واپس
وابستگی بمقابلہ حقیقت  (جب وابستگی حقیقت کا متبادل بن جائے)

وابستگی بمقابلہ حقیقت (جب وابستگی حقیقت کا متبادل بن جائے)

الشيخ معتصم السيد أحمد

حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی انسان وابستگیوں کے بغیر زندگہ نہیں گزار سکتا، بنابر ایں وابستگی بذاتِ خود کوئی مسئلہ نہیں ہے، کیونکہ ہر انسان اپنے خاندان، وطن، مذہب، فکری جماعت، ثقافت اور تاریخ سے وابستہ ہوتا ہے، اور یہی وابستگیاں اس کی شناخت کے اہم اجزا قرار پاتی ہیں۔اسی طرح یہ بھی ایک فطری امر ہے کہ انسان اپنے اہلِ خانہ سے محبت کرے، جب اس کے قبیلے پر ظلم ہو تو اس کا بھر پور دفاع کرے، اور جن اصولوں پر وہ ایمان رکھتا ہے ان پر فخر کرے اور اس کا برملا اظہار کرے۔ لیکن مسئلہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب ہمارے شعور میں وابستگی کا مقام بدل جاتا ہے،یعنی جب ہماری وابستگی ایسی چیز نہیں رہتی جسے ہم حقیقت کے معیار پر پرکھیں، بلکہ اس کے برعکس ہم خود حقیقت ہی کو وابستگی کے معیار پر پرکھنے لگتے ہیں۔ایسے میں ہم کسی بات کو صرف اس لیے قبول کرلیتے ہیں کہ کہنے والا ہم میں سے ہے، اور کسی بات کو صرف اس لیے رد کر دیتے ہیں کہ اس کے کہنے والے کا تعلق ہمارے گروہ سے نہیں ہے۔

یہ وہ مرحلہ ہوتا ہے کہ  جب ہم اپنے محبوب یا اپنے گروہ سے تعلق رکھنے والے شخص کی غلطی کا جواز پیش کرتے ہیں، لیکن اگریہی غلطی ہمارے مخالفین میں سے کوئی کرے تو اسے ایسا ناقابلِ معافی جرم قرار دیتے ہیں جس کے لیے کوئی عذر قابلِ قبول نہیں ہوتا۔اس صورت میں وابستگی محض شناخت کے اظہار کا ذریعہ نہیں رہتی، بلکہ یہ ایک ایسے پردے کی صورت اختیار کر لیتی ہے جو انسان کو اس صلاحیت سے محروم کر دیتا ہے کہ وہ چیزوں کو ان کی حقیقت کے مطابق دیکھ سکے ۔

قرآنِ کریم نے اس مسئلے کی مختلف صورتوں کو نمایاں کیا ہے؛ کیونکہ تعصب انسانی زندگی میں کوئی عارضی مظہر نہیں ، بلکہ عقل اور ضمیر کو مفلوج کر دینے والے سب سے مؤثر عوامل میں سے ایک ہے۔ چنانچہ قرآن ایک ایسی قوم کا نقشہ پیش کرتا ہے جو عقیدے کے بارے میں دلیل کے بارے میں سوال نہیں کرتی، بلکہ ان کے لیے صرف یہ کافی ہے کہ انہوں نے اپنے آباء و اجداد کو اس راہ پر پایا ہے، لھذا یہ وہی وہ راستہ ہے جس پر انہیں چلتے رہنا چاہیے: ﴿وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّبِعُوا مَا أَنْزَلَ اللَّهُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا أَلْفَيْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا﴾ اور جب ان سے کہا گیا کہ جو کچھ خدا نے نازل فرمایا ہے اس کی اتباع کرو تو انہوں نے کہا : بلکہ ہم اسی کی اتباع کریں گے جس پر ہم نے اپنے آباء کو پایا ہے۔ اور پھر قرآنِ کریم اس منطق کو اس سوال کے ذریعے رد کرتا ہے: ﴿أَوَلَوْ كَانَ آبَاؤُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ شَيْئًا وَلَا يَهْتَدُونَ﴾ خواہ ان کے آبا و اجداد نے نہ کچھ عقل سے کام لیا ہو اور نہ ہدایت حاصل کی ہو؟۔

