ڈاکٹر صلاح الفضلی
کئی سال قبل مجھے تیل کےشعبۂ سے وابستہ ملازمین کے لیے ’’وقت کی تنظیم ‘‘کے عنوان سے ایک تربیتی کورس منعقد کرنے کا موقع ملا۔ پہلے ہی اجلاس میں، میں نے شرکائے سے پوچھا کہ آپ میں سے کتنے افراد کی یہ خواہش ہے کہ انہیں مطالعے، ورزش یا کوئی نئی مہارت سیکھنے کے لیے مناسب وقت میسر آ جائے؟ یہ سوال سنتے ہی شرکاء کی غالب اکثریت نے ہاتھ اٹھا دیے۔ اس کے بعد میں نے پوچھا کہ آخر وہ کون سی چیز ہے جو آپ کو ان کاموں سے روکتی ہے؟ تقریباً سبھی کے جوابات ایک جیسے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس وقت ہی نہیں ہے، کیونکہ ہم ہمیشہ مصروف رہتے ہیں۔اس کے بعد میں نے گفتگو کا رخ ایک دوسرے سوال کی طرف موڑ دیا کہ آپ میں سے ہر شخص واٹس ایپ کے کتنے گروپس کا رکن ہے؟ اور آپ روزانہ کتنے گھنٹے موبائل فون استعمال کرنے میں صرف کرتے ہیں؟
ان سوالات کے جوابات خاصے حیران کن تھے۔ شرکاء میں سب سے کم تعداد ایسے افراد کی تھی جو صرف دو واٹس ایپ گروپس کے رکن تھے، جب کہ ان میں سے بیشتر چار یا اس سے زیادہ گروپس میں شامل تھے۔ جہاں تک روزانہ موبائل فون کے استعمال پر صرف ہونے والے وقت کا تعلق تھا، تو جوابات کے مطابق یہ دورانیہ دو سے آٹھ گھنٹے یومیہ تک تھا۔ تب میں نے ان سے پوچھا کہ: کیا آپ یہ تمام گھنٹے واقعی ضروری کاموں میں صرف کرتے ہیں؟ بعض شرکاء نے جواب دیا کہ موبائل فون ان کے کام کی نوعیت کا لازمی حصہ ہے، لیکن اکثریت نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ان کا بیشتر وقت سوشل میڈیا پر ادھر اُدھر دیکھنے، تفریحی مشاغل اور ایسی سرگرمیوں میں صرف ہوتا ہے جن سے انہیں کوئی قابلِ ذکر فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔
اس موقع پر میں نے ان سے کہا کہ میں، آپ اور ہر وہ شخص جو یہ دہراتا رہتا ہے کہ میرے پاس وقت نہیں ہے عموماً وقت کی کمی کا شکار نہیں ہوتا، بلکہ اس کی اصل مشکل ترجیحات کی درست ترتیب کا فقدان ہوتا ہے۔ انسان اپنی روزمرہ زندگی میں متعدد بنیادی ذمہ داریاں ادا کرتا ہے، مثلاً ملازمت، نیند اور اہلِ خانہ کی دیکھ بھال۔ یہ ایسے ناگزیر تقاضے ہیں جن سے صرفِ نظر نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم، ہم میں سے بہت سے لوگوں کے پاس ایسا وقت بھی ہوتا ہے جسے بہتر انداز میں بروئے کار لایا جا سکتا ہے، لیکن ہم اسے ایسی سرگرمیوں میں ضائع کر دیتے ہیں جن سے کوئی حقیقی فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔ ان میں موبائل فون پر ضرورت سے زیادہ وقت صرف کرنا، یا کئی گھنٹے کیفے اور دیوان خانوں میں بیٹھے رہنا شامل ہے، جہاں اکثر ایسی باتیں زیرِ بحث رہتی ہیں جو زندگی میں کوئی قابلِ قدر اضافہ نہیں کرتیں۔
اگر انسان روزانہ اپنے اسی وقت میں سے محض تیس منٹ نکال لے تو وہ ایک سال کے دوران کئی کتابیں پڑھ سکتا ہے، باقاعدگی سے ورزش کر سکتا ہے، کوئی نئی زبان سیکھ سکتا ہے، یا ایسی مہارت حاصل کر سکتا ہے جو اس کے پیشہ ورانہ یا ذاتی مستقبل کو بدلنے کا سبب بن جائے۔حقیقی مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارے پاس وقت نہیں ہے، بلکہ یہ ہے کہ ہم اہم کاموں کو اپنی ترجیحات کی فہرست میں سب سے آخر میں رکھتے ہیں۔ ہم تفریح اور سوشل میڈیا کے لیے تو گھنٹوں مختص کر دیتے ہیں، لیکن مطالعے، ورزش اور سیکھنے جیسے مفید کاموں کو کسی ایسے وقت کے لیے مؤخر کرتے رہتے ہیں جو شاید کبھی آئے ہی نہ۔ شاید اس حقیقت کی بہترین دلیل یہ ہے کہ بعض لوگ، جو بے پناہ ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں، اس کے باوجود سیکھنے اور اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے وقت نکال لیتے ہیں۔
مائیکروسافٹ کے بانی اور دنیا کے معروف ترین کاروباری شخصیات میں شمار ہونے والے بل گیٹس ہر سال درجنوں کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں۔ وہ ہر سال ایک پورا ہفتہ غوروفکر، مطالعے اور نئے خیالات پر سوچ بچار کے لیے مخصوص کرتے ہیں۔ اسی طرح عالمی شہرت یافتہ سرمایہ کار وارن بفیٹ اپنے دن کا ایک بڑا حصہ مطالعے اور غوروفکر میں صرف کرتے ہیں اور انہیں اپنی کامیابی کے اہم ترین اسباب میں شمار کرتے ہیں۔ ایلون مسک کی مثال بھی ہمارے سامنے ہے، جنہوں نے عالمی سطح پر سرگرم متعدد کمپنیوں کی قیادت کی بھاری ذمہ داریوں کے باوجود کتابوں کے مطالعے اور ماہرین سے سوالات کرنے کے ذریعے راکٹ انجینئرنگ کے بہت سے بنیادی اصول سیکھے۔ اگر یہ لوگ، جو دنیا کے مصروف ترین افراد میں شمار ہوتے ہیں، مطالعے اور حصولِ علم کے لیے وقت نکال سکتے ہیں، تو آخر ہمیں روزانہ آدھا گھنٹہ اپنی ذات کی ترقی اور صلاحیتوں میں اضافے کے لیے مختص کرنے سے کون سی چیز روک رہی ہے؟
لہٰذا، آئندہ جب ہم یہ کہیں کہ میرے پاس وقت نہیں ہے، تو اس سے پہلے خود سے ایک زیادہ سچا اور حقیقت پسندانہ سوال ضرور کریں کہ کیا واقعی مسئلہ وقت کی قلت ہے، یا ہماری ترجیحات کی ترتیب درست نہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ بہت سے مواقع پر ہمارے پاس وقت کی کمی نہیں ہوتی، بلکہ کمی اس عزم اور فیصلے کی ہوتی ہے جس کے تحت ہم اپنے لیے مفید کاموں کو اپنی ترجیحات میں سرفہرست رکھنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