شيخ معتصم السيد أحمد
اکثر لوگ، حتیٰ کہ وہ بھی جو فکری طور پر اللہ تعالی کی عدالت پر پختہ ایمان رکھتے ہیں، جب اپنی زندگی کا موازنہ دوسروں سے کرتے ہیں تو دل کے اندر ایک خاموش بے چینی محسوس کرتے ہیں۔ یہ بے چینی اس لیے نہیں ہوتی کہ وہ خدا کے عدل کے منکر ہیں، بلکہ اس لیے کہ ان کے پاس ابھی تک ایسا واضح فکری اور نفسیاتی زاویۂ نظر نہیں ہوتا جو انسانی زندگی میں پائے جانے والے نمایاں فرق کو عدلِ الٰہی کے ساتھ ہم آہنگ کر کے سمجھا سکے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایمان ذہن میں قائم رہتا ہے، مگر دل میں سوال باقی رہتا ہے، یہ زندگی مجھے کیوں ملی اور کسی اور کو مختلف زندگی کیوں ملی؟ اور جب حالات اور مواقع میں اتنا فرق ہو تو عدلِ الٰہی کو کس طرح سمجھا جائے؟
یہ خدشات عموماً کسی واضح فکری شبہے سے پیدا نہیں ہوتے بلکہ انسان کے روزمرہ تجربے سے جنم لیتی ہیں۔ جب وہ اپنی زندگی کا موازنہ دوسروں سے کرتا ہے تو اس کے دل میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ زندگی سب کو برابر نہیں ملی۔ کچھ لوگ ابتدا ہی سے بہتر مواقع اور سہولتوں کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں، جبکہ کچھ کو شروع ہی سے مشکلات، رکاوٹوں اور محرومیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور وہ زیادہ جدوجہد پر مجبور ہوتے ہیں۔ اسی لیے عدلِ الٰہی کے بارے میں گفتگو محض کسی جدلی جواب یا مختصر عقلی وضاحت سے پوری نہیں ہوتی، بلکہ اس کے لیے ایک گہری ثقافتی اور نفسیاتی فہم درکار ہوتی ہے۔
عدلِ الٰہی کو سمجھنے میں پیدا ہونے والی بے چینی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم اکثر عدل اور مساوات کو ایک ہی سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ دونوں ایک جیسے نہیں۔ آج کی ثقافت، جو جدید قانونی اور حقوقی نظریات سے متاثر ہے، عموماً عدل کو ظاہری برابری کے معنی میں لیتی ہے؛ یعنی سب کو برابر مواقع، برابر حالات اور برابر سہولتیں ملیں۔ معاشرے کی تنظیم کے لیے یہ اصول اپنی جگہ اہم ہے، کیونکہ اجتماعی نظام کسی نہ کسی حد تک مساوات کا تقاضا کرتا ہے۔لیکن جب مساوات کے اسی تصور کو پوری زندگی پر عدل کا آخری اور حتمی معیار بنا دیا جائے تو دل میں کشمکش پیدا ہوتی ہے، کیونکہ خود زندگی مکمل برابری پر قائم نہیں۔ لوگوں کی صلاحیتیں، حالات، مواقع اور آزمائشیں فطری طور پر مختلف ہیں۔ اگر ہم عدل کو لازماً کامل مساوات کے برابر سمجھ لیں تو حقیقتِ زندگی اور ہمارے تصورِ عدل کے درمیان ٹکراؤ محسوس ہونے لگتا ہے۔ اس طرح مسئلہ عدل کے انکار کا نہیں، بلکہ اس کی محدود سمجھ کا ہوتا ہے۔ جب عدل کو صرف ایک ہی طرح کی برابری تک محدود کر دیا جائے تو زندگی کا تنوع ایک سوال بن جاتا ہے، اور دل میں یہ الجھن پیدا ہوتی ہے کہ فرق کے باوجود عدل کو کیسے سمجھا جائے۔
زندگی کسی جامد اور بند ہندسی نظام کا نام نہیں جس میں ہر شے ایک ہی پیمانے پر ناپی گئی ہو، بلکہ یہ اختلافات اور تنوعات سے بُنا ہوا ایک پیچیدہ اور باہم مربوط تانا بانا ہے؛ انسان مختلف خاندانوں میں جنم لیتے ہیں، جداگانہ ثقافتوں میں پرورش پاتے ہیں، مختلف ادوار میں زندگی گزارتے ہیں، اور ایسے اجسام و صلاحیتوں کے ساتھ دنیا میں آتے ہیں جن میں قوت و ضعف کے درجات یکساں نہیں ہوتے، اور یہ تفاوت کسی کائنانی نظم کی خرابی نہیں بلکہ اسی کی بنیادی ساخت کا حصہ ہے۔ لہٰذا مسئلہ اختلاف کے وجود میں نہیں بلکہ اس کی تعبیر میں ہے: آیا اس تنوع کو ظلم اور ناانصافی کی علامت سمجھا جائے یا اسے معنویت، آزمائش اور ارتقا کی ایک لازمی شرط کے طور پر دیکھا جائے؟
نفسیاتی طور پر انسان میں دوسروں سے موازنہ کرنے کا رجحان بہت مضبوط ہوتا ہے۔ وہ اپنی قدر اس بنیاد پر نہیں دیکھتا کہ وہ پہلے کہاں تھا اور اب کہاں پہنچا ہے، بلکہ اس بات سے ناپتا ہے کہ دوسرے لوگ کہاں کھڑے ہیں۔ اگر اس فطری رجحان کی درست رہنمائی نہ ہو تو یہی تقابل، جو بہتری اور خود آگہی کا ذریعہ بن سکتا تھا، بے چینی اور عدمِ اطمینان کا سبب بن جاتا ہے۔ پھر انسان اپنی صلاحیتوں پر غور کرنے کے بجائے دوسروں کی نعمتوں اور مواقع پر نظر رکھنے لگتا ہے۔ وہ یہ سوچنے کے بجائے کہ مجھے جو ملا ہے، میں اس سے کیا کر سکتا ہوں؟یہ سوچنے لگتا ہے کہ مجھے وہ کیوں نہیں ملا جو دوسروں کو ملا؟ ‘ اسی مقام پر فرق اور تنوع اپنی مثبت اہمیت کھو دیتے ہیں اور ذمہ داری کے میدان کی جگہ محرومی کا احساس لے لیتا ہے، جس سے دل میں مسلسل بے سکونی پیدا ہوتی رہتی ہے۔
قرآنِ مجید عدل کو اس انداز میں نہیں پیش کرتا کہ انسان خود کو دوسروں کے مقابل کھڑا کر کے اپنا حصہ طلب کرے، بلکہ وہ توجہ کو تقابل سے ہٹا کر ذمہ داری کی طرف لے جاتا ہے۔ وہ یہ نہیں سکھاتا کہ اپنی قدر دوسروں کی زندگی دیکھ کر طے کرو، بلکہ یہ کہ اپنے مقام، اپنی صلاحیت اور اپنے سپرد کردہ امانت کو پہچانو۔ اس نظر میں اصل معیار یہ نہیں کہ انسان کے پاس کتنا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ جو کچھ رکھتا ہے اس کے ساتھ کیسا رویہ اختیار کرتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ اسے کیا ملا، بلکہ یہ ہے کہ اس نے ملنے والی نعمتوں اور آزمائشوں کو کیسے برتا۔ اس طرح عدل کوئی ظاہری برابری کا حساب نہیں، بلکہ ایک باطنی تعلق ہے جو انسان اور اس کی ذمہ داری کے درمیان قائم ہوتا ہے۔ اسے مقدار سے نہیں بلکہ نیت، شعور اور عمل کی سچائی سے پرکھا جاتا ہے، اور اسی لیے عدل کو محض ثابت نہیں کیا جاتا بلکہ اسے جیا جاتا ہے۔
ثقافتی نقطۂ نظر سے عدلِ الٰہی کامیابی اور ناکامی کے عام پیمانے بدل دیتا ہے۔ اس سمجھ کے مطابق کامیابی یہ نہیں کہ انسان کے حالات آسان ہوں، وسائل زیادہ ہوں یا راستہ ہموار ہو؛ اور ناکامی بھی یہ نہیں کہ اسے زیادہ مشکلات کا سامنا ہو۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان اپنی ذمہ داری کو دیانت اور سچائی کے ساتھ نبھائے، اور ناکامی یہ ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری سے غفلت برتے یا اسے دوسروں کی زندگی سے موازنہ کر کے کم اہم سمجھے۔ اس سوچ کی تبدیلی سے انسان کے دل پر سے ایک بڑا بوجھ اتر جاتا ہے، وہ بوجھ جو خود کو ان راستوں اور مواقع سے تولنے سے پیدا ہوتا ہے جو اس کے حصے میں تھے ہی نہیں۔ یوں عدل کا قرآنی تصور انسان کو تقابل کی نفسیاتی گرفت سے نکال کر اس کی اپنی آزمائش اور اپنی معنویت کی طرف متوجہ کرتا ہے، جہاں قدر کا معیار حالات کی آسانی نہیں بلکہ ذمہ داری کی سچائی ہوتی ہے۔
عدل کے سوال سے جڑی نفسیاتی بے چینی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ انسان لاشعوری طور پر زندگی کی ایک مثالی تصویر بنا لیتا ہے اور طے کر لیتا ہے کہ زندگی “ایسی ہونی چاہیے تھی”۔ یہی “ہونی چاہیے” کا تصور اندر ایک مسلسل کشمکش پیدا کرتا ہے، کیونکہ ذہن کا بنایا ہوا معیار حقیقت سے میل نہیں کھاتا۔ پھر انسان ایک ٹکراؤ کی حالت میں جیتا ہے: جو موجود ہے وہ اسے قبول نہیں، اور جو وہ چاہتا تھا وہ موجود نہیں۔ اسی فرق سے احساسِ ناانصافی اور محرومی جنم لیتا ہے۔لیکن جب انسان اس سوچ پر دوبارہ غور کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ زندگی کوئی ایک جیسا مقابلہ نہیں جہاں سب کو ایک ہی پیمانے سے ناپا جائے، بلکہ مختلف راستوں اور الگ الگ آزمائشوں کا مجموعہ ہے، اور ہر راستے کی اپنی حکمت اور اپنے تقاضے ہیں، تو اس کی اندرونی کیفیت بدلنے لگتی ہے۔
اسی تناظر میں واضح ہوتا ہے کہ عدلِ الٰہی کو ظاہری برابری سے نہیں بلکہ اخلاقی توازن سے پرکھا جاتا ہے۔ یہ نہیں پوچھا جاتا کہ تم نے دوسروں جیسی زندگی گزاری یا نہیں، بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ جو زندگی تمہیں ملی، کیا تم اس کے ساتھ امانت اور دیانت سے پیش آئے؟ کیا تم نے اپنے حصے کے مواقع کو ذمہ دارانہ عمل میں بدلا؟ اس سمجھ کے ساتھ توجہ بیرونی موازنہ سے ہٹ کر داخلی صداقت پر آ جاتی ہے۔ یوں "کیوں میں؟" کی جگہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس حال میں مجھے کیا بننا ہے؟
ثقافتی سطح پر یہ فہم ہماری دوسروں کے ساتھ دیکھنے کی نظر ہی بدل دیتا ہے۔ جب عدل کو محض ظاہری برابری کے بجائے ذمہ داری اور امتحان کے زاویے سے سمجھا جائے تو ہم لوگوں کو اس بنیاد پر نہیں پرکھتے کہ کون زیادہ خوش حال ہے اور کون کم، بلکہ اس بات پر غور کرتے ہیں کہ ہر ایک کس طرح کی آزمائش سے گزر رہا ہے اور اس پر کس درجے کی ذمہ داری عائد ہے۔ اس نگاہ میں نہ دولت خود بخود فضیلت بن جاتی ہے اور نہ فقر خود بخود روحانی برتری کی علامت؛ کیونکہ ہر حالت اپنے ساتھ الگ تقاضے، خطرات اور مواقع لے کر آتی ہے۔ یہ شعور دلوں میں حسد کو کم کرتا ہے، احساسِ محرومی کی شدت گھٹاتا ہے، اور دوسروں کی کامیابی کو اپنی ناکامی کے مقابل کھڑا کرنے کی عادت کو کمزور کرتا ہے۔
