹے اسکرین کے سامنے گزارتا ہے۔ اس دوران وہ زیادہ تر صرف ویڈیوز، سوشل میڈیا اور دوسرے مواد کو دیکھتا رہتا ہے، یعنی وہ خود کوئی فعال کام نہیں کر رہا ہوتا۔لیکن اس کتاب کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ فارغ وقت گزارنے کے ان مختلف طریقوں نے معاشرے میں ایک نیا اور نظر نہ آنے والا طبقاتی فرق پیدا کر دیا ہے۔ اب امیری اور غریبی کا تعلق صرف اس بات سے نہیں کہ کسی شخص کے پاس کتنی دولت ہے، بلکہ اس بات سے بھی ہے کہ وہ اپنے قیمتی وقت کو کس طرح استعمال کرتا ہے۔

کتاب میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق کم آمدنی والے لوگ زیادہ آمدنی اور زیادہ تعلیم رکھنے والے لوگوں کے مقابلے میں اسکرین کے سامنے 40 فیصد تک زیادہ وقت گزارتے ہیں۔ اس وقت کا بڑا حصہ سوشل میڈیا اور ایسی تفریح میں صرف ہوتا ہے جس میں انسان صرف مواد دیکھتا رہتا ہے اور اس سے کوئی خاص فائدہ حاصل نہیں کرتا۔

اس اعداد و شمار کا مطلب کیا ہے؟

اس کا مطلب یہ ہے کہ خوش حال اور تعلیم یافتہ لوگ اپنے فارغ وقت کا زیادہ حصہ اپنی صلاحیتیں بڑھانے اور خود کو بہتر بنانے میں صرف کرتے ہیں۔ وہ کتابیں پڑھتے ہیں، ورزش کرتے ہیں، مختلف تربیتی کورسز کرتے ہیں اور اپنے بچوں کو بھی ایسی سرگرمیوں میں شامل کرتے ہیں جن سے ان کی صلاحیتیں بہتر ہوں۔اس طرح وہ اپنے لیے علمی اور سماجی سرمایہ بناتے ہیں، جو وقت کے ساتھ بڑھتا رہتا ہے اور ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کے بچے بھی پہلے سے بہتر مواقع حاصل کرتے ہیں اور یہ سلسلہ آگے چلتا رہتا ہے۔

اس کے مقابلے میں کم آمدنی والے لوگ مفت تفریح کے تسلط کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ اسکرینیں ان کا فارغ وقت لے لیتی ہیں اور ان کی توجہ بھی اپنی طرف کھینچ لیتی ہیں۔ اس وجہ سے انہیں نئی چیزیں سیکھنے، اپنی صلاحیتیں بڑھانے اور اپنی زندگی کے حالات بہتر بنانے کے لیے کم وقت ملتا ہے۔ یوں ایک طرح کی پسماندگی نسل در نسل منتقل ہونے لگتی ہے۔

مصنف اس بات کو واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: وقت کے استعمال میں یہ فرق معاشرے میں ایک نیا طبقاتی فرق پیدا کر رہا ہے۔ یہ فرق اس لیے نظر نہیں آتا کہ اسے آمدنی کی بنیاد پر نہیں ناپا جاتا۔ جو لوگ اپنے فارغ وقت کو سیکھنے اور اپنی صلاحیتیں بڑھانے میں استعمال کرتے ہیں، ان کے فوائد نسل در نسل بڑھتے جاتے ہیں۔ جبکہ جن لوگوں کا زیادہ وقت تفریح میں گزر جاتا ہے، وہ ایسی پسماندگی کا شکار ہو جاتے ہیں جو آمدنی کے اعداد و شمار میں نظر نہیں آتی۔(تفریح کا تسلط: اپنے فارغ وقت کو اپنی اور اپنے بچوں کی زندگی خراب نہ کرنے دیں، اولیویے بابو، پیرس، 2023ء)

