واپس
قرآن،انسان کی خود شناسی کی سوچ کیسے بدلتا ہے؟

قرآن،انسان کی خود شناسی کی سوچ کیسے بدلتا ہے؟

جب آج کا انسان اپنی ذات پر غور کرتا ہے تو وہ عموماً یہ کام مختلف پیمانوں کے ذریعے کرتا ہے جو جدید فلسفوں اور انسانی علوم نے بنائے ہیں۔ کبھی اسے ایک حیاتیاتی مخلوق کے طور پر دیکھا جاتا ہے جسے جینز کنٹرول کرتے ہیں، کبھی ایک نفسیاتی وجود سمجھا جاتا ہے جسے خواہشات اور لاشعور چلاتے ہیں اور کبھی ایک سماجی مخلوق کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جسے ثقافتی اور معاشی ڈھانچے تشکیل دیتے ہیں۔ یہ تمام اندازِ فکر اگرچہ کچھ نہ کچھ سمجھ فراہم کرتے ہیں لیکن انسان کو ٹکڑوں میں بانٹ دیتے ہیں۔ یہ ایک ایسی مکمل اور مربوط تصویر پیش نہیں کرتے جو انسان کو اپنی ذات کا واضح مطلب دے سکے یا اس کائنات میں اس کی حقیقی جگہ متعین کر سکے۔

الشيخ معتصم السيد أحمد

جب آج کا انسان اپنی ذات پر غور کرتا ہے تو وہ عموماً یہ کام مختلف پیمانوں کے ذریعے کرتا ہے جو جدید فلسفوں اور انسانی علوم نے بنائے ہیں۔ کبھی اسے ایک حیاتیاتی مخلوق کے طور پر دیکھا جاتا ہے جسے جینز کنٹرول کرتے ہیں، کبھی ایک نفسیاتی وجود سمجھا جاتا ہے جسے خواہشات اور لاشعور چلاتے ہیں اور کبھی ایک سماجی مخلوق کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جسے ثقافتی اور معاشی ڈھانچے تشکیل دیتے ہیں۔ یہ تمام اندازِ فکر اگرچہ کچھ نہ کچھ سمجھ فراہم کرتے ہیں لیکن انسان کو ٹکڑوں میں بانٹ دیتے ہیں۔ یہ ایک ایسی مکمل اور مربوط تصویر پیش نہیں کرتے جو انسان کو اپنی ذات کا واضح مطلب دے سکے یا اس کائنات میں اس کی حقیقی جگہ متعین کر سکے۔

یہاں قرآن سامنے آتا ہے، اس لیے نہیں کہ وہ انسان کی  تعریفات میں نئی تعریف کا اضافہ کرےبلکہ اس لیے کہ وہ انسان کی تصویر کو بنیاد سے دوبارہ تعمیر کرے۔ وہ انسان کو اپنے بارے میں ایک مختلف تصور دیتا ہےصرف ایک ایسی مخلوق کے طور پر نہیں جس کی وضاحت کی جائے بلکہ ایک ذمہ دار، مکلف اور با مقصد وجود کے طور پر دیکھتا ہے۔ یہ تبدیلی صرف علم کی حد تک نہیں رہتی بلکہ شعور میں ایک مضبوط  انقلاب پیدا کرتی ہےجو انسان کے اپنے آپ کو دیکھنے کے انداز کو بدل دیتی ہے اور پھر اس کی پوری زندگی کے طریقے کو بھی تبدیل کر دیتی ہے۔

قرآنی تصور میں انسان کے بارے میں سب سے پہلی نمایاں بات یہ ہے کہ وہ اسے محض اسباب کی ایک اندھی زنجیر کا نتیجہ ہونے سے نکال کر ایک ایسے مخلوق کے طور پر پیش کرتا ہے جسے خاص توجہ اور مقصد کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے ارشاد باری تعالی ہوتا ہے:

﴿ أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَثًا وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لَا تُرْجَعُونَ﴾ سورہ مومنون آیت:۱۱۵

۱۱۵۔ کیا تم نے یہ خیال کیا تھا کہ ہم نے تمہیں عبث خلق کیا ہے اور تم ہماری طرف پلٹائے نہیں جاؤ گے؟

یہ آیت صرف تخلیق کے سوال کا جواب نہیں دیتی بلکہ اس تصور کی بنیاد کو ہلا دیتی ہے جو انسان کو بے مقصد مخلوق سمجھتا ہے۔ جب انسان کو یہ احساس ہوتا ہے کہ اس کا وجود بے کار نہیں تو اس کی اپنے بارے میں سوچ جڑ سے بدل جاتی ہے۔وہ اب محض فطرت کی زنجیر کا ایک نمبر نہیں رہتا بلکہ ایک با مقصد وجود بن جاتا ہے، جس کی زندگی ایک واضح  راستہ رکھتی ہے جسے سمجھنا اور اس کے مطابق جینا ضروری ہے۔

پھر قرآن ایک قدم اور آگے بڑھتا ہے اور انسان کو صرف اس کے اجزاء کے ذریعے نہیں بلکہ اس کائنات میں اس کے مقام کے حوالے سے اس کی پہچان کرواتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿ وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً ۖ قَالُوا أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ ۖ قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ ﴾ سورہ بقرہ:۳۰

اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا: میں زمین میں ایک خلیفہ (نائب) بنانے والا ہوں، فرشتوں نے کہا: کیا تو زمین میں ایسے کو خلیفہ بنائے گا جو اس میں فساد پھیلائے گا اور خون ریزی کرے گا؟ جب کہ ہم تیری ثناء کی تسبیح اور تیری پاکیزگی کا ورد کرتے رہتے ہیں، (اللہ نے) فرمایا: (اسرار خلقت بشر کے بارے میں) میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔

یہاں انسان کو محض ایک جاندار کے طور پر پیش نہیں کیا جاتا بلکہ ایک ایسے وجود کے طور پر دکھایا جاتا ہے جس کا ایک کردار، مقام اور ذمہ داری ہے۔ یہ تصور انسان کی نظر کا زاویہ ہی بدل دیتا ہے۔ اب وہ صرف یہ نہیں پوچھتا کہ میں کن چیزوں سے بنا ہوں؟ بلکہ یہ سوال اٹھاتا ہے کہ مجھ سے کیا مطلوب ہے؟ اور اس وجود کے ساتھ مجھے کیا کرنا چاہیے جو مجھے عطا کیا گیا ہے؟

اس کے برعکس، بہت سی جدید فلسفیانہ آراء جب انسان کی تشریح کرتی ہیں تو اسے اس مقصدیت کے پہلو سے عاری کر دیتی ہیں۔ مثلاً بعض وجودی نظریات میں انسان کو اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ وہ ایک ایسی دنیا میں خود ہی اپنے لیے مقصد پیدا کرے جس میں پہلے سے کوئی مقصد ہی موجود نہیں ہوتا جبکہ کچھ مادّی نظریات میں انسان کو محض کیمیائی یا حیاتیاتی تعاملات تک محدود کر دیا جاتا ہے۔ ان دونوں کے درمیان انسان یہ احساس کھو بیٹھتا ہے کہ اس کے وجود کا کوئی اعلی مقصد بھی ہے۔ قرآن انسان کے اختیار کے کردار کو ختم نہیں کرتابلکہ اس اختیار کو ایک بامقصد دائرے میں رکھتا ہے، نہ کہ کسی بے معنی خلا میں چھوڑ دیتا ہے۔

قرآن انسان کی خود فہمی کو دوبارہ تشکیل دینے میں جو سب سے اہم بات پیش کرتا ہے وہ یہ ہے کہ وہ انسان کو اس کے اندرونی پہلوؤں کے حوالے سے متوازن انداز میں دکھاتا ہے۔ وہ انسان کو نہ ایک کامل مخلوق کے طور پر پیش کرتا ہے جو ہر قسم کی غلطی سے پاک ہو اور نہ ہی ایک گرے ہوئے وجود کے طور پر جو محض شر کا حامل ہو بتاتا ہے بلکہ اسے ایک مرکب اور متوازن مخلوق کے طور پر پیش کرتا ہے ارشاد باری تعالی ہے:

 ﴿ وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا ﴿۷﴾ فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا ﴿۸﴾  سورہ شمس:۷،۸

اور نفس کی اور اس کی جس نے اسے معتدل کیا، ۸۔ پھر اس نفس کو اس کی بدکاری اور اس سے بچنے کی سمجھ دی،

یہ توازن انسان کو دو مسخ شدہ تصورات سے نجات دلاتا ہے: ایک وہ تصور جو نفس کی حد سے زیادہ تعریف کرتا ہے اور دوسرا وہ جو اسے مکمل طور پر حقیر سمجھتا ہے۔ انسان ایک ایسا وجود ہے جو دونوں طرح کی استعداد ایک  ساتھ رکھتا ہے اور اسی اختیار کے ذریعے اس کا راستہ متعین ہوتا ہے۔

یہاں انسان کا اپنے آپ کے ساتھ تعلق بدل جاتا ہے، وہ اپنے کمزور ہونے کو مطلق ناکامی کی دلیل نہیں سمجھتا اور اپنی طاقت کو غرور کا جواز بھی قرار نہیں دیتا۔ وہ اپنے آپ کو ایک ایسا میدان سمجھتا ہے جہاں جدوجہد ہوتی ہے اور انتخاب کا موقع ملتا ہے۔ یہ فہم اسے شعوری انداز میں اپنی ذات سے نبردآزما ہونے کی طاقت دیتا ہے؛ جب وہ غلطی کرتا ہے تو تباہ نہیں ہوتا اور جب کامیابی حاصل کرتا ہے تو متکبر نہیں بنتا۔

قرآن ایک اور نہایت اہم پہلو بھی شامل کرتا ہے اور وہ یہ ہے کہ انسان کی خود شناسی کو خدا کی معرفت سے جوڑتا ہے۔ قرآنی نظر میں انسان اگر وہ اپنے خالق سے الگ ہو اپنے آپ کو مکمل طور پر نہیں سمجھ سکتا ۔ یہ اس لیے نہیں کہ مذہبی معرفت انسانی معرفت کا متبادل ہے بلکہ اس لیے کہ اس تصور میں انسان ایک خود مختار وجود نہیں بلکہ اپنے وجود کے ماخذ سے جڑا ہوا ہے۔ اسی لیے قرآن میں سوال میں کون ہوں؟ کو سوال میرا رب کون ہے؟سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔

یہ ربط انسان کی خود شناسی کی جستجو کا راستہ بنیادی طور پر بدل دیتا ہے۔ بہت سی جدید فلسفیانہ آراء میں انسان اپنے آپ کو آخری حوالہ سمجھ لیتا ہے اور ایک بند دائرے میں گھومتا رہتا ہےخود کو خود ہی سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ جبکہ قرآن یہ دائرہ کھول دیتا ہے اور انسان کی خود شناسی کو ایک وسیع تر تعلق کا حصہ بنا دیتا ہےایسا تعلق جو اسے اللہ، کائنات اور مقصد سے جوڑتا ہے۔

قرآن کے ذریعے پیدا ہونے والی ایک اور بنیادی تبدیلی یہ ہے کہ وہ انسان کی قدر کو دوبارہ متعین کرتا ہے۔ ایک ایسی دنیا میں جہاں انسان کی قدر عموماً اس کی ملکیت یا کارناموں سے ناپی جاتی ہے، قرآن ایک مختلف معیار پیش کرتا ہے:

﴿ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَىٰ وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا ۚ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ ﴾ سورہ حجرات:۱۳

اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور عورت سے پیدا کیا پھر تمہیں قومیں اور قبیلے بنا دیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو، تم میں سب سے زیادہ معزز اللہ کے نزدیک یقینا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہے، اللہ یقینا خوب جاننے والا، باخبر ہے۔

یہ آیت انسان کی کامیابیوں کو ختم نہیں کرتی بلکہ ترجیحات کو دوبارہ مرتب کرتی ہے۔ انسان کی قدر صرف ظاہری کامیابیوں میں نہیں ہے بلکہ اس کے شعور، تقویٰ اور اپنے آپ اور دوسروں کے ساتھ برتاؤ کے طریقے میں مضمر ہے۔

یہ تبدیلی انسان کی نفسیات پر بھی گہرا اثر ڈالتی ہے؛ یہ اسے مسلسل موازنہ کرنے کی فکری پریشانی سے آزاد کرتی ہے اور اگر وہ عام کامیابی کو پورا  نہ کر سکے تو کمی کا احساس بھی نہیں رہتا۔ اسی طرح، اگر وہ یہ معیار حاصل کر لے تو غرور بھی اس پر حاوی نہیں ہوتا۔ یہ ایک داخلی توازن پیدا کرتا ہے جو انسان کو اپنے آپ کو دیکھنے میں زیادہ معتدل اور متوازن بناتا ہے۔

قرآن صرف انسان کو اس کی اصل، کردار اور قدر کے لحاظ سے دوبارہ متعارف نہیں کراتابلکہ اسے اس کی نفسیاتی حالتوں کا بھی باریک بینی سے ادراک دیتا ہے۔ وہ اسے اس کی کمزوری دکھاتا ہے ارشاد باری ہوتا ہے:

﴿ يُرِيدُ اللَّهُ أَنْ يُخَفِّفَ عَنْكُمْ ۚ وَخُلِقَ الْإِنْسَانُ ضَعِيفًا ﴾ سورہ النساء:۲۸

اور اللہ تمہارا بوجھ ہلکا کرنا چاہتا ہے کیونکہ انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے۔

انسان کی جلد بازی کے بارے میں فرماتا ہے: ﴿وَيَدْعُ الْإِنْسَانُ بِالشَّرِّ دُعَاءَهُ بِالْخَيْرِ ۖ وَكَانَ الْإِنْسَانُ عَجُولًا﴾ سورہ الاسراء:۱۱

اور انسان کو جس طرح خیر مانگنا چاہیے اسی انداز سے شر مانگتا ہے اور انسان بڑا جلد باز ہے۔