یہاں مسئلہ آباء و اجداد کے احترام کانہیں، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان سے اپنی نسبت اور وابستگی کو ان کی بات کے درست ہونے کی دلیل بنا لیا جائے۔ اسی منطق کی تکرار اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں بھی ہوتی ہے، جہاں ان خوش حال اور آسودہ لوگوں کا ذکر ہے جنہوں نے انبیاء علیہم السلام کے مقابلے میں یہی رویہ اختیار کیا: ﴿إِنَّا وَجَدْنَا آبَاءَنَا عَلَى أُمَّةٍ وَإِنَّا عَلَى آثَارِهِمْ مُقْتَدُونَ﴾ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک رسم پر پایا اور ہم انہی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔

گویا قرآن یہ کہنا چاہتا ہے کہ انسان کی فکری زندگی کا سب سے خطرناک مرحلہ وہ ہے جب وہ یہ سوال ہی کرنا چھوڑ دے کہ’’کیا یہ حق ہے؟‘‘ اور اس کی جگہ یہ سوال لے لے کہ کیا یہی ہماری پارٹی یا گروہ کا مؤقف ہے؟ یہ خطرہ صرف قدیم قبائلی تعصب تک محدود نہیں، بلکہ مذہب، جماعت، قومیت، فکری رجحان کے بارے میں تعصب ان گروہوں میں بھی پیدا ہوسکتا ہے جو خود یہ سمجھتے ہیں کہ وہ تعصب کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں۔

انسان ایک تعصب سے نکل کر دوسرے تعصب میں داخل ہوسکتا ہے، اور اپنے آباء و اجداد کی تقلید کو رد کرنے کے بعد اپنی نئی جماعت کی اندھی تقلید شروع کرسکتا ہے۔ یوں اس سماجی رویے کا نام بدل جاتے ہیں، لیکن نفسیاتی ساخت وہی رہتی ہے۔ یعنی ہم ہی ہمیشہ حق کے زیادہ قریب ہیں، جبکہ دوسرےکو ہمیشہ شک و شبہے کی نگاہ سے دیکھا جانا چاہئے۔ اسی لیے قرآنِ کریم نے عدل کا ایک نہایت سخت معیار مقرر کیا ہے، جب فرمایا: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَى أَنْفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ﴾  اے ایمان والو! انصاف کے سچے داعی بن جاؤ اور اللہ کے لیے گواہ بنو اگرچہ تمہاری ذات یا تمہارے والدین اور رشتہ داروں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو

پس ایمان کا امتحان فقط اس وقت ہی نہیں ہوتا جب ہم اپنے مخالفین کے خلاف حق کی گواہی دیں؛ کیونکہ بہت سے مواقع پر یہ کام نسبتاً آسان ہوتا ہے بلکہ اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب حق خود ہمارے خلاف ہو، یا ان لوگوں کے خلاف ہو جو ہمیں سب سے زیادہ عزیز ہیں اور ہمیں ان کے خلاف گواہی دینی پڑے۔ پھر قرآنِ کریم اس سے بھی ایک قدم آگے بڑھتا ہے، اورصرف ان لوگوں کے ساتھ عدل کا مطالبہ نہیں کرتا جن سے ہم محبت کرتے ہیں، بلکہ ان لوگوں کے ساتھ بھی انصاف کا حکم دیتا ہے جن سے ہمیں نفرت ہے۔ ﴿وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَى أَلَّا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى﴾ اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو۔ انصاف کرو، یہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔یعنی اپنی نفرت کو اپنے انصاف کا ترازو مت بناؤ۔ مخالفت کسی باطل کو حق میں تبدیل نہیں کر دیتی، جس طرح محبت بھی کسی غلطی کو درست نہیں بنا دیتی۔

یہی مفہوم امام زین العابدین علیہ السلام نے نہایت واضح انداز میں بیان فرمایا ہے۔ جب آپ سے تعصب کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: ’’العصبية التي يأثم عليها صاحبها أن يرى الرجل شرار قومه خيراً من خيار قوم آخرين، وليس من العصبية أن يحب الرجل قومه، ولكن من العصبية أن يعين قومه على الظلم‘‘

’’وہ تعصب جس کی وجہ سے انسان گناہ گار ہوتا ہے یہ ہے کہ آدمی اپنی قوم کے بدترین لوگوں کو دوسری قوم کے بہترین لوگوں سے بہتر سمجھے۔ اور یہ تعصب نہیں کہ آدمی اپنی قوم سے محبت کرے، بلکہ تعصب یہ ہے کہ آدمی اپنی قوم کے ظلم پر بھی ان کی مدد کرے۔‘‘ (الکافی، ج ۲، ص ۳۰۸)

یہ روایت تعصب کی حدود کو نہایت وضاحت کے ساتھ بیان کرتی ہے۔یعنی اسلام انسان سے یہ مطالبہ نہیں کرتا کہ وہ اپنی قوم سے تعلق ختم کر دے یا اپنی جماعت سے لاتعلقی اختیار کر لے، اور نہ ہی فطری محبت کو جرم قرار دیتا ہے۔ بلکہ اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب وابستگی کے سامنے خیر و شر کے پیمانے معطل ہوجائیں۔ جب ہمیں معلوم ہو کہ ہمارا اپنا آدمی برا ہے، لیکن ہم صرف اس لیے اصرار کرے کہ وہ دوسرے شخص سے بہتر ہے کیونکہ وہ ’’ہم میں سے ہے‘‘۔ یا ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ ظالم ہے، لیکن پھر بھی ہم اس کی مدد کرتے ہیں، کیونکہ ہمیں اندیشہ ہوتا ہے کہ اس کا زوال ہماری جماعت کی شکست یا نقصان سمجھا جائے گا۔یہاں تعصب اجتماعی جھوٹ کی ایک صورت بن جاتا ہے؛ کیونکہ سب لوگ حقیقت سے واقف ہوتے ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ مل کر ایک ایسی دوسری کہانی بیان کرنے پر متفق ہوجاتے ہیں جو جماعت کے اچھے تاثر کو برقرار رکھ سکے۔

اسی لیے امام صادق علیہ السلام کی طرف سے اس بارے میں نہایت سخت تنبیہ وارد ہوئی ہے: (من تعصب أو تعصب له فقد خلع ربقة الإيمان من عنقه) ’’جو شخص تعصب اختیار کرے، یا جس کے لیے تعصب اختیار کی جائے، وہ ایمان کی لگام اپنے گلے سے اتار دیتا ہے۔‘‘(الکافی، ج ۲، ص ۲۳۲)

اس کا مطلب یہ نہیں کہ محض محبت اور وابستگی انسان کو دائرۂ ایمان سے خارج کر دے؛ کیونکہ امام سجاد علیہ السلام کی حدیث میں اس بات کی وضاحت فرمائی ہے کہ وابستگی بذات خود کوئی بری چیز نہیں ہے۔ اصل خطرہ تو اس تعصب میں ہے جو گروہی تعلق اورپارٹی کی رائے کو حق پر مقدم کر دے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ متعصب انسان بہت کم ہی اپنے آپ کو متعصب سمجھتا ہے۔ اسے یقین ہوتا ہے کہ وہ حق کا دفاع کر رہا ہے، حالاں کہ اس کے نزدیک حق اور جماعتی وابستگی اس قدر گھل مل چکے ہوتے ہیں کہ وہ دونوں کے درمیان فرق کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھتاہے۔

چنانچہ جب اس کی جماعت پر تنقید کی جاتی ہے تو اسے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اس کے دین پر حملہ کیا گیا ہو۔ جب کسی ایسی شخصیت کی غلطی سامنے آتی ہے جس سے وہ محبت کرتا ہے تو وہ اسے پورے مشن یا مقصد کو نشانہ بنانے کی کوشش سمجھتا ہے۔ اور جب اس کا مخالف کسی مفید اور درست بات کا اعتراف کرتا ہے تو وہ اس حقیقت کو بھی قبول کرنے سے انکار کر دیتا ہے، اس خوف سے کہ کہیں ایسا نہ لگے کہ اس نے اپنے مخالف کو جیتنے کا موقع دے دیا ہے۔

یوں تعصب اور گروہی صف بندی کی جنگ میں حقیقت کہیں کھو جاتی ہے۔

انسان ایک ہی دلیل کو اس وقت پورے جوش و خروش سے پیش کرتا ہے جب وہ اس کے حق میں ہو، لیکن جب وہی دلیل اس کے خلاف استعمال کی جائے تو اسے رد کر دیتا ہے۔ وہ اپنے مخالفین سے انصاف کا مطالبہ کرتا ہے، لیکن جب انصاف خود اس کے سامنے آتا ہے تو اسے اپنی کمزوری سمجھتا ہے۔ وہ دوسروں سے اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنے کا مطالبہ کرتا ہے، جبکہ اپنی جماعت کے لیے انتہائی باریک اور دقیق عذر تلاش کرتا رہتا ہے۔یہ صرف علمی اور فکری مسئلہ نہیں، بلکہ ایک اخلاقی مسئلہ بھی ہے؛ کیونکہ یہاں عقل حقیقت کی تلاش میں نہیں رہتی، بلکہ وابستگی کی خدمت پر مامور ایک کارندہ بن جاتی ہے۔

امیر المومنین علی علیہ السلام سے مروی روایات میں اس کیفیت کے علاج کے حوالے سے وارد ہونے والی نہایت خوب صورت تعلیمات میں سے ایک یہ ہے کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام نے لوگوں سے یہ مطالبہ نہیں کیا کہ وہ وابستگی کے ہر احساس کو ختم کر دیں، بلکہ یہ سکھایا کہ اس وابستگی کا رخ اقدار کی طرف موڑ دیا جائے۔

آپ علیہ السلام خطبۂ قاصعہ میں فرماتے ہیں:

(فإن كان لابد من العصبية فليكن تعصبكم لمكارم الخصال، ومحامد الافعال، ومحاسن الأمور التي تفاضلت فيها المجداء والنجداء من بيوتات العرب ويعاسيب القبائل، بالأخلاق الرغيبة، والأحلام العظيمة، والاخطار الجليلة، والآثار المحمودة. فتعصبوا لخلال الحمد من الحفظ للجوار، والوفاء بالذمام، والطاعة للبر، والمعصية للكبر، والأخذ بالفضل، والكف عن البغي، والإعظام للقتل، والانصاف للخلق، والكظم للغيظ، واجتناب الفساد في الأرض )

’’اگرتعصب اختیار کرنا ہی ضروری ہو تو تمہارا تعصب اعلیٰ اوصاف، قابلِ تعریف اعمال اور ان عمدہ امور کے لیے ہو جن میں عرب کے معزز و بہادر خاندانوں اور قبائل کے سردار ایک دوسرے پر فضیلت رکھتے تھے؛ یعنی پسندیدہ اخلاق، بلند حوصلگی، عظیم مقاصد اور قابلِ ستائش کارناموں کے لیے۔ پس قابلِ تعریف اوصاف کے لیے تعصب اختیار کرو: پڑوسی کی حفاظت، عہد و پیمان کی وفاداری، نیکی کی اطاعت، تکبر سے اجتناب، فضیلت کو اختیار کرنا، ظلم و زیادتی سے باز رہنا، قتل کی حرمت کو عظیم سمجھنا، لوگوں کے ساتھ انصاف کرنا، غصے کو پی جانا اور زمین میں فساد سے بچنا۔‘‘ (نہج البلاغہ، خطبۂ قاصعہ)

یعنی امیرالمؤمنین علیہ السلام انسان سے اس کی وابستگی چھیننے کے بجائے اس کے معیار کو تبدیل کرتے ہیں۔ انسان کسی گروہ، خاندان یا جماعت سے وابستہ ہو سکتا ہے، لیکن اس وابستگی کی بنیاد افراد اور گروہ کے بجائے نیکی، عدل، وفاداری، شرافت، حلم اور دیگر انسانی و اخلاقی اقدار ہونی چاہیے۔

اس طرح وابستگی حقیقت کے راستے میں رکاوٹ نہیں بنتی، بلکہ حقیقت اور اقدار کے ساتھ وابستگی کا ذریعہ بن جاتی ہے۔یہ دراصل وابستگی کو شخصیات سے اصول و اقدار کی طرف منتقل کرنے کی نہایت اہم تعلیم ہے۔ چنانچہ سوال یہ نہیں رہتا کہ ’’آپ کس جماعت سے وابستہ ہیں؟‘‘ بلکہ سوال یہ بن جاتا ہے کہ ’’آپ کس قدر اور کس اصول کا دفاع کرتے ہیں؟‘‘ اور ناموں کے ساتھ تعصب اختیار کرنے کے بجائے انسان عدل، وفاداری، انصاف اور احسان جیسی اقدار کی حمایت اور طرف داری کرے۔

بلکہ امام صادق علیہ السلام سے منقول ایک روایت میں اس خطرے کی نہایت معنی خیز تصویر پیش کی گئی ہے کہ انسان اپنی رائے کو حقیقت کا معیار بنا لے۔

برید عجلی بیان کرتے ہیں کہ میں نے امام ابوعبداللہ علیہ السلام سے پوچھا: ’’بندہ کم سے کم کس چیز کے ذریعے کافر ہوجاتا ہے؟‘‘ آپ علیہ السلام نے زمین سے ایک کنکری اٹھائی اور فرمایا: (أن يقول لهذه الحصاة أنها نواة ويبرأ ممن خالفه على ذلك: ويدين الله بالبراءة ممن قال بغير قوله)

’’یہ کہ وہ اس کنکری کے بارے میں کہے کہ یہ گٹھلی ہے، اور جو شخص اس بات میں اس کی مخالفت کرے، اس سے بیزاری کا اظہار کرے، اور اللہ کے لیے اس شخص سے بھی بیزاری اختیار کرنے کو اپنا دین بنا لے جو اس کی رائے کے برخلاف بات کہتا ہے۔‘‘

(بحار الأنوار، ج ۲، ص ۳۰۲)

اس روایت میں اصل تنبیہ اس بات سے ہے کہ انسان اپنی رائے اور اپنے فکری موقف کو حقیقت کا معیار نہ بنا بیٹھے؛ یہاں تک کہ اختلافِ رائے اسے دوسروں سے بیزاری اور حق کے انکار تک پہنچا دے۔مسئلہ نہ تو اس کنکری کا ہے اور نہ گٹھلی کا، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ انسان اپنی بات کو اصل اور معیار بنا لے، پھر لوگوں سے اپنی دوستی اور دشمنی کو بھی اسی بات کی موافقت و مخالفت پر قائم کر دے۔

یہ صورتِ حال ہمارے تصور سے کہیں زیادہ بار سامنے آتی ہے۔ کسی سیاسی، فکری یا معاشرتی مسئلے میں اختلاف شروع ہوسکتا ہے جو اپنی نوعیت میں بحث و گفتگو کی گنجائش رکھتا ہو، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ وہ اختلاف وفاداری کا امتحان بن جاتا ہے: جو ہماری بات سے متفق ہے، وہ ہمارا ساتھی ہے، اور جو ہماری مخالفت کرے، اس کی نیت اور وابستگی مشکوک سمجھی جانے لگتی ہے۔

اس ذہنیت کے مسلسل برقرار رہنے سے خود جماعت کے اندر سوچنے کی گنجائش محدود ہوتی چلی جاتی ہے؛ کیونکہ ہر تنقید کو غداری، ہر نظرِ ثانی کو پسپائی، اور مخالف کی کسی اچھائی کا اعتراف اس کی فتح سمجھا جانے لگتا ہے۔

یہاں جماعتیں اپنی اصلاح کی صلاحیت کھو دیتی ہیں۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ مخالف آپ کے اندر کوئی ایسی خامی دیکھ لیتا ہے جو دوست کو دکھائی نہیں دیتی، اور اختلاف رکھنے والا شخص آپ کو کسی ایسے مسئلے کی طرف متوجہ کر دیتا ہے جس پر آپ کی اپنی جماعت کے افراد کی نظر نہیں پڑی ہوتی۔

لہٰذا اگر انسان محض بولنے والے کی شناخت کی وجہ سے اپنے کان بند کر لے، تو وہ خود کو علم حاصل کرنے کے ایک اہم موقع سے محروم کر دیتا ہے۔اسی لیے حقیقت کی حمایت کے لیے ایسی شجاعت درکار ہے جو محض مخالفت اور خصومت کی شجاعت سے مختلف ہوتی ہے۔ اپنے مخالف کی غلطی کو آشکار کرنا آسان ہے، لیکن اس سے کہیں زیادہ مشکل یہ ہے کہ انسان اپنی جماعت کی غلطی کو پہچانے اور پھر اسے تسلیم بھی کرے۔ اپنے موقف کی تائید میں کوئی نص پیش کرنا آسان ہے، لیکن حقیقی امتحان اس وقت شروع ہوتا ہے جب وہی نص آپ کے مفاد کے خلاف قائم ہو جائے۔ دوسروں سے انصاف کا مطالبہ کرنا بھی آسان ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَلَوْ عَلَى أَنْفُسِكُمْ﴾ کا حقیقی مفہوم اس وقت سامنے آتا ہے جب انصاف کی قیمت خود آپ کو ادا کرنا پڑے۔

اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ انسان اپنی شناخت یا اپنی وابستگی سے بے نیاز ہو جائے۔ اسلام خود واضح اور مضبوط وابستگیوں کی بنیاد رکھتا ہے، لیکن وہ وابستگیاں حق کے ساتھ ہونی چاہییں، حق کا متبادل نہیں۔ یہاں تک کہ اہلِ بیت علیہم السلام سے نسبت بھی محض دعوائے وابستگی کی بنیاد پر انسان کو اخلاقی ذمہ داری سے بری نہیں کر دیتی۔ ائمہ علیہم السلام اپنے شیعوں سے یہ چاہتے تھے کہ وہ اپنے اعمال کے ذریعے ان کے لیے باعثِ زینت بنیں، نہ یہ کہ اہلِ بیت علیہم السلام کے نام کو اپنی غلطیوں کے لیے پردے اور آڑ کے طور پر استعمال کریں۔

اسی لیے جو معاشرہ تعصب سے نجات حاصل کرنا چاہتا ہے، اسے اپنے اختلافات ختم کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ ان اختلافات سے بلند ایک معیار قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم مذہب، سیاست اور فکر کے میدان میں ایک دوسرے سے مختلف رہ سکتے ہیں، لیکن اس بات پر متفق ہوسکتے ہیں کہ جھوٹ، جھوٹ ہی رہے گا، خواہ وہ ہماری اپنی جماعت کی طرف سے بولا جائے؛ ظلم، ظلم ہی ہوگا، خواہ وہ ہمارے مفاد میں ہو؛ اور حق، حق ہی رہے گا، خواہ اسے وہ شخص بیان کرے جس سے ہم اختلاف رکھتے ہیں۔

تعصب کا سب سے خطرناک اثر یہ ہے کہ وہ انسان کو ایک جھوٹا نفسیاتی اطمینان عطا کرتی ہے۔ وہ اسے سوچنے کی زحمت سے بے نیاز کر دیتی ہے، کیونکہ اس کی جماعت اس کی طرف سے سوچتی ہے؛ اسے اپنے احتساب سے بھی آزاد کر دیتی ہے، کیونکہ اس کی غلطیاں بھی قابلِ توجیہ اور قابلِ جواز بنا دی جاتی ہیں؛ اور اسے انصاف سے بھی محروم کر دیتی ہے، کیونکہ مخالف کے بولنے سے پہلے ہی اسے مجرم سمجھ لیا جاتا ہے۔

اس کے برعکس قرآن جس ایمان کا مطالبہ کرتا ہے، وہ انسان سے کہیں زیادہ بڑی قیمت طلب کرتا ہے: یہ کہ آپ ان لوگوں سے محبت رکھیں جن سے آپ کی وابستگی ہے، لیکن ظلم میں ان کا ساتھ نہ دیں؛ دوسروں سے اختلاف رکھیں، لیکن ان کا حق نہ روکیں؛ اور اپنے عقیدے پر مضبوطی سے قائم رہیں، لیکن اس کی صحت ثابت کرنے کے لیے اپنے ہی نفس سے جھوٹ بولنے کی ضرورت محسوس نہ کریں۔

 وابستگی اس وقت خطرناک نہیں ہوتی جب وہ انسان کو شناخت، یادداشت اور ذمہ داری کا احساس عطا کرے؛ بلکہ اس وقت خطرناک بن جاتی ہے جب وہ اس سے اس کی عقل اور ضمیر کو خاموش کرنے کا مطالبہ کرے۔ حقیقت اس لیے زیادہ حقیقت نہیں بن جاتی کہ اسے ہماری جماعت کا کوئی فرد بیان کر رہا ہے، اور نہ ہی اس کی قدر اس لیے کم ہوجاتی ہے کہ اسے ہمارا کوئی مخالف بیان کر رہا ہے۔

اور جب انسان انصاف کی اس بلند منزل تک پہنچ جاتا ہے تو اس کی وابستگی کمزور نہیں بلکہ مزید مضبوط ہوجاتی ہے؛ کیونکہ اب اسے اپنی جماعت کی حمایت کے لیے باطل کا سہارا لینے کی ضرورت نہیں رہتی، نہ ہی اپنے آپ کو ثابت کرنے کے لیے دوسروں کو بدنام کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اس مقام پر اس کی وفاداری حق کی قیمت پر شخصیات کے ساتھ نہیں رہتی، بلکہ حق ہی وہ معیار بن جاتا ہے جو شخصیات، مواقف اور وابستگیوں کی قدر و قیمت کا تعین کرتا ہے۔

اور شاید دینداری کے مشکل ترین امتحانات میں سے ایک یہی ہے کہ انسان حقیقت کا ساتھ اس وقت بھی نہ چھوڑے جب حقیقت اس کے اپنے موقف کے ساتھ نہ ہو۔

شیئر: