الشيخ معتصم السيد أحمد
درد تمام انسانوں کی مشترکہ میراث ہے اسی لیے درد انسانوں کے مذہب، ثقافت اور زندگی کے تصورات سے بالاتر ہے۔ اس دنیا میں کوئی بھی انسان ایسا نہیں گزرا کہ اسے غربت، خوف، مایوسی، اضطراب یا عارضی کمزوری کا احساس نہ ہوا ہو۔ اس کے باوجود، اصل سوال یہ نہیں ہے کہ درد موجود ہے یا نہیں بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ اس کا کیا مطلب ہے؟ اسے کس طرح سمجھا جائےاور اسے وجودی نظریے میں کس مقام پر رکھا جائے؟ کیا درد زندگی کے بےمعنی ہونے کی علامت ہے؟ یا یہ کسی اعلی نظام کا حصہ ہے جس کی افادیت دکھ سے آگے جاتی ہے؟ اور کیا تکلیف ناکامی کی دلیل ہے یا یہ کوئی امتحان ہےیا ایسا موڑ ہے جو انسان کے ایمان کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے؟
یہاں قرآن کریم نہ تو درد کو جھٹلاتا ہے اور نہ ہی ایسی زندگی کا وعدہ کرتا ہے جو تکلیف سے پاک ہو بلکہ یہ اصل فرق کی طرف توجہ دلاتا ہے۔ ایک طرف وہ شخص جو صرف دنیوی حدود میں درد محسوس کرتا ہے اور دوسری طرف وہ ہے جو درد کے ساتھ بھی اپنے اندر ایک ایسی امید رکھتا ہے جو دنیا سے ماورا ہے۔ اسی تناظر میں قرآن انسان کی دونوں کیفیتوں کو سامنے رکھتا ہے، جب فرماتا ہے:
﴿ وَلَا تَهِنُوا فِي ابْتِغَاءِ الْقَوْمِ ۖ إِنْ تَكُونُوا تَأْلَمُونَ فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَمَا تَأْلَمُونَ ۖ وَتَرْجُونَ مِنَ اللَّهِ مَا لَا يَرْجُونَ ۗ وَكَانَ اللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًا﴾ سورہ النساء ۱۰۴
اور تم ان کافروں کے تعاقب میں تساہل سے کام نہ لینا اگر تمہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو انہیں بھی ایسی ہی تکلیف پہنچتی ہے جیسے تمہیں تکلیف پہنچتی ہے اور اللہ سے جیسی امید تم رکھتے ہو ویسی امید وہ نہیں رکھتے اور اللہ جاننے والا، حکمت والا ہے۔
کچھ لوگ درد کو ناکامی کی دلیل سمجھتے ہیں حالانکہ ایسا کچھ نہیں ہے اور نہ ہی یہ وجود کے بےمعنی ہونے کی علامت ہے۔ یہ زندگی کا حصہ ہے، اس کی آزمائش ہے اور ایک ایسا موڑ ہے جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ کون وجود کو الہی تعلیمات کی روشنی میں دیکھتا ہے اور کون صرف اپنی محدود ذات کی نظر سے دیکھتا ہے۔
قرآن انسان سے یہ وعدہ نہیں کرتا کہ اسے ہر حال میں مکمل سکون و راحت ملےبلکہ اسے یہ حقیقت بتاتا ہے کہ درد تمام انسانوں کے لیے مشترک ہے۔
﴿فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَمَا تَأْلَمُونَ﴾
تو انہیں بھی ایسی ہی تکلیف پہنچتی ہے جیسے تمہیں تکلیف پہنچتی ہے
یہ جملہ خود بہت سے جھوٹے تصورات کو غلط ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔ مؤمن ہو یا غیر مؤمن، نیک ہو یا بد، سب درد کا تجربہ کرتے ہیں، سب نقصان، بیماری، اضطراب اور خوف سے گزرتے ہیں۔ زندگی اس معاملے میں کسی کے ساتھ امتیاز نہیں کرتی۔ اصل فرق درد کے وجود یا غیر وجود میں نہیں بلکہ اس کے کے آنے کے بعد ردعمل دینے میں ہے کہ اسے کیا سمجھا گیا۔
جو شخص زندگی کو اللہ سے جدا کر لیتا ہے اور خود کو انہی ماہ وسال میں محدود کر لیتا ہے اس کے لیے درد محض ظلم اور نقصان ہے، ہر خسارہ آخری سمجھا جاتا ہے اور ہر دکھ زندگی کا دشمن معلوم ہوتا ہے۔ لیکن جو شخص زندگی کو ایک تسلسل کے طور پر دیکھتا ہے اور دنیا کو ایک گذر گاہ سمجھتا ہےجہاں ہمیشہ نہیں رہنا اس کے لیے درد ایک مرحلہ بن جاتا ہے نہ کہ انتہا اور ایک امتحان بن جاتا ہے اور فضول نہیں رہتا۔ یہی وہ فرق ہے جس کی نشاندہی آیت میں کی گئی ہے:
﴿وَتَرْجُونَ مِنَ اللَّهِ مَا لَا يَرْجُونَ﴾
اور اللہ سے جیسی امید تم رکھتے ہو ویسی امید وہ نہیں رکھتے
امید کوئی سادہ نفسیاتی تصور یا عارضی جذباتی کیفیت نہیں ہے بلکہ یہ ایک مکمل علمی اور اخلاقی بنیاد ہے۔ اللہ پر امید رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان واقعات کو وقوع ہونے والے لمحے کی حد تک نہیں دیکھتا بلکہ وقوع پذیر ہونے والے واقعے کو اس کے بعد کے اثرات کے تناظر میں دیکھتا ہے۔ مؤمن جب درد محسوس کرتا ہے تو یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ وہ دکھ محسوس نہیں کر رہا، نہ ہی وہ دکھ کے سامنے مصنوعی طاقت دکھاتا ہے بلکہ وہ اپنے درد کو تسلیم کرتا ہے لیکن خود کو صرف اسی میں محدود نہیں کرتا۔ وہ جانتا ہے کہ جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ کہیں زیادہ عظیم ہے، جو آج اس سے لیا جاتا ہے وہ کل دوبارہ عطا کیا جائے گااور اللہ کے عدل کو ایک لمحے یا ایک واقعے سے نہیں جانا جا سکتا۔
اسی لیے آیت واضح طور پر بیان کرتی ہےکہ درد سب کے لیے ایک جیسا ہے لیکن امید مختلف ہے۔ وہ بھی ویسا ہی درد محسوس کرتے ہیں جیسا تم محسوس کرتے ہومگر ان کی امید تمہاری طرح نہیں ہوتی۔ غیر مؤمن جب آزمائش میں پڑتا ہے تو اس کے پاس صرف یہی دنیا ہوتی ہے اور اگر یہ تنگ ہو جائے تو اس کی پوری سوچ محدود ہو جاتی ہے۔ مؤمن کے لیے دنیا صرف سفر کے مراحل میں سے ایک مرحلہ ہے اگر یہ تنگ ہو جائے بھی تو اصل ختم نہیں ہوتی اور امید باقی رہتی ہے کیونکہ اس نے اپنی پوری تقدیر دنیا سے وابستہ نہیں کی۔
یہاں سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ قرآن دنیا کو آخری مقصد کے طور پر کیوں نہیں دیکھتا۔ قرآنی منطق میں دنیا ایک وسیلہ ہےمقصد نہیں اور یہ اعمال کی جگہ ہےبدلے کا گھر نہیں ہے۔ جیسے کہا جاتا ہےیہ ایک کھیت ہےفصل ذخیرہ کرنے کا گودام نہیں ہے۔ جو اس حقیقت کو غلط سمجھتا ہےوہ پہلی آزمائش پر گر پڑتا ہے اور پہلے خسارے پر دھوکہ محسوس کرتا ہے کیونکہ اس نے اپنی زندگی کے حساب غلط بنیاد پر قائم کیے تھے۔
اللہ تعالی نے انسان کو بے مقصد پیدا نہیں کیا اور نہ ہی اسے اس دنیا میں بغیر پروگرام کے لایا۔ اس نے انسان کے لیے وجود کی بنیاد پہلے سے تیار کی، زمین کو اس کے لیے ہموار کیا، زندگی کے وسائل پیدا کیے اور پھر اسے پیدا کیا تاکہ وہ اپنے لیے درکار سب کچھ موجود پائے اور زندگی جاری رکھ سکے۔ یہی ترتیب خود انسان کو یہ پیغام دیتی ہے کہ اس کی موجودگی اتفاق نہیں اور اس کی زندگی کائنات کے نظام میں کوئی غلطی نہیں۔ اس کے باوجود، اللہ نے اس دنیا کو اختتام نہیں بنایابلکہ اسے ایک تمہید، امتحان اور اس کے بعد آنے والے مراحل کی تیاری کے طور پر رکھا۔
جو اس نکتے کو غلط سمجھتا ہےوہ درد کو وجود کے حصہ کی بجائے شرمندگی کے طور پر دیکھتا ہے۔ وہ سوچتا ہے زندگی میں مکمل طور پر سکون کیوں نہیں؟ تکلیف ختم کیوں نہیں کی جاتی؟ لیکن وہ بھول جاتا ہے کہ بغیر آزمائش کے زندگی اپنا مطلب کھو دیتی ہےاور انسان بغیر امتحان کے پختہ نہیں ہوتا، نہ اپنی اصل پہچان سکتا ہے اور نہ وہ اقدار اس میں ظاہر ہوتی ہیں جن کا وہ دعویٰ کرتا ہے۔
چونکہ راستہ بھی آسان نہیں ہے اور خطرات سے خالی بھی نہیں اس لیے اللہ نے رہنما بھیجے۔ انبیاء کا مقصد لوگوں کو آسان زندگی دینا نہیں تھا بلکہ انہیں بامعنی زندگی دینا تھا۔ انہوں نے اپنے پیروکاروں کو درد کے ختم ہونے کا وعدہ نہیں دیا بلکہ انہیں دکھ سے آگے دیکھنے اور نفع و نقصان کے لیے ایک مختلف معیار فراہم کیا۔ اسی لیے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ انبیاء کی اپنی زندگی بھی آزمائشوں سے بھری ہوئی تھی اور وہ درد سے الگ نہیں تھےبلکہ اسے جھیلتے تھے۔
رسول ﷺ کی بعثت محض ایک تاریخی واقعہ نہیں تھی بلکہ یہ ایک عظیم نعمت تھی۔ اس کے ذریعے اللہ نے انسان کو معنوی گمراہی اور بغیر ہدایت کی زندگی سے نکالا۔ قرآن ہمیں صرف یہ نہیں سکھاتا کہ ہم کیسے کھائیں اور پئیں بلکہ یہ ہمارے وجود، درد، امید اور تقدیر کے ساتھ تعلق کو دوبارہ ترتیب دینے کے لیے آیا۔قرآن میں فرمایا:﴿يُزَكِّيهِمْ﴾ اور ﴿يُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ﴾، یعنی پہلے نفس کا تزکیہ کیاجاتا ہے اور پھر کتاب سکھائی جاتی ہے۔ کیونکہ نفس کا تزکیہ ہی انسان کو زندگی کا معنی سمجھنے اور راستے کی مشکلات کو جھیلنے کے قابل بناتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ محض نصوص پہنچانے والے نہیں تھے بلکہ صبر اور استقامت کے فلسفہ کے عملی مظہر تھے۔ انہوں نے درد جھیلا، مشکلات کا سامنا کیا اور تکلیفیں سہیں مگر شکایت نہیں کی بلکہ اسے ایک پیغام میں تبدیل کیا۔ ان کے بعد اہلِ بیت نے بھی اسی راستے پر چلتے ہوئے دکھوں کو نہ صرف جھیلا بلکہ یہ دکھ اس بات کے شاہد بنے کہ جب درد کو اللہ سے جوڑا جائے تو یہ طاقت بن جاتا ہے، شکست نہیں رہتا۔
اسی لیے، جب مؤمن درد محسوس کرتا ہے، وہ یہ نہیں سوچتا کہ وہ تنہا چھوڑ دیا گیا ہے اور نہ ہی اپنے آپ کو اس راستے میں اکیلا سمجھتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ درد صرف اس کے لیے خاص نہیں اور دوسروں کو بھی درد ہوتا ہےلیکن فرق یہ ہے کہ اس کا درد آسمان سے منسلک ہےجبکہ دوسروں کا درد اس سے کٹا ہوا ہے۔ ایک شخص درد میں آگے بڑھ رہا ہے اور دوسرا درد میں گھومتے ہوئے ایک دائرے میں ہے۔ ایک شخص اپنے درد کو مقصد کی طرف ایک قدم سمجھتا ہے اور دوسرا صرف اسے ایک نیا نقصان سمجھتا ہے۔
اسی تناظر میں یہ آیت ایک ہی وقت میں تسلی اور شعور کا پیغام بن جاتی ہے۔ تسلی اس لیے کہ یہ مؤمن سے کہتی ہےتم درد میں اکیلے نہیں ہو۔ شعور اس لیے کہ یہ اسے یاد دلاتی ہے کہ اس کی اصل خصوصیت درد کے نہ ہونے میں نہیں بلکہ امید رکھنے میں ہے۔ وہ امید جسے بیماری ختم نہیں کر سکتی، نقصان اسے مٹا نہیں سکتا اور جو راہ کی سختیوں سے مدھم نہیں پڑتی۔
اس طرح، سوال یہ نہیں رہ جاتا کہ ہم کیوں درد محسوس کرتے ہیں بلکہ یہ اہم ہو جاتا ہے کہ ہم کس طرح درد جھیلتے ہیں اور درد میں کس طرف قدم بڑھاتے ہیں۔ کیا ہم اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں یا اس سے دور ہو جاتے ہیں؟ یہاں درد کی اصل قدر واضح ہوتی ہے اور انسان کا مقام طے ہوتا ہے۔ درد بغیر امید کے عذاب ہےاور درد امید کے ساتھ عبادت ہےاور ان دونوں کے درمیان فاصلہ دکھ کی شدت سے نہیں ناپا جاتا ہے بلکہ معنی کی گہرائی سے جانا جاتا ہے۔