شیخ معتصم السید احمد
جب کبھی انسان اپنے ذاتی یا اجتماعی حالات پر غور کرتا ہے تو اکثر اس کی نگاہ ظاہری حالات کی طرف جاتی ہے۔اور اسطرح وہ اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار انہی حالات کو ٹھہراتے ہوئے اپنے مسائل کا سبب سیاست کو قرار دیتا ہے اور اپنی شکست و کمزوری کا الزام معاشرے پر ڈال دیتا ہے۔ یہ رجحان کسی حد تک فطری بھی ہے، کیونکہ ظاہری حالات نظر بھی آتے ہیں، ان کا دباؤ محسوس بھی ہوتا ہے اور ان کے اثرات بھی فوری دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن قرآن کریم انسان کی توجہ ایک ایسی حقیقت کی طرف مبذول کراتا ہے جو بظاہر کم نمایاں مگر اثر کے اعتبار سے کہیں زیادہ عمیق ہے۔ قرآن کہتا ہے: ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ﴾
یعنی اللہ تعالی کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدل لے۔
یہ آیت محض ایک عمومی ترغیب یا حوصلہ افزائی کا جملہ نہیں، بلکہ یہ تاریخ اور زندگی میں تبدیلی کے ایک بنیادی قانون کی نشاندہی کرتی ہے۔
اس آیت سے پہلی بات یہ سامنے آتی ہے کہ تبدیلی کوئی اچانک رونما ہونے والا واقعہ نہیں، بلکہ یہ کسی عمل کا نتیجہ ہوتی ہے۔یعنی ایسا نہیں ہے کہ اللہ تعالی کسی قوم کو بلا سبب اچھی حالت عطا کر دے یا اس سے اچھی حالت چھین لے۔ بلکہ اس صورت حال کا انسان کے اندرونی حالات اور بیرونی حالات کے ساتھ گہرا تعلق ہوتا ہے۔
مذکوہ آیت میں آنے والا جملہ "ما بأنفسهم" محض ایک عام سا لفظ نہیں بلکہ یہ اس پورے نظام کی طرف اشارہ کرتا ہے جو انسان کی اقدار، اس کے طرزِ فکر، اس کےشعور، اللہ تعالی کے ساتھ اس کےتعلق، احساسِ ذمہ داری اور اس کے عمل کی اخلاقیات وغیرہ سے مربوط ہے۔ لہذا جب اس دائرے میں تبدیلی آتی ہے تو الٰہی قوانین کے مطابق اس کے اثرات وسیع تر معاشرتی حقیقت بن کر ظاہر ہونے لگتے ہیں۔
قرآن کریم یہاں بیرونی عوامل کے وجود کا انکار نہیں کرتا اور نہ ہی ظلم، سیاسی خرابیوں یا معاشی ناہمواریوں کے اثرات کو نظر انداز کرتا ہے۔ تاہم وہ اس بات کو بھی قبول نہیں کرتا کہ یہ عوامل انسان کے لیے محض بہانے بن جائیں اور وہ اپنی ذمہ داری سے دستبردار ہو جائے۔ انسان شاید تمام حالات کو تبدیل نہ بھی کر سکے، لیکن وہ ہمیشہ اپنے اندرونی رویے، شعور اور طرزِ عمل کو بدلنے کی قدرت بہر حال رکھتا ہے۔پس یہی وہ نقطہ ہے جہاں سے تبدیلی کا آغاز ہوتا ہے۔
کسی بھی معاشرے کے لیے سب سے خطرناک صورت یہ ہوتی ہے کہ وہ مستقل طور پر "مظلومیت" کی کیفیت کو اپنے اوپر طاری کرکے شکایت اس کی پہچان بن جائے اور دوسروں کو موردِ الزام ٹھہرانا ایک ثقافت کی شکل اختیار کرلے۔ ایسے ماحول میں توانائیاں جمود کا شکار ہو جاتی ہیں، پہل اور ابتکار ختم ہو جاتا ہے اور تبدیلی ایک خوابِ پریشان کی طرح محسوس ہونے لگتی ہے۔ یہ آیت اس فکر کے حامل ذہنیت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکتی ہے اور واضح کرتی ہے کہ آغاز باہر سے نہیں بلکہ اندر سے ہوتا ہے۔ تبدیلی صرف بیرونی حالات کو بدلنے سے نہیں بلکہ اندرونی تعمیرِ نو سے آتی ہے۔
یہ جملہ "ما بأنفسهم" سب سے پہلے ایک مخلصانہ خود احتسابی کا تقاضا کرتا ہے۔ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ہمارے تصورات میں کیا چیز تصحیح کی محتاج ہے؟ کیا ہماری زندگی واضح اقدار پر قائم ہے یا دوہرے معیار پر؟ کیا ہم دیانت کے نعرے تو لگاتے ہیں مگر چھوٹی چھوٹی باتوں میں چالاکی سے کام لیتے ہیں؟ کیا ہم اجتماعی نظم و ضبط کا مطالبہ توکرتے ہیں لیکن خود وقت کی پابندی اور ذمہ داری کا خیال نہیں رکھتے؟ حقیقت یہ ہے کہ تبدیلی بڑے نعروں سے نہیں بلکہ انہی روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی باتوں سے شروع ہوتی ہے جو شخصیت کا اصل ڈھانچہ بناتی ہیں۔
داخلی تبدیلی محض جذباتی فیصلہ نہیں بلکہ یہ ایک طویل تربیتی عمل ہے۔ اپنے آپ کو بدلنے کا مطلب ہے اپنی عادات کو سنوارنا، خواہشات کو قابو میں رکھنا اور اپنے تصورات کو درست کرنا ہے جبکہ بہت سے لوگ نتائج تو مختلف چاہتے ہیں لیکن سوچ اور عمل کا طریقہ وہی پرانا رکھتے ہیں۔ وہ بغیر نظم و ضبط کے ترقی چاہتے ہیں، بغیر محنت کے کامیابی اور بغیر ذمہ داری کے احترام کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ یہ آیت اس تضاد کو واضح کرتی ہے کہ جب تک اندر کی حالت نہیں بدلے گی، تب تک باہر کے حالات میں کسی بڑی تبدیلی کی توقع حقیقت پسندانہ نہیں۔
قابلِ توجہ بات یہ بھی ہے کہ آیت میں خطاب ایک قوم سے ہے، یعنی ایک جماعت سے، کسی اکیلے فرد سے نہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تبدیلی کا عنصرصرف فردی نہیں بلکہ سماجی اور ثقافتی پہلو بھی رکھتا ہے۔ جو ثقافت سستی اور دوسروں پر انحصار کو فروغ دے گی وہ فعال معاشرہ پیدا نہیں کر سکتی۔ جو ماحول علم کی قدر نہ کرے وہ گہرا شعور پیدا نہیں کر سکتا۔ اور جو طرزِ تخاطب، محنت کی اہمیت کو کم کرے وہ مضبوط معیشت کی بنیاد نہیں رکھ سکتا۔ اس طرح"ما بأنفسهم"میں پورا سماجی ماحول شامل ہو جاتا ہے: رائج زبان، عام اقدار، نمایاں نمونے اور وہ شخصیات جو نئی نسل کے سامنے بطور مثال پیش کی جاتی ہیں۔