انسان کے متغیر مزاج ہونے کے بارے میں فرمایا:

﴿ إِنَّ الْإِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوعًا ﴾ سورہ معارج:۱۹

انسان یقینا کم حوصلہ خلق ہوا ہے۔

یہ شعور انسان کو ملامت کرنے کے لیے نہیں دیا گیا بلکہ اسے اپنے آپ کو سمجھنے کے لیے دیا گیا ہے تاکہ وہ کامل ہونے کے فریب میں نہ رہے اور اپنے زوال یا ناکامی سے اچانک حیران نہ ہو۔

قرآن انسان کے لیے امید اور ترقی کے دروازے بھی کھولتا ہے: ﴿ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ ﴾ سورہ عصر:۳

 سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک اعمال بجا لائے اور جو ایک دوسرے کو حق کی تلقین کرتے ہیں اور صبر کی تلقین کرتے ہیں۔

چنانچہ اگر وہ اپنی ذات کو سمجھے اور صحیح راستہ اختیار کرے توانسان اپنی کمزوری کے باوجود بلند ہو سکتا ہے اور ان کمزوریوں  پر قابو پاسکتا ہے۔ یہاں ایک نئی سوچ جنم لیتی ہے: انسان اپنے جبلتوں کا قیدی نہیں بلکہ انہیں سدھارنے اور درست سمت میں ڈالنے کے قابل ہے۔

قرآن اور جدید تصورات کے درمیان ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ قرآن علم اور عمل کو الگ نہیں کرتا۔ انسان کی خود شناسی محض نظریاتی مقصد نہیں بلکہ تبدیلی کا دروازہ ہے۔ اسی لیے وہ آیات جو انسان کو اس کے بارے میں بتاتی ہیں اکثر عمل کی دعوت، کسی برے رویے سے خبردار کرنے، یا صحیح راستے کی رہنمائی کے ساتھ جڑی ہوتی ہیں۔ گویا قرآن یہ کہتا ہے: اپنے آپ کو کا مطلب  اپنی طرز زندگی کو تبدیل کرنا ہے۔

بہت سی جدید فلسفیانہ آراء میں خود شناسی محض مجرد غور و فکر یا نفسیاتی تجزیہ تک محدود رہ جاتی ہے جو ضروری نہیں کہ زندگی میں حقیقی تبدیلی لائے۔ اسی لیے آج کے انسان کے پاس نظریاتی طور پر اپنی ذات کی وسیع سمجھ ہوتی ہے مگر وہ اپنی عادات کو کنٹرول کرنے یا اپنی زندگی میں توازن قائم کرنے میں ناکام رہتا ہے۔

قرآن جب انسان کی اپنے آپ کے بارے میں سوچ بدلتا ہےتو وہ یہ کام محض مجرد تعریفوں کے ذریعے نہیں کرتا بلکہ ایک مکمل اور مربوط تصور پیش کرتا ہے: وہ انسان کو اس کی اصل سے آگاہ کرتا ہے، اس کے مقصد کو واضح کرتا ہے، اس کی فطرت کو ظاہر کرتا ہے اور اسے اپنے راستے کی رہنمائی دیتا ہے۔ یہ تصور انسان کو زیادہ شعور، زیادہ ذمہ داری اور اپنی ذات کو سمجھنے اور اس کے ساتھ اچھا برتاو کرنے کی زیادہ صلاحیت عطا کرتا ہے۔

یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس معاملے میں قرآن کا  انسان کے لیے سب سے بڑا تحفہ یہ ہے کہ وہ اسے اپنی ذات کے بارے میں الجھن کی حالت سے نکال کر اسے واضح فہم کی حالت میں لے آتا ہے۔ انسان اب اپنے آپ سے متعلق سوالات خالی خلا میں نہیں کرتابلکہ وہ خود کو ایک عظیم کہانی کے اندر دیکھتا ہے جس کی شروعات ہوئی ہیں جس کا مقصد ہےاور جس میں اس کا اپنا کردار بھی ہے۔

جب انسان کی اپنے بارے میں سوچ اس طرح بدل جاتی ہے تو پھر ہر چیز بدل جاتی ہے۔ اس کے فیصلے، اس کے تعلقات، اس کی ترجیحات حتیٰ کہ اس کا کامیابی اور ناکامی کو دیکھنے کا انداز بھی بدل جاتا ہے۔ وہ محض زندہ نہیں رہتا بلکہ یہ بھی سمجھتا ہے کہ وہ کیوں زندہ ہے اور اسے کیسے زندہ رہنا چاہیے۔ یہی وہ حقیقی تبدیلی ہے جو قرآن انسان کے شعور میں پیدا کرتا ہے۔


شیئر: