الشيخ مصطفى الهجري
بعض لوگوں کو عبادت کا سوال تعجب خیز محسوس ہوتا ہے اور یہ سوچتے ہیں کہ اللہ تعالی انسانوں سے کیوں چاہتا ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں؟
سوال یہ ہے کہ کیا اس میں کسی غیر متوازن تعلق کا پہلو پایا جاتا ہے؟
اگر انسان سکون اور گہرائی سے وجود کی حقیقت پر غور کرے تو اسے اس سوال کا ایک بالکل ہی مختلف جواب ملتا ہے۔ جب انسان اپنے اردگرد کے کائنات پر نظر ڈالتا ہے تو وہ فوراً اپنی بے وقعتی اور تخلیق کی عظمت کو محسوس کرتا ہے۔ جس زمین پر وہ رہتا ہے وہ اس وسیع کائنات میں ایک نہایت معمولی نقطہ ہے، بلکہ ہماری کہکشاں بھی اس لا محدود کائنات کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہے جس کی وسعت کا انسانی عقل مکمل تصور بھی نہیں کرسکتی۔ اس عظیم منظر کے سامنے یہ بات غیر معقول ہو جاتی ہے کہ انسان خود کو مرکزِ کائنات سمجھے یا اپنی مطلق خود مختاری کا وہم پالے، چہ جائیکہ وہ اپنے خالق کے ساتھ برابری کا کوئی تصور قائم کرے۔
حقیقی تعجب کی بات یہ نہیں کہ ایک عظیم ذات اپنے بندوں سے اپنی عبادت کا مطالبہ کرے، بلکہ اصل حیرت اس بات پر ہے کہ وہ ان کی کمزوری اور کوتاہی کے باوجود ان کے تھوڑے سے عمل کو قبول بھی فرماتا ہے اور اپنے ساتھ تعلق کا دروازہ کھول دیتا ہے۔ عبادت اپنی حقیقت میں کوئی الٰہی ضرورت نہیں بلکہ انسانی ضرورت ہے؛ یہ وہ رشتہ ہے جو انسان کو معنی، سمت اور اس مطلق ہستی سے وابستگی عطا کرتا ہے جس سے اس کا وجود وابستہ ہے۔
قرآنِ کریم نے اس حقیقت کو نہایت وضاحت سے بیان فرمایا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ﴾ (الذاريات: 56)
اور میں نے جنّات اور انسانوں کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔
پس تخلیق کا مقصد عبادت ہے، یہ اس معنی میں نہیں کہ اللہ کو اس کی ضرورت ہے، بلکہ اس معنی میں کہ انسان کو اس چیز کی ضرورت ہے جو اس کے وجود کی تکمیل کا باعث بنتی ہے۔
اسی طرح قرآن واضح کرتا ہے کہ اللہ اپنے بندوں کی عبادت سے بالکل بے نیاز ہے:
﴿إِن تَكْفُرُوا أَنتُمْ وَمَن فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا فَإِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ حَمِيدٌ﴾ (إبراهيم: 8)
اگر تم اور زمین میں بسنے والے سب کے سب کفر اختیار کر لیں تو بھی یقیناً اللہ بے نیاز، سزاوارِ حمد ہے۔
پس وہ نہ اطاعت سے نفع پاتا ہے اور نہ معصیت سے نقصان؛ عبادت کا فائدہ درحقیقت خود انسان ہی کی طرف لوٹتا ہے۔ یہیں سے اللہ اور انسان کے تعلق کی نوعیت واضح ہو جاتی ہے: یہ تعلق برابری (ندّیت) پر نہیں بلکہ تفاضل پر قائم ہے۔ خود انسانی عقل بھی اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ لوگوں کے درمیان علم، قدرت اور عطا کے اعتبار سے درجات کا فرق ہوتا ہے، اور جو شخص کسی فضیلت یا کارنامے کا حامل ہو اسے احترام دیا جاتا ہے۔ جب انسانی تعلقات میں یہ بات فطری اور معقول ہے تو پھر خالقِ مطلق ، جو کامل قدرت اور کمال کا مالک ہے ،اور مخلوقِ محدود و ناتواں کے درمیان فرق کو کیسے قابلِ اعتراض سمجھا جا سکتا ہے؟
قرآنِ کریم نے بھی کائنات کے مقابلے میں اللہ کی عظمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے:
﴿وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ﴾ (الزمر: 67)
اور انہوں نے اللہ کی قدر نہ کی جیسا کہ اس کی قدر کرنے کا حق تھا، حالانکہ قیامت کے دن ساری زمین اس کی مُٹھی میں ہوگی اور آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے۔جو شخص اس عظمت کو نہ پہچانے وہ عبادت کو باعثِ تعجب سمجھ سکتا ہے، لیکن جو اسے پہچان لے، اس کے لیے عبادت ایک بدیہی حقیقت بن جاتی ہے۔
بلکہ عبادت خود انسان کے لیے باعث عزت ہے، کیونکہ وہ اسے محض مادی سطح سے بلند کر کے مطلق حقیقت سے جوڑ دیتی ہے۔ اسی لیے ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ﴾ (البقرة: 21)
اے لوگو! اپنے رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا، تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔”
پس عبادت تقویٰ کا راستہ ہے، اور تقویٰ انسان کے کمال کا راستہ ہے۔
آخرکار جب انسان خود کو اس وسیع کائنات کے مقابل رکھتا ہے تو ایک سادہ حقیقت آشکار ہو جاتی ہے کہ اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں۔ عظیم، عظیم ہے اور بندہ، بندہ ہے؛ اور عبادت دراصل اسی حقیقت کا سچا اعتراف ہے، جو محبت، خشیت اور شکرگزاری کے جذبات کے ساتھ آمیختہ ہوتا ہے۔