اسی لیے اصلاح صرف اوپر سے کیے گئے فیصلوں سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے معاشرے کے عمومی مزاج میں تبدیلی ضروری ہوتی ہے۔ جب ذمہ داری ایک اعلیٰ قدر بن جائے، مہارت اور حسنِ کار معیار بن جائے اور سچائی ایک ثقافت کی صورت اختیار کر لے تو پھرحقیقت بھی آہستہ آہستہ بدلنے لگتی ہے۔اگرچہ یہ تبدیلی شاید ایک رات میں ظاہر نہ ہو، لیکن الٰہی قوانین خاموشی اور استقامت کے ساتھ اپنا اثر دکھاتے رہتے ہیں۔
یہ آیت دعا اور عمل کے تعلق کو بھی نئے انداز میں واضح کرتی ہے۔ انسان اللہ تعالی سے اپنے حالات کی بہتری کی دعا کرتا ہے، اور یہ بالکل جائز بات ہے، لیکن قرآن اس دعا کو انسان کی باطنی تڑپ سے جوڑتا ہے۔ دعا عمل کا متبادل نہیں بلکہ عمل کے لیے روحانی قوت فراہم کرتی ہے۔ اگر کوئی شخص اللہ سے اپنی حالت بدلنے کی دعا کرے لیکن اپنی پرانی سست روی، بے ترتیبی یا بدگمانی کو چھوڑنے کے لیے تیار نہ ہو تو اس کی طلب اور اس کی آمادگی میں تضاد پیدا ہو جاتا ہے۔ پس اس آیت میں حسبِ وعدہ تبدیلی اسی وقت ممکن ہے جب انسان اپنے آپ کو اس کے لیے تیار کرے۔
ایمانی سطح پر اندرونی تبدیلی کا مطلب سب سے پہلے اللہ کے ساتھ اپنے تعلق کو تازہ کرنا ہے۔ کبھی مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ انسان کے دل میں معنی کی حرارت کم ہو جاتی ہے، عبادت صرف عادت بن کر رہ جاتی ہے ۔ اسطرح دل کی حضوری کمزور پڑ جاتی ہے۔ جب اللہ کے ساتھ تعلق تازہ ہوتا ہے تو انسان کے اندرونی عالم میں تبدیلی آتی ہے، چاہے بیرونی حالات ویسے ہی کیوں نہ رہیں۔ وہ زیادہ صابر، زیادہ بصیرت رکھنے والا اور اپنے موقف میں زیادہ ثابت قدم ہو جاتا ہے۔ یہی اندرونی تبدیلی بڑے تغیر کی راہ میں پہلا قدم ہے۔البتہ یہ آیت انسان کو اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں دیتی۔ یہ نہیں کہتی کہ تم دنیا میں ہونے والی ہر چیز کے ذمہ دار ہو، بلکہ یہ تمہیں تمہارے ممکنہ دائرے کی طرف متوجہ کرتی ہے۔
"ما بأنفسهم" یہی وہ دائرہ کار ہے جہاں تم براہِ راست اثر ڈال سکتے ہو۔ تم عالمی فیصلوں کو نہیں بدل سکتے، لیکن اپنی روزمرہ زندگی کے رویے کو بدل سکتے ہو۔ تم سیاسی نقشہ تبدیل نہیں کر سکتے، مگر اپنی ذاتی زندگی کا نقشہ ضرور بدل سکتے ہو۔ اور جب بہت سے افراد اپنی چھوٹی چھوٹی دنیا کو بدلتے ہیں تو رفتہ رفتہ ایک نیا اجتماعی واقعہ بھی جنم لےلیتا ہے۔
اس مرحلے پر اگرایک اور پہلو سے دیکھا جائے تو یہ آیت انسان کو اختیار اور وقار عطا کرتی ہے کہ اگر تبدیلی انسانی ارادے کے بغیر واقع ہوتی تو انسان صرف تقدیر کے سامنے ایک بے بس تماشائی بن کر رہ جاتا۔ لیکن اللہ نے تبدیلی کو انسان کی اپنی حرکت اور کوشش سے جوڑ دیا ہے، اس طرح اسے اپنے مستقبل کی تعمیر میں فعال کردار عطا ہے۔ یہ سوچ انسان کے اندر بے بسی نہیں بلکہ ذمہ داری اور حقیقت پسندانہ امید پیدا کرتی ہے۔
آج کے دور میں، جب انسان طرح طرح کے چیلنجوں اور بحرانوں سے دوچار ہے، اس قرآنی اصول کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ ایسے زمانے میں جب مسائل پیچیدہ ہو چکے ہوں،ایسے میں ہر چیز کو حالات کے کھاتے میں ڈال دینا آسان ہو جاتا ہے۔ مگر یہ آیت ہمیں ایک بنیادی سوال کی طرف لوٹاتی ہے: ہم نے خود کیا بدلا ہے؟ کیا ہمارے شعور کی سطح اسی قدر بلند ہوئی ہے جس قدر زمانے کی پیچیدگیاں بڑھی ہیں؟ کیا ہماری اخلاقیات نے اسی رفتار سے ترقی کی ہے جس رفتار سے ہماری ٹیکنالوجی نے ترقی کی ہے؟ کیا ہم نے اقدار کے ساتھ اپنا تعلق اسی قدر گہرا کیا ہے جتنا ہم نے ظاہری چیزوں میں دلچسپی بڑھائی ہے؟
حقیقت یہی ہے کہ حقیقی تبدیلی کسی شور شرابے سے نہیں بلکہ خاموشی سے آتی ہے۔ یہ کسی درست کی گئی فکر، کسی سنواری گئی عادت، کسی ادب سے مرصع اخلاق اور کسی مخلصانہ فیصلے سے شروع ہوتی ہے۔ ابتدا میں یہ بہت چھوٹی لگ سکتی ہے، لیکن الٰہی قوانین کے مطابق اس میں پھیلنے اور اثر انداز ہونے کی صلاحیت ہوتی ہے۔گویا ہر باطنی اصلاح ایک بڑے تغیر کے بیج کے مانند ہوتی ہے۔
اسی لیے اس آیت کو صرف ایک حوصلہ افزا نعرہ سمجھ لینا اس کے معنی کو محدود کر دینا ہے۔ حقیقت میں یہ ایک واضح قانون کا اعلان ہےکہ جب تک اندر کی حقیقی تبدیلی نہ ہو، باہر کی پائیدار تبدیلی ممکن نہیں۔ اور یہاں "اندر" سے مراد کوئی وقتی جذبہ نہیں بلکہ اقدار، تصورات اور رویوں کا پورا نظام ہے۔
جب انسان اس حقیقت کو سمجھ لیتا ہے تو وہ اس جادوئی لمحے کا انتظار چھوڑ دیتا ہے جب اچانک سب کچھ بدل جائے۔ اس کے بجائے وہ اس دائرے میں کام شروع کرتا ہے جو اس کے اختیار میں ہے۔ وہ اپنے آپ سے پوچھتا ہے کہ میری فکر میں کیا چیز درست ہونے کی محتاج ہے؟ میرے کردارکا کونسا پہلو اصلاح طلب ہے۔ ؟ میرے گھر اور ماحول میں کون سی قدر مضبوط ہونی چاہیے؟ اس طرح یہ آیت ایک مجرد خیال نہیں بلکہ زندگی کا عملی منصوبہ بن جاتی ہے۔
آخر میں یہ آیت ہمیں یہ وعدہ نہیں دیتی کہ ہر مشکل حالت فوراً بدل جائے گی، لیکن یہ ایک گہری امید ضرور دیتی ہے کہ تبدیلی کا راستہ بند نہیں ہے، اور اس کی کنجی ہم سے دور نہیں بلکہ ہمارے اپنے باطن میں ہے۔ جب تک انسان اپنے آپ کا ناقدانہ جائزہ لینے کے لیے تیار ہے، دل اصلاح کے لیے آمادہ ہے اور ارادہ عمل کے لیے بیدار ہے، تب تک تبدیلی کا دروازہ کھلا رہتا ہے۔ اس مقام پر سوال یہ نہیں رہتا کہ حالات کیوں نہیں بدلتے، بلکہ اصل سوال یہ بن جاتا ہے: کیا ہم نے واقعی وہ تبدیلی شروع کر دی ہے جس کی شرط اللہ نے عائد کر رکھی ہے؟