الشيخ مصطفى الهجري
موجودہ عہد جدید سائنسی دریافتوں اور فلسفیانہ و عقائدی مباحث کے باہمی تعامل کا گواہ ہے۔ بالخصوص حیاتیاتی ارتقاء نے خدا کے وجود، تخلیق اور انسانی وجود کی غایت جیسے بنیادی سوالات کو ایک نئے علمی تناظر میں نمایاں کیا ہے۔ایسے میں جدید الحادی لٹریچر میں ارتقائی عمل کو خدا کے وجود کے انکار کے طور پر ثبوت پیش کرنے والی نمایاں تصانیف میں معروف ماہرِ حیاتیات رچرڈ ڈاکنز کی کتاب The God Delusion، جس کا اردو ترجمہ ’’وہمِ خدا‘‘ کے نام سے معروف ہے، خاص اہمیت کی حامل ہے۔
اس کتاب نے مذہب اور الحاد کے درمیان عالمی سطح پر ایک وسیع پیمانے کی حامل بحث چھیڑ دی ہے، جو مذہبی حلقوں تک محدود نہ رہی بلکہ فلسفۂ مذہب، فلسفۂ سائنس اور مابعد الطبیعیات کے علمی مباحث تک پھیل گئی ہے۔ خصوصاً متعدد فلسفیوں نے اس امر پر تنقید کی کہ ڈاکنز نے بعض پیچیدہ فلسفیانہ اور مابعد الطبیعیاتی مسائل کو نسبتاً سادہ استدلال کے ذریعے بیان کیا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اس حوالے سے تنقیدی آرا صرف مذہبی مفکرین تک محدود نہیں بلکہ بعض غیر مذہبی اور ملحد فلسفیوں کی جانب سے بھی کچھ تنقیدی آراء سامنے آئی ہیں۔
اصل مسئلہ سائنسی حقائق کو استعمال کرنے میں نہیں، بلکہ ان سے ایسے نتائج اخذ کرنے میں ہے جو منطقی اور استدلالی بنیاد سے محروم ہوں۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب سائنسی نظریات کو ان کے مخصوص دائرۂ کار سے متجاوز کرکے حسبِ خواہش ان پر بے بنیاد اپنی مرضی کے فلسفیانہ نتائج مسلط کیے جائیں، اور پھر انہی نتائج کو خدا کے وجود کی نفی کے لیے بطور دلیل پیش کیا جائے۔ اس عمل میں بسا اوقات استدلال اور منطقی گفتگو کے بنیادی اصول بھی نظرانداز کر دیے جاتے ہیں۔
فلاسفہ اور ماہرین کا زاویہ نظر: ایک جامع تنقیدی جائزہ
یہ تنقید صرف مذہبی یا ایمانی حلقوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ بعض معروف ملحد اور لاادری (Agnostic) فلاسفہ و مفکرین نے بھی ڈاکنز کے اس فلسفیانہ استدلال کی کمزوریوں کی نشان دہی کی ہے۔ مثلاً ممتاز معاصر فلسفی ایلون پلانٹنگا (جنہیں ٹائم میگزین نے خدا کے وجود کے موضوع پر امریکہ کے نمایاں پروٹسٹنٹ فلسفیوں میں شمار کیا ) نے The God Delusion کے اپنے تنقیدی جائزے میں ڈاکنز کے فلسفیانہ استدلال پر سخت اعتراضات کیے۔ یہ جائزہ Books & Culture کے مارچ/اپریل 2007ء کے شمارے (جلد 13، شمارہ 2، ص 21) میں شائع ہوا۔
پلانٹنگا کے مطابق، اگرچہ The God Delusion بنیادی طور پر ایک فلسفیانہ نوعیت کی کتاب ہے، تاہم ڈاکنز فلسفی نہیں بلکہ ماہرِ حیاتیات ہیں، اور ان کی پیش کردہ فلسفیانہ بحث علمی معیار کے اعتبار سے نہایت سطحی ہے۔ وہ طنزیہ انداز میں لکھتے ہیں کہ ڈاکنز کے فلسفیانہ استدلال کی سطح زیادہ سے زیادہ جامعہ کے ابتدائی درجات کے طالب علم کے کام سے مشابہ ہے، حتی کہ ان کے بعض دلائل ایسے ہیں جو فلسفے کی ابتدائی جماعت میں بھی قابلِ قبول نہ سمجھے جائیں گے۔ پلانٹنگا مزید اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اس کمزور فلسفیانہ استدلال کے ساتھ متذکرہ کتاب میں پایا جانے والا متکبرانہ اور تحقیر آمیز لہجہ اس تنقید کو مزید نمایاں کر دیتا ہے۔
یہ تنقید محض مذہبی جذبات کا اظہار نہیں بلکہ یہ علمی و فلسفیانہ معیار کے حوالے سے ایک سنجیدہ اعتراض ہے۔ علمی تخصص کا تقاضا ہے کہ کسی بھی شعبے کے بنیادی سوالات پر گفتگو کرتے ہوئے اس کے مسلمہ اصولِ استدلال اور علمی معیارات کو پیشِ نظر رکھا جائے، محض سطحی یا عامۃ الناس استدلال کو ان کا متبادل نہ بنایا جائے۔
اسی تناظر میں بعض معروف ملحد فلاسفہ کی آرا بھی خاص اہمیت رکھتی ہیں، جن سے واضح ہوتا ہے کہ اس بحث کا تعلق محض مذہب اور الحاد کے باہمی اختلاف سے نہیں، بلکہ اس کا تعلق سائنسی شواہد سے فلسفیانہ نتائج اخذ کرنے کے درست طریقۂ کار اور منطقی استدلال کے بنیادی اصولوں سے بھی ہے۔
نیویارک یونیورسٹی کے معروف ملحد فلسفی تھامس ناگل نے اپنے مضمون The Fear of Religion، جو The New Republic میں 23 اکتوبر 2006ء کو شائع ہوا، میں The God Delusion پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے مذہب پر طنزیہ حملوں، سطحی فلسفے، تاریخی و معاصر واقعات، بشریاتی قیاس آرائیوں اور کائنات سے متعلق سائنسی دلائل کا ایک غیر مربوط مجموعہ قرار دیا ہے۔ ناگل کے بقول، ڈاکنز کا بنیادی مقصد اس کے ذریعے مذہبی لوگوں کے حوصلے پست کرنا اور ملحدین کے اعتماد میں اضافہ کرنا محسوس ہوتا ہے۔
مائیکل روس کی جانب سے ڈاکنز پر تنقید
معروف ملحد فلسفی اور فلسفۂ سائنس کے ماہر مائیکل روس بھی ڈاکنز کے علمی روش اور فلسفیانہ استدلال پر نہایت صریح اور سخت تنقید کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں: ’’ڈاکنز فلسفے اور علمِ کلام سے اپنی ناواقفیت کے معاملے میں حد درجہ بے باک ہیں، جبکہ سائنس کی تاریخ سے ان کی ناآشنائی کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔‘‘
وہ مزید لکھتے ہیں:
’’مذہبی تصورات پر ان کا معترضانہ طرزِ عمل اس قدر سطحی ہے کہ افسوس ہوتا ہے۔ رچرڈ ڈاکنز اپنی اس کتاب کی بنیاد پر فلسفے یا علمِ ادیان کے کسی بھی ابتدائی کورس میں ناکام قرار پائیں گے۔ وہ بلا جھجھک ایک ایسے علمی میدان پر تنقید کر رہے ہیں جس کے بنیادی مباحث سے بھی وہ پوری طرح واقف نہیں۔ میں ایک اور مقام پر بھی کہہ چکا ہوں کہ اپنی پوری زندگی میں یہ پہلا موقع ہے کہ مجھے وجودیاتی دلیل کی زبوں حالی پر رحم آ رہا ہے۔‘‘
مائیکل روس کا یہ تفصیلی تنقیدی مضمون Dawkins et al bring us into disrepute کے عنوان سے برطانوی اخبار The Guardian میں 2 نومبر 2006ء کو شائع ہوا۔ روس کی یہ تنقید اس لحاظ سے خاص اہمیت رکھتی ہے کہ وہ خود بھی مذہبی موقف کے طرفدار نہیں، بلکہ وہ ایک معروف ملحد فلسفی ہیں؛ چنانچہ ان کا اعتراض مذہب کے دفاع سے زیادہ ڈاکنز کے فلسفیانہ منہج اور علمی استدلال کے معیار سے متعلق ہے۔
حیاتیاتی طرزِ فکر میں پیشگی حتمی نتائج کا مسئلہ
حیاتیاتی ارتقاء کو اس کے مخصوص سائنسی و تجربی دائرۂ کار سے تجاوز کروا کر ایک ہمہ گیر الحادی نظریے کی بنیاد بنانا، جو کائنات کی اصل، غایت اور معنویت جیسے مابعد الطبیعیاتی سوالات کا بھی حتمی جواب فراہم کرنے کا دعویٰ کرے، ایک اہم منہجی اشکال کو جنم دیتا ہے۔
اسی منہجی مسئلے کی نشان دہی کرتے ہوئے ممتاز ملحد ماہرِ حیاتیات ایچ۔ ایلن اور (H. Allen Orr) The God Delusion میں ڈاکنز کے استدلال پر تنقید کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’کتاب وہمِ خدا میں دلائل کی تنگ دامانی کا ایک واضح سبب یہ معلوم ہوتاہے کہ ڈاکنز فلسفیانہ بحث کے فن میں ماہر نہیں۔لہذا جب وہ فلسفیانہ مباحث میں داخل ہوتے ہیں تو متعدد الجھنوں اور مغالطوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے بعض نتائج پہلے ہی سے ذہن میں طے کر رکھے ہیں اوروہ ہر صورت انہی نتائج تک پہنچنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ وہ ایسے کمزور دلائل اختیار کرتے ہیں جو ان کے مطلوبہ نتائج تک پہنچنے میں معاون ہوں، اور مختلف شواہد و دلائل کی قوت کا پیمانہ بھی بظاہر یہی رہ جاتا ہے کہ وہ ان کے مطلوبہ نتائج کی تائید کرتے ہیں یا نہیں۔‘‘
اس تنقید سے کم از کم یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ آیا The God Delusion میں سائنسی شواہد سے اخذ کیے جانے والے نتائج اور پہلے سے قائم فلسفیانہ مقدمات کے درمیان مناسب امتیاز برقرار رکھا گیا ہے یا نہیں۔پس بنیادی منہجی مسئلہ بھی یہی ہے کہ تجربی علوم کے دائرۂ کار اور فلسفیانہ و مابعد الطبیعیاتی استدلال کو باہم خلط نہ کیا جائے؛ کیونکہ سائنسی نظریے کی توضیحی قوت اپنی جگہ، مگر اس سے براہِ راست ایسے حتمی مابعد الطبیعیاتی نتائج اخذ کرنا ایک الگ نوعیت کے استدلال کا تقاضا کرتا ہے۔