نفسیاتی اعتبار سے جب عدلِ الٰہی کو اس گہرے اور ہمہ گیر مفہوم کے ساتھ سمجھا جاتا ہے تو وہ انسان کو ایک منفرد اور پائیدار طمأنینہ عطا کرتا ہے۔ یہ طمأنینہ نہ تو درد کے انکار پر قائم ہوتا ہے اور نہ ظلم کی توجیہ پر، بلکہ یہ معنی کے ادراک سے جنم لیتی ہے۔ انسان یہ شعور حاصل کرتا ہے کہ اس کی زندگی، چاہے اس میں کمی ہو یا فراوانی، آسانی ہو یا دشواری، کسی بے ترتیبی یا اتفاقِ محض کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک بامقصد سلسلۂ حیات کا حصہ ہے جس کی اپنی حکمت اور معنویت ہے۔
انسان کو درحقیقت کسی کامل اور بے نقص زندگی کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ اسے اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ اپنی موجودہ زندگی کو منصفانہ اور بامعنی انداز میں سمجھ سکے۔ جب یہ معنوی تعبیر غائب ہو جائے تو ایمان بھی اندرونی کشمکش پیدا کر سکتا ہے، کیونکہ انسان اپنے عقیدۂ عدل اور اپنے مشاہدۂ فرق کے درمیان ٹکراؤ محسوس کرتا ہے۔ لیکن جب عدلِ الٰہی کو ظاہری برابری کے بجائے معنی کی عدالت کے طور پر سمجھا جائے، یعنی ایسی عدالت جو ہر شخص کو اس کے حالات اور ذمہ داری کے مطابق پرکھتی ہے، تو ایمان دوبارہ سکون کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ تب وہ تضاد نہیں بلکہ توازن پیدا کرتا ہے، اور دل کو اطمینان عطا کرتا ہے۔
بالآخر عدلِ الٰہی انسان سے یہ نہیں چاہتا کہ وہ ہر پیش آنے والی بات سے دل کی سطح پر راضی ہی رہے یا ہر درد کو خوشی سے قبول کرے، بلکہ یہ کہ وہ اپنے حالات میں اپنا درست مقام پہچانے۔ اس سے یہ تقاضا نہیں کہ وہ تکلیف کو پسند کرے، بلکہ یہ کہ اسے خدا کی بے اعتنائی یا تحقیر نہ سمجھے۔ اسی طرح سوال اٹھانا منع نہیں، مگر انہیں صحیح سمت دینا ضروری ہے۔ تب اصل سوال یہ نہیں رہتا کہ ’’مجھے دوسروں جیسی زندگی کیوں نہ ملی؟‘‘ بلکہ یہ ہو جاتا ہے کہ ’’جو زندگی مجھے ملی ہے، میں اسے عدل، شعور اور ذمہ داری کے ساتھ کیسے گزاروں؟‘‘
پس عدلِ الٰہی محض ایک ذہنی تصور نہیں رہتا بلکہ ایک زندہ ثقافتی اور نفسیاتی قوت بن جاتا ہے۔ وہ انسان کے اندر یہ یقین پیدا کرتا ہے کہ حالات کا فرق عدل کے خلاف نہیں، بلکہ اس کی وسعت اور حکمت کی علامت ہے۔ تب سکون اس بات سے نہیں ملتا کہ سب کی تقدیریں ایک جیسی ہوں، بلکہ اس سے کہ انسان اپنے حصے کی زندگی میں سچائی، امانت اور معنویت کے ساتھ ثابت قدم رہے۔