اسلامی تعلیمات سے حیرت انگیز مماثلت: وقت کا خسارہ

جب ہم اس تجزیے کو دیکھتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ یہ باتیں اسلامی تعلیمات سے بھی بہت ملتی ہیں۔ اسلام نے آج سے چودہ سو سال پہلے ہی انسان کو وقت ضائع کرنے سے خبردار کیا تھا۔ اسلام کے نزدیک وقت انسان کا بہت قیمتی سرمایہ ہے اور اسے ضائع نہیں کرنا چاہیے۔قرآن کریم انسان کو یہ تعلیم دیتا ہے کہ جب وہ ایک کام سے فارغ ہو جائے تو بے مقصد نہ بیٹھے، بلکہ کسی دوسرے مفید کام میں مشغول ہو جائے اور اپنے رب کی طرف متوجہ رہے۔﴿فَإِذَا فَرَغْتَ فَانصَبْ ۝ وَإِلَىٰ رَبِّكَ فَارْغَبْ﴾ لہذا جب آپ فارغ ہو جائیں تو نصب کریں اور اپنے پروردگار ہی کی طرف راغب ہو جائیں ۔ (سورۃ الشرح، آیات 7-8)

اسلامی تعلیمات میں وقت کی اہمیت اس حدیث سے بھی واضح ہوتی ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا ﴿نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ: الصِّحَّةُ وَالْفَرَاغُ﴾ دو نعمتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں بہت سے لوگ خسارے میں رہتے ہیں: صحت اور فارغ وقت۔ (الخصال، شیخ صدوق، ص 34)

یہاں ’’مغبون‘‘ کا مطلب ہے: ایسا شخص جو کسی قیمتی چیز کو کم قیمت پر دے کر نقصان اٹھا لے۔ یعنی انسان صحت اور فارغ وقت جیسی قیمتی نعمتیں حاصل کرنے کے باوجود انہیں صحیح طرح استعمال نہ کرے تو دراصل وہ اپنا بڑا نقصان کر رہا ہے۔یہ حدیث بالکل واضح طور پر اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے جسے اولیویے بابو نے بہت عرصے بعد اعداد و شمار کے ذریعے بیان کیا۔ آج بہت سے لوگ روزانہ اپنے قیمتی وقت کا بڑا نقصان کر رہے ہیں۔ وہ ہر ہفتے تقریباً 40 گھنٹے ایسی تفریح میں گزار دیتے ہیں جو انہیں صرف چند لمحوں کی خوشی دیتی ہے، جبکہ یہی وقت وہ اپنی تعلیم، صلاحیتوں اور شخصیت کو بہتر بنانے میں استعمال کر سکتے تھے۔

فارغ وقت: مستقبل بنانے کا وقت

جب جدید یورپی اعداد و شمار یہ بتاتے ہیں کہ تفریح میں وقت ضائع کرنا سماجی پسماندگی کا سبب بن رہا ہے تو اس سے اسلامی تعلیمات میں وقت کی اہمیت بھی مزید واضح ہوتی ہے۔ اسلام نے بہت پہلے انسان کو اپنے وقت کی قدر کرنے اور اسے صحیح کاموں میں استعمال کرنے کی تعلیم دی ہے۔جو والدین اپنے بچوں کو ’’تفریح اور وقت گزارنے‘‘ کے نام پر ہر وقت موبائل فون، سوشل میڈیا اور مختلف ایپس میں مصروف رکھتے ہیں، وہ دراصل بچوں کو آرام دینے کے بجائے ان کا قیمتی وقت ضائع کر رہے ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ سے بچوں کو نئی چیزیں سیکھنے، اپنی صلاحیتیں بڑھانے اور آگے بڑھنے کے مواقع کم ملتے ہیں۔

فارغ وقت صرف وقت گزارنے یا بوریت دور کرنے کے لیے نہیں ہوتا۔ یہی وہ وقت ہے جس میں انسان اپنی شخصیت بناتا ہے، نئی صلاحیتیں سیکھتا ہے اور اپنے مستقبل کو بہتر بناتا ہے۔اس لیے جو شخص اپنا زیادہ تر فارغ وقت اسکرین اور غیر ضروری تفریح میں ضائع کر دیتا ہے، وہ دراصل اپنے مستقبل کے قیمتی مواقع خود ضائع کر رہا ہوتا ہے۔

شیئر: