الشيخ مقداد الربيعي
ان دنوں ہم حوزۂ علمیہ نجف اشرف کی ہزار سالہ تاریخ قیام کی مبارک تقریبات منا رہے ہیں۔ یہ عظیم علمی مرکز جو ایک ہزار سال سے علم و معرفت کا چراغ روشن کیے ہوئے ہے۔اس پر زمانے کے ان گنت نشیب و فراز آئے اور گزر گئے، لیکن اس حوزے کی علمی روایت اور اس کا تعلیمی نظام اپنی جگہ قائم رہا۔ اس موقع پر ایک بنیادی سوال ہمارے سامنے آتا ہے کہ اس کی طویل بقا اور حیرت انگیز علمی استحکام کا راز کیا ہے؟ اور یہ سوال بھی اہم ہے کہ حوزۂ علمیہ میں تحصیل علم دوسرے بہت سے تعلیمی اداروں کے مقابلے میں زیادہ نتیجہ خیز اور ثمرآور کیوں رہی؟
اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے پہلے ہمیں عصرِ حاضر کے نظامِ تعلیم کے ایک اہم مسئلے کو سمجھنا ہوگا۔ آج بہت سے تعلیمی ادارے اس مشکل سے دوچار ہیں کہ طلبہ بڑی مقدار میں معلومات حاصل کرنے کے باوجود انہیں مستقل طور پر اپنے ذہن میں محفوظ نہیں رکھ پاتے۔ اس کی ایک اہم وجہ مطالعے کے وہ عام طریقے ہیں جو بظاہر مؤثر دکھائی دیتے ہیں، لیکن حقیقت میں وہ اتنے مؤثر نہیں ہوتے؛ مثلاً کسی متن کو بار بار پڑھتے رہنا، اہم عبارتوں کے نیچے لکیریں کھینچنا یا انہیں نمایاں کرنا، اور کسی نئی مہارت یا معلومات کو مسلسل رٹنے یا اس کی مشق پر انحصار کرنا۔
یہ طریقے طالب علم میں یہ احساس ضرور پیدا کرتے ہیں کہ اسے سبق اچھی طرح یاد ہوگیا ہے، لیکن یہ احساس اکثر علم کے وہم کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ معلومات کو محض بار بار دیکھنے سے ان کے درمیان مضبوط ذہنی روابط قائم نہیں ہوتے، چنانچہ پہلی حقیقی آزمائش کے وقت معلوم ہوتا ہے کہ جس چیز کے بارے میں انسان یہ سمجھ رہا تھا کہ وہ اسے سیکھ چکا ہے۔
اسی مسئلے پر پیٹر براؤن، ہنری روڈیگر اور مارک مک ڈینیئل نے اپنی معروف کتاب (Make It Stick: The Science of Successful Learning) میں تفصیلی علمی تحقیق پیش کی ہے۔ ان کے مطابق مطالعے کے وہ طریقے جنہیں طلبہ عام طور پر سب سے زیادہ پسند کرتے ہیں، درحقیقت کم مؤثر طریقوں میں شمار ہوتے ہیں۔
اکثر مصنفین لکھتے ہیں:’’متون کو بار بار پڑھتے رہنا اور کسی نئی مہارت یا علم پر مسلسل اور بھرپور مشق کرنا، مختلف پس منظر کے حامل سیکھنے والوں کے پسندیدہ مطالعاتی طریقے ہیں؛ لیکن اس کے باوجود یہ طریقے سب سے کم مؤثر اور کم نتیجہ خیز حکمتِ عملی میں شمار ہوتے ہیں‘‘۔(ماخذ، Make It Stick، باب اول، Learning is Misunderstood، ص 3)
اس کے مقابلے میں مصنفین سیکھنے کے زیادہ مؤثر طریقوں میں ’’استرجاع کی مشق‘‘ (Retrieval Practice) اور ’’کوشش طلب تعلّم‘‘ (Effortful Learning) کو اہم قرار دیتے ہیں۔
اس طریقۂ کار کا بنیادی اصول یہ ہے کہ معلومات کو محض دوبارہ پڑھنے کے بجائے اسے اپنی یادداشت سے دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ انسان جتنی زیادہ ذہنی محنت کے ساتھ کسی معلومات کو حافظے سے نکالنے کی کوشش کرتا ہے، وہ معلومات اتنی ہی مضبوطی سے ذہن میں مستحکم ہوتی جاتی ہے اور اس کے دیرپا طور پر یاد رہنے کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔
مصنفین کے الفاظ میں: ’’جب سیکھنے کے عمل میں ذہنی محنت شامل ہو تو سیکھا ہوا علم زیادہ گہرا اور زیادہ دیرپا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، جو علم بغیر کسی خاص کوشش کے حاصل ہو جائے، وہ ریت پر لکھی ایسی تحریر کی مانند ہے جو آج تو موجود ہے لیکن کل مٹ جاتی ہے۔‘‘ (ماخذ، Make It Stick، باب اول، Learning is Misunderstood، ص 3)
اسی طرح وہ لکھتے ہیں:
’’استرجاع کی مشق ، یعنی حقائق، تصورات یا واقعات کو حافظے سے دوبارہ یاد کرکے سامنے لانا ، محض دوبارہ پڑھنے کے مقابلے میں سیکھنے کا کہیں زیادہ مؤثر طریقہ ہے۔‘‘ (Make It Stick، باب دوم Learn, Retrieve، ، 28)
یہ اصول، یعنی علم کے حصول میں ذہنی محنت اور اسے حافظے سے بار بار بازیافت کرنے کی اہمیت، اسلام کی تعلیمی روایت سے بھی گہری ہم آہنگی رکھتا ہے۔ قرآن کریم نے اپنی دعوت کے آغاز ہی میں علم کے حصول کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ﴾ ’’پڑھیے اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔‘‘ اور علم کے حصول میں مسلسل آگے بڑھنے اور مزید علم کی طلب کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا: ﴿وَقُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا﴾ اور کہیے: اے میرے رب! میرے علم میں اضافہ فرما۔
اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات میں بھی علم حاصل کرنے اور اس حاصل کردہ استعداد کو مضبوط بنانے کے حوالے سے نہایت اہم اصول ملتے ہیں۔ ان تعلیمات میں محض معلومات جمع کرنے کے بجائے فہم، غوروفکر اور علمی تبادلے پر بطورخاص زور دیا گیا ہے۔ امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں: (عَلَيْكُمْ بِالدِّرَايَاتِ لَا بِالرِّوَايَاتِ) یعنی ’’تمہاری توجہ صرف روایات نقل کرنے پر نہیں، بلکہ ان کے فہم و ادراک پر ہونی چاہیے۔
یہ ارشاد اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ علم محض الفاظ کو حافظے میں محفوظ کرنے کا نام نہیں،بلکہ اصل مطلوب یہ ہے کہ انسان علم کو سمجھے، اس میں غور کرے اور اس کے مفاہیم کو اپنی فکری ساخت کا حصہ بنائے۔
اسی طرح علم کو ذہن میں برقراررکھنے اور اسے فراموش ہونے سے بچانے کے بارے میں امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: (تَذَاكَرُوا الْعِلْمَ، فَإِنَّكُمْ إِنْ لَمْ تَفْعَلُوا يَدْرُسْ) یعنی ’’علم کو باہم یاد کیا کرو اور اس کا مذاکرہ کرتے رہا کرو؛ اگر ایسا نہیں کرو گے تو وہ مٹ جائے گا اور بھلا دیا جائے گا۔‘‘
آج کی تعلیمی اصطلاح میں علم کو حافظے سے دوبارہ حاصل کرنے کی یہ مسلسل مشق Active Retrieval یا Retrieval Practice کے اصول سے بہت قریب دکھائی دیتی ہے۔ اب اگر ہم اس پس منظر میں نجف اشرف کے حوزۂ علمیہ کی طرف واپس آئیں تو اس کی ہزار سالہ علمی بقا کی ایک اہم وجہ ہمارے سامنے آتی ہے۔ یہ بقا محض اتفاق کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک ایسے منظم علمی طریقۂ کار کی مرہونِ منت ہے جسے حوزۂ علمیہ کے طلبہ صدیوں سے عملاً اختیار کرتے چلے آئے ہیں۔اور یہ طریقہ ’’مباحثہ‘‘ ہے۔
حوزوی مباحثے میں درس ختم ہونے کے بعد دو یا اس سے زیادہ طلبہ آپس میں مل بیٹھتے ہیں۔ ان میں سے ایک طالب علم کتاب دیکھے بغیر اپنی یادداشت سے پورا سبق دوبارہ بیان کرتا اور اپنے ساتھی کو سمجھاتا ہے۔ دوسرا طالب علم محض خاموش سامع نہیں رہتا، بلکہ سوالات اٹھاتا، اشکالات پیش کرتا اور علمی بحث کے ذریعے اپنے ساتھی کو مزید غوروفکر پر آمادہ کرتا ہے۔ اس طرح طالب علم کو سبق صرف دوبارہ پڑھنے کا موقع نہیں ملتا، بلکہ اسے اپنی یادداشت سے علم کو دوبارہ اخذ کرنا، اسے اپنے الفاظ میں بیان کرنا، سوالات کا جواب دینا اور اشکالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ روزانہ کی ذہنی مشق دراصل جدید علمِ تعلّم کے ان اصولوں کی عملی صورت ہے جنہیں آج ’’استرجاع کی مشق‘‘ اور ’’مطلوبہ مشکلات‘‘ کہا جاتا ہے۔ یعنی سیکھنے کے عمل کو اس قدر آسان نہ رکھا جائے کہ ذہن کو کوئی خاص محنت ہی نہ کرنا پڑے، بلکہ ایسی مناسب ذہنی دشواری پیدا کی جائے جو علم کو زیادہ مضبوط بنانے میں مدد دے۔
حوزوی مباحثے کا یہی طریقہ علم کو محض یادداشت میں محفوظ معلومات سے کہیں آگے لے جاتا ہےاور مسلسل فہم، استرجاع، سوال و جواب، اشکال اور بحث کے نتیجے میں معلومات رفتہ رفتہ ایک پختہ علمی ملکہ بن جاتی ہیں، ایسا ملکہ جو طالب علم کے ذہن و فکر میں راسخ ہوجاتی ہے اور ضرورت کے وقت دوبارہ بروئے کار لائی جاسکتی ہے۔ اسطرح نجف اشرف کے حوزۂ علمیہ کی ہزار سالہ تاریخ ہمیں دکھاتی ہے کہ اس عظیم علمی مرکز میں علم سیکھنے کے ایسے طریقے صدیوں سے رائج تھے جن کی افادیت کو جدید تعلیمی تحقیقات نے بہت بعد میں باقاعدہ تجربات اور مطالعات کے ذریعے واضح کیا۔
شاید یہی مباحثے کی اصل قوت ہےکہ طالب علم , علم کو صرف سنتا یا پڑھتا نہیں، بلکہ اسے یاد کرتا، بیان کرتا، اس پر غور کرتا، سوالات کا سامنا کرتا اور دوسروں کے ساتھ بحث کے ذریعے اسے اپنے اندر راسخ کرتا ہے۔ پس یہی عمل معلومات کو محض یاد رکھنے کے عمل سے آگے بڑھا کر علم پر کامل عبور دلاتا دکھائی دیتا ہے